زنا کی اُخروی سزا کیاہوگی؟

Zina-ka-Azab

(۱) حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے نماز پڑھانے کے بعد ہماری جانب متوجہ ہو کر فرمایا:”آج رات میں نے دیکھا کہ میرے پاس دو شخص آئے اور مجھے زمین ِمقدس کی طرف لے گئے ۔ ہم ایک تنور کی مثل گڑھے کے پاس پہنچے ،جس کا اوپر کا حصہ تنگ اور نیچے سے کشادہ تھا۔اس میں آگ بھڑک رہی تھی اور اس آگ میں کچھ مرد اور عورتیں برہنہ ہیں ۔جب آگ کا شعلہ بلند ہوتا ہے تو وہ لوگ اوپر آجاتے ہیں اور جب شعلے کم ہوجاتے ہیں تو شعلے کے ساتھ وہ بھی اندر چلے جاتے ہیں ۔میں نے پوچھا :”یہ کیا ہے؟” ان دونوں نے جواب دیا :”یہ لوگ زناء کرنے والے ہیں۔”(ملخصاً،بخاری،کتاب الجنائز،رقم ۱۳۸۶،ج۱،ص۴۶۷)
(۲) علامہ شمس الدین ذہبی علیہ الرحمۃ نقل فرماتے ہیں کہ زبور شریف میں ہے،”بے شک زناء کرنے والوں کو ان کی شرمگاہوں کے ذریعے آگ میں لٹکا دیا جائے گا اور انہیں لوہے کے کوڑوں سے مارا جائے گا۔جب وہ مار کے سبب فریاد کريں گے تو عذاب کے فرشتے کہیں گے :”یہ آوازاس وقت کہاں تھی جب تم ہنستے تھے،خوش ہوتے تھے اوراِتراتے تھے، نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے اورنہ اس سے حیاء کرتے تھے۔”
(کتاب الکبائر،صفحہ ۵۵)
(۳) حضرت مکحول دمشقی تابعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”دوزخیوں کو شدید بدبومحسوس ہوگی تووہ کہیں گے :”ہم نے اس سے گندی بدبو کبھی محسوس نہیں کی ۔” تو

انہیں بتایا جائے گاکہ”یہ زانیوں کی شرمگاہوں کی بدبو ہے۔” (کتاب الکبائر،صفحہ ۵۷)
(۴) منقول ہے کہ ”جہنم میں ایک وادی ہے جس میں سانپ اور بچھو ہیں۔ہر بچھو ،خچر کے برابر موٹا ہے ۔ ان میں سے ہر ایک کے ستر ڈنک ہیں اور ہر ڈنک میں ایک زہر کی تھیلی ہے۔یہ زانی کو ڈنک ماریں گے اور اپنا زہر اس کے بدن میں چھوڑ دیں گے ، زانی اس کے درد کی تکلیف کو ہزار سال تک محسوس کریگا ۔پھر اس کا گوشت زرد پڑ جائے گا اور اس کی شرمگاہ سے پیپ اور زرد پانی بہنے لگے گا۔”
(کتاب الکبائر،صفحہ ۵۹)
(۵) کتاب الکبائرمیں ہے کہ ”جس نے کسی ایسی عورت کو شہوت کے ساتھ چھوا جو اس کے لئے حلال نہ تھی تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ بندھا ہوگا۔ اگر اس نے اس عورت کا بوسہ لیاہوگا تو اس کے ہونٹوں کو آگ کی قینچیوں سے کاٹا جائے گا۔اگر اس کے ساتھ زناء کیا ہوگا تو اس کی ران بروزِ قیامت اس کے خلاف گواہی دے گی اور کہے گی،” میں حرام کام کے لئے سوار ہوئی تھی۔”یہ سن کر اللہ تعالیٰ اس شخص کی جانب نگاہ غضب سے دیکھے گاتو اس کے چہرے کا گوشت جھڑ جائے گا ۔یہ شخص زناء کا انکار کرتے ہوئے کہے گا،” میں نے تو زناء نہیں کیا۔”
مگر اس کی زبان اس کے خلاف گواہی دے گی :” میں نے اس کے ساتھ کلام کیا تھاجو حلال نہ تھی۔”اس کے ہاتھ کہیں گے:” ہم حرام کے لئے بڑھے تھے۔”اس کی آنکھیں کہیں گی:”ہم نے حرام کو دیکھا تھا۔”اس کے پیر کہیں گے:”ہم حرام کی جانب چلے تھے۔”اس کی شرمگاہ کہے گی:”میں نے زناء کیا تھا۔”اعمال لکھنے والے فرشتوں میں سے ایک کہے گا:”میں نے سنا تھا۔”دوسرا کہے گا،”اور میں نے لکھا تھا۔”
اللہ تعالیٰ فرمائے گا،”میں اس کے کام پر مطلع تھا اور میں نے اس کا پردہ رکھا تھا۔”پھر فرمائے گا،”اے میرے فرشتو!اسے پکڑ لواور میرا عذاب اسے چکھاؤ۔بے شک اس پر میرا عذاب شدید ہوتا ہے، جو مجھ سے شرم وحیاء میں کمی کرتاہے۔”(کتاب الکبائر،صفحہ ۵۹)

اپنا تبصرہ بھیجیں