تقدیر کے بارے میں بحث کرنا کیسا ہے؟

تقدیر میں بحث کرنے کی بھی حدیث ِ پاک میں ممانعت کی گئی ہے چنانچہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم لوگ تقدیر کے مسئلہ میں بحث کر رہے تھے کہ رسول خدا صلي اللہ عليہ وسلم تشریف لے آئے. تو شدت غضب سے آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا کہ گویا انار کے دانے آپ کے رخسار مبارکہ پر نچوڑ دیئے گئے ہوں.
آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمایا:”کیا تم کو اسی کا حکم دیا گیا ہے؟ کیا میں تمہاری طرف اسی چیز کے ساتھ بھیجا گیا ہوں؟ تم سے پہلی قومیں قضا و قدر کے مسئلہ میں مباحثہ کے سبب ہلاک ہوئیں ، میں تمہیں قسم دیتا ہوں اور مکرر قسم دیتا ہوں آئندہ اس مسئلے میں کبھی بحث نہ کرنا۔”
(ترمذی،کتاب القدر،رقم۲۱۴۰،ج۴،ص۵۱)

مسئلہ:

قضا و قدر کے مسائل عام لوگ نہیں سمجھ سکتے. اس میں زیادہ غور و فکر کرنا دین و ایمان کے تباہ ہونے کا سبب ہے۔ حضرتِ سیدنا ابو بکر صدیق و عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما جیسے جلیل القدر صحابہ بھی اس مسئلہ میں بحث کرنے سے منع فرمائے گئے تو پھر ہم لوگ کس گنتی میں ہیں۔

اتنا سمجھ لینا چاہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو پتھر اور دیگر جمادات کے مثل بے حس و حرکت پیدا نہیں کیا بلکہ اس کو ایک قسم کا اختیار دیا ہے کہ ایک کام چاہے کرے نہ کرے اور اس کے ساتھ عقل بھی دی ہے کہ بھلے برے نفع و نقصان کو پہچان سکے اور ہر قسم کے سامان اور اسباب مہیا کر دیئے کہ جب آدمی کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اسی قسم کے سامان مہیا ہو جاتے ہیں اور اسی وجہ سے اس پر مواخذہ ہے اپنے کو بالکل مجبور یا بالکل مختار سمجھنا دونوں گمراہی ہیں۔
(بہار شریعت،حصہ ۱،ص۲۶ملخصاً)
اللہ تعالیٰ ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم

This post has been Liked 0 time(s) & Disliked 0 time(s)

اپنا تبصرہ بھیجیں