Taraweeh ki rakat

تراویح کی رکعات کتنی ہیں؟ 20 رکعتیں ہیں یا آٹھ احادیث و اقوال

جمہور کا مذہب یہ ہے کہ تَراویح کی 20 رَکعتیں ہیں ۔ (ردالمحتار ، کتاب الصلا ة ، باب الوتر والنوافل ، مبحث صلا ة التراویح ، ۲ / ۵۹۹ دار المعرفة بيروت) اور یہی اَحادیث سے ثابت ہے جیسا کہ حضرت سیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تَعالٰی عنہما سے رِوایت ہے :

اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّيْ فِيْ رَمَضَانَ عِشْرِيْنَ رَكْعَةً وَّالْوِتْر
یعنی نبیٔ کریم ﷺ رمَضان المبارک میں20 رکعت( تَراویح ) اور وتر پڑھا کرتے تھے ۔
(مصنف ابن ابی شیبة ، کتاب صلاة التطوع والامامة ، ۲ / ۲۸۶ ، حدیث : ۱۳ دار الفکر بیروت )

امیرالمؤمنین حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تَعالٰی عنہ کا اپنے دور خلافت میں20 رکعت تَراویح کو رائج فرمانا ، صحابہ و تابعین ، ائمۂ مجتہدین اور ائمۂ محدثین رضوان اللہ تَعالٰی علیہم اجمعین کا 20 رکعت تَراویح پرہمیشہ عمل کرنا اور 20سے کم پر راضی نہ ہونا اس حدیث کو تقویت کے اعلیٰ مقام پر پہنچا دیتا ہے ۔

حضرت سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تَعالٰی عنہ سے رِوایت ہے :

خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم ذَاتَ لَيْلَةٍ فِيْ رَمَضَانَ فَصَلَّى النَّاسَ اَرْبَعَةً وَّ عِشْرِيْنَ رَكْعَةً وَّاَوْتَرَ بِثَلَاثَةٍ
یعنی نبی اکرم ﷺ رمضان میں ایک رات تشریف لائے اور لوگوں کو24 رکعات ( یعنی چار فرض ، 20 تَراویح ) اور تین وتر پڑھائے ۔
(تاریخ جرجان للسهمی ، ۱ / ۳۱۶ ، حدیث : ۵۵۶ عالم الکتب بیروت )

صحابۂ کرام 20 رَکعت تَراویح پڑھا کرتے

حضرت سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :

كُنَّا نَقُوْمُ فِيْ زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِعِشْرِيْنَ رَكْعَةً وَالْوِتْرِ

ہم فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانے میں 20 رکعت تَراويح اور وتر پڑھا کرتے تھے ۔
(معرفة السنن والآثار للبیهقی ، کتاب الصلاة ، باب قيام رمضان ، ۲ / ۳۰۵ ، حدیث : ۱۳۶۵ دار الکتب العلمية بیروت)

امیرالمؤمنین عثمان غنی اور امیرالمؤمنین علیّ المرتضیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہما کے دور میں بھی 20 رکعت تَراویح پڑھی جاتی تھی ۔ ( فتح باب العنایة بشرح النقایة ، کتاب الصلا ة ، فصل فی صلا ة التراويح ، ۱ / ۳۴۲ دار ارقم بیروت)

امیرالمؤمنین حضرت سیدنا مولائے کائنات ، علیّ المرتَضٰی شیرخداکرّمَ اللہ تعالٰی وجہہ الکریم نے ایک شخص کو حکم فرمایا : رمضان میں لوگوں کو 20 رکعت تَراويح پڑھائے ۔
(السنن الکبری للبیھقی ، کتاب الصلا ة ، باب ما روی فی عدد رکعات القيام فی شھر رمضان ، ۲ / ۶۹۹ ، حدیث : ۴۶۲۱ دار الکتب العلمیة بیروت )

شارح بخاری

شارح بخاری حضرت علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی علیہ رحمۃ اللہ القوی حضرت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بارے میں نقل فرماتے ہیں :

كَانَ يُصَلِّيْ عِشْرِيْنَ رَكْعَةً وَّيُوْ تِرُ بِثَلَاثٍ

آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ 20 رکعت ( تَراویح ) اور تین وتر ادا فرماتے ۔
(عمدة القاری ، کتاب التراویح ، باب فضل من قام رمضان ، ۸ / ۲۴۶ ، تحت الحدیث : ۲۰۱۰ ملتان)

حضرت سیدنا عبدالعزیز بن رفیع رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں :

كَانَ اُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يُّصَلِّيْ بِالنَّاسِ فِيْ رَمَضَانَ بِالْمَدِيْنَةِ عِشْرِيْنَ رَكْعَةً وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ
ابی بن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ رمَضان میں مدینۂ منورہ میں لوگوں کو 20 رکعت ( تَراویح ) اور تین وتر پڑھاتے تھے ۔
(مصنف ابن ابی شیبة ، کتاب صلاة التطوع والامامة ، ۲ / ۲۸۵ ، حدیث : ۵ دار الفکر بیروت )

20 رکعت تراویح پر اجماعِ صحابہ

حضرت سیدنا علامہ علی قاری علیہ رحمۃ اللہ الباری فرماتے ہیں :

اَجْمَعَ الصَّحَابَةُ عَلٰى اَنَّ التَّرَاوِيْحَ عِشْرُوْنَ رَكْعَةً

یعنی صحابۂ کرام علیہم الرضوان کا اس بات پر اجماع( یعنی متفقہ فیصلہ ) ہے کہ تَراویح کی 20 رکعات ہیں ۔
(مرقاة المفاتیح ، کتاب الصلا ة ، باب قیام شھر رمضان ، ۳ / ۳۸۲ ، تحت الحدیث : ۱۳۰۳ دار الفکر بیروت)

بزرگان دین کا 20 رکعت تراویح پر عمل

حضرت سیدنا امام ابوعیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی علیْہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں : اکثر علما کا مذہب 20 رکعت تَراویح ہے ، جو حضرت عمر ، حضرت علی اور دیگر صحابۂ کرام علیہم الرضوان سے مروی ہے ۔ سفیان ثوری ، عبد اللہ بن مبارک اور امام شافعی رحمَۃ اللہ تعالٰی علیہم اسی کے قائل ہیں ۔ امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں :

اَدْرَكْتُ بِبَلَدِنَا بِمَكَّةَ يُصَلُّوْنَ عِشْرِيْنَ رَكْعَةً

یعنی ہم نے اپنے شہر مکۂ مکرمہ والوں کو 20 رکعت تَراویح پڑھتے ہوئے پایا ہے ۔
( ترمذی ، کتاب الصوم ، باب ما جاء فی قیام شھر رمضان ، ۲ / ۲۱۵ ، حدیث : ۸۰۶ )

مشہورتابعی کا قول

حضرت سیدنا ابوخَصيب علیہ رحمۃ اللہ المجیب مشہورتابعی حضرت سیدنا سوید بن غفلَہ رحمَۃ اللہ تَعالٰی علیہ کے بارے میں فرماتے ہیں :

”كَانَ يَؤُمُّنَا سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ فِيْ رَمَضَانَ فَيُصَلِّيْ خَمْسَ تَرْوِيْحَاتٍ عِشْرِيْنَ رَكْعَةً

سوید بن غفلہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ہمیں پانچ ترویحوں میں 20 رکعت ( تَراویح ) پڑھاتے تھے ۔ “

اورتابعی بزرگ حضرتِ سیدنا شتير بن شكل رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ جو حضرت سیدنا علیّ المرتضیٰ کرّمَ اللہ تعالٰی وجہہ الکریم کے شاگردوں میں سے ہیں ، ان کے بارے میں مروی ہے :

”اَنَّهُ كَانَ يَؤُمُّهُمْ فِيْ شَهْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِيْنَ رَكْعَةً وَّ يُوْتِرُ بِثَلَاثٍ

یہ لوگوں کو رمضان میں 20 رکعت ( تَراویح ) اور تین وتر پڑھاتے تھے ۔ “
(سنن کبریٰ للبیھقی ، کتاب الصلا ة ، باب ما روی فی عدد رکعات القيام فی شھر رمضان ، ۲ / ۶۹۹ ، حدیث : ۴۶۱۹)

امام اعظم کا قول

کروڑوں حنفیوں کے عظیم پیشوا حضرت سیدنا امام اعظم علیہ رحمَۃ اللہ الاَکرم فرماتے ہیں :

اَلْقِيَامُ فِيْ شَهْرِ رَمَضَانَ سُنَّةٌ لَّا يَنْبَغِيْ تَرْكُهَا يُصَلِّىْ اَهْلُ كُلِّ مَسْجِدٍ فِيْ مَسٰجِدِهِمْ كُلَّ لَيْلَةٍ سِوَى الْوِتْرِ عِشْرِيْنَ رَكْعَةً

یعنی رمَضان المبارک میں تَراویح پڑھنا سنّت ہے ، اس کا تَرک جائز نہیں ۔ ہر مسجد والے اپنی اپنی مساجد میں رمَضان المبارک کی ہر رات میں وترکے علاوہ 20 رکعت نماز تَراویح ادا کریں ۔
(فتاویٰ قاضی خان ، کتاب الصوم ، ۱ / ۱۱۲ پشاور )

امام غزالی کا قول

حجۃ الاسلَام حضرت سیدنا امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں :

اَلتَّرَاوِيْحُ وَهِيَ عِشْرُوْنَ رَكْعَةً وَّكَيْفِيَتُهَا مَشْهُوْرَةٌ وَّهِيَ سُنَّةٌ مُّؤَكَّدَةٌ

یعنی تَراویح 20 رکعت ہے ، اس کا طریقہ مشہور و معروف ہے اور یہ سنّت مؤکدہ ہے ۔
(احیاء العلوم ، كتاب اسرار الصلاة و مهماتها ، ۱ / ۲۷۱ دار صادر بيروت)

حضرت سیدنا امام عبد الوہاب شعرانی قدِّس سرّہ الربانی نقل فرماتے ہیں کہ امام اعظم ابوحنیفہ ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم کا قول ہے :

اِنَّ صَلَاۃَ التَّرَاوِیْحِ فِیْ شَھْرِ رَمَضَانَ عِشْرُوْنَ رَکْعَۃً

نماز تَراویح رمضان المبارک میں 20 رکعت ہے ۔
(المیزان الکبریٰ للشعرانی ، ص ۲۱۷ دارا لکتب العلمیة بیروت)

لفظ ”تراویح“ اپنی دَلیل آپ 

تَراویح تَرویحہ کی جمع ہے۔ تَرویحہ ہر چار رکعت کے بعد کچھ دیر بیٹھ کر راحت کرنے کو کہتے ہیں۔ اگر تَراویح آٹھ رکعت ہوتی تو بیچ میں ایک تَرویحہ ہوتا ۔ اس صورت میں اس کا نام تَراویح جمع نہ ہوتا کیونکہ جمع کم ازکم تین پر بولی جاتی ہے ۔ (جاء الحق ، حصّہ دوم ، ص٤٤٤ قادری پبلیشرز مرکزالاولیا لاہور) اس سے معلوم ہوا کہ تَراویح کی آٹھ رکعتیں نہیں بلکہ آٹھ سے زائد رکعتیں ہیں اور وہ 20 ہیں جوصحابہ و تابعین ، ائمۂ مجتہدین اور بزرگان دین رضوان اللہ تعالٰی علَیہم اجمعین سے ثابت ہیں ۔

20 رکعت تراویح میں حکمت

صدرالشّریعہ حضرت علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمَۃ اللہ القوی فرماتے ہیں : اس ( یعنی تَراویح ) کے بیس رکعت ہونے میں یہ حکمت ہے کہ فرائض و واجبات کی اس سے تکمیل ہوتی ہے اور کل فرائض و واجب کی ہر روز بیس رکعتیں ہیں ، لہٰذا مناسب کہ یہ بھی بیس ہوں کہ مکمل و مکمل برابر ہوں ۔
(بہار شریعت ، ۱ / ۶۸۹ ، حصّہ : ۴ )

اپنا تبصرہ بھیجیں