Imama shareef ke fazail

عمامہ کے فضائل

عمامہ شریف ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی بہت ہی پیاری سنت ہے۔ ہمارے سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ہمیشہ سرِ اقدس پر اپنی مبارک ٹوپی پر عمامہ مبارکہ کوسجاکر رکھا۔ امام اہلسنّت ،مجدددین وملت الشاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں عمامہ سنتِ متواترہ دائمہ ہے ۔ (فتاویٰ رضويہ جديد،ج ۶،ص۲۰۸،۲۰۹)
تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالی علیہ واٰلہ وسلم کے آٹھ ۸ ارشادات
(۱) عمامہ کے ساتھ دو رکعتیں بغیر عمامہ کی ستر (۷۰) رکعتوں سے افضل ہیں ۔
(فردوس الاخبار ، باب الرا ء،فصل رکعتان،الحديث ۳۰۵۴،ج ۱،ص۴۱۰)
(۲) عمامہ کے ساتھ نماز دس ۱۰ہزار نیکیوں کے برابر ہے ۔
(فردوس الاخبار،باب الصاد ،الحديث ۳۶۲۱،ج۲،ص۳۱)
(۳) بے شک اللہ عزوجل اور اسکے فرشتے درود بھیجتے ہیں جمعہ کے دن عمامہ والوں پر۔
(الجامع الصغير ،حرف الھمزۃ،الحديث ۱۸۱۷،ص۱۱۳)
(۴) ٹوپی پر عمامہ ہمارا اور مشرکین کا فرق ہے ہر پیچ پر کہ مسلمان اپنے سر پر دیگا اس پر روزقیامت ایک نور عطا کیا جائیگا۔
(مرقاۃ المفاتيح شرح شکوۃ المصابيح ،کتاب اللباس ،الحديث ۴۳۴۰،ج ۸،ص۱۴۷)
(۵) عمامہ باندھو تمہارا حلم بڑھے گا۔
(المستدرک ،کتاب اللباس ، باب اعتمو اتزدادوا حلماً، الحديث ۷۴۸۸،ج۵ ،ص۲۷۲)
(۶) عمامہ مسلمانوں کا وقاراور عرب کی عزت ہے تو جب عرب عمامہ اتاردینگے اپنی
عزت اتار دينگے۔ ( فردوس الاخبار ، باب العين ،الحديث ۴۱۱۱، ج۲،ص۹۱)
(۷) تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے عمامہ کی طرف ا شارہ کرکے فرمایا: ”فرشتوں کے تاج ایسے ہی ہوتے ہیں۔”
(کنزالعمال ،کتاب المعيشۃوالعادات،باب آداب التعمم ،الحديث ۴۱۹۰۶ج۱۵،ص۲۰۵)
(۸) عمامہ کیساتھ ایک جمعہ بغیر عمامہ کے ستر(۷۰) جمعہ کے برابر ہے ۔
(فردوس الاخبار ،باب الجیم ،الحديث ۲۳۹۳، ج۱،ص۳۲۸)
حکایت:
حضرت سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم فرماتے ہیں کہ میں اپنے والدماجد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے حضور حاضر ہوا وہ عمامہ باندھ رہے تھے جب باندھ چکے تو میری طرف التفات کرکے فرمایا: تم عمامہ کو دوست رکھتے ہو؟ میں نے عرض کی: کیوں نہیں! فرمایا: اسے دوست رکھو عزت پاؤگے اور جب شیطان تمہیں دیکھے گا تم سے پیٹھ پھیر لے گا، اے فرزند عمامہ باندھ کہ فرشتے جمعہ کے دن عمامہ باندھے آتے ہیں اور سورج ڈوبنے تک عمامہ باندھنے والوں پر سلام بھیجتے رہتے ہیں۔ ” (فتاویٰ رضويہ جديد ،ج۶،ص۲۱۵ )
عمامہ کے آداب:
(۱) عمامہ سات ۷ہاتھ(ساڑھے تین گز) سے چھوٹا نہ ہو اور بارہ ۱۲ہاتھ(چھ گز سے بڑا نہ ہو) (مرقاۃ المفاتيح شرح مشکوٰۃ المصابيح ،کتاب اللباس تحت الحديث ۴۳۴۰،ج۸،ص۱۴۸)
(۲)عمامہ کے شملے کی مقدارکم از کم چار انگل اور زیادہ سے زیادہ اتنا ہو کہ بیٹھنے میں نہ دبے ۔ (فتاویٰ رضويہ جديد ،ج ۲۲،ص۱۸۲، بہارشريعت، حصہ ۱۶عمامہ کابيان ،ج۳،ص۵۵)
(۳) عمامہ اتارتے وقت بھی ایک ایک کر کے پیچ کھولنا چاہے۔ عمامہ قبلہ کی طرف رخ کر کے کھڑے کھڑے باندھے۔
(الفتاوی الھنديہ ،کتاب الکراھيۃ،باب التاسع فی اللباس… الخ، ج۵،ص۳۳۰)
اے ہمارے پیارے اللہ ! عزوجل ہمیں عمامہ کی سنت پر عمل کرنے کی تو فیق عطا فرما۔اٰمین بجا ہ النبی الامین صلی اللہ تعا لیٰ علیہ واٰلہ وسلم

اپنا تبصرہ بھیجیں