مشت زنی کا عذاب اسکے اسباب و نقصانات اور اس سے چھٹکارا کیسے حاصل کریں

Musht Zani - Muth marne se kya nuksan hota hai? - مشت زنی کا عذاب اسکے اسباب و نقصانات اور اس سے چھٹکارا کیسے حاصل کریں

بِیوِی اور کنیز شرعی كے علاوہ قضا شہوت کی مختلف صورتیں مثلاً زنا، لواطت، جانوروں سے بعد فیلی اور مشت زنی وغیرہ ، سب کی سب حرام و ناجائز ہیں . ان ناجائز و حرام امور میں سے آج ہم نے جس موضوع پر بات کرنی ہے وہ مشت زنی ہے . آج اس پر فتن دور میں موبائل ، انٹرنیٹ اور ٹی وی وغیرہ پر بے حیائی کے مناظر دیکھ دیکھ کر نوجوانوں کی اک تعداد ہے جو مشت زنی کا شکار ہو جاتی ہے.

اور اس بات سے بے خبر کہ اس کے دینی اور دونیاوی کیا نقصانات ہیں وہ بد مست ہو کر اس بیماری میں مبتلا رہتے ہیں اور جب ان کو اس بات کا احساس ہوتا ہے تو پانی سَر سے گزر چکا ہوتا ہے. اور یہ اپنی زندگی کو برباد کر چکے ہوتے ہیں. آج ہم اس خبیث فیل سے جتنا ہم سے ہو سکتا ہے پردہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں. اس تحریر کو دِل جمی کے ساتھ اک دفعہ مکمل پڑھیں.

سب سے پہلے ہم مشت زنی کے حوالے سے اپنے نبی ﷺ کا فرمان سنتے ہیں پِھر اسکی وعیدیں اور نقصانات جانیں گے . حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، ” اپنے ہاتھ سے نکاح کرنے والا ملعون ہے۔“(1)فتاویٰ رضویہ،جلد ۱۰،صفحہ ۸۰

ہاتھ سے غسل واجب کرنے کے بارے میں وعیدیں

یہ مشت زنی کا فعل ناپاک، حرام اورناجائز ہے۔ اپنے ہاتھ سے غسل واجب کرنے کے بارے میں بھی کئی وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔ مثلاً

(1) علامہ شمس الدین ذہبی علیہ الرحمۃ نقل کرتے ہیں کہ رحمت عالم ﷺ سے مروی ہے کہ ”سات لوگ ایسے ہیں کہ جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے اور بروز قیامت ان کی جانب نگاہ رحمت نہ فرمائے گا۔اور ان سے فرمائے گا کہ جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہو جاؤ،بشرطیکہ یہ توبہ نہ کریں۔

  1. بدفعلی کرنے والا۔
  2. کروانے والا۔
  3. جانور سے برا کام کرنے والا۔
  4. ماں اور بیٹی سے نکاح کرنے والا۔
  5. اپنے ہاتھ سے غسل واجب کرنے والا۔(2)کتاب الکبائر ،ص۶۳

(2) علامہ محمود آلوسی علیہ الرحمۃ تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں، ”حضرت عطاء علیہ الرحمۃ سے مروی ہے ،”میں نے سنا ہے کہ بروز قیامت ایک قوم کو اس حال میں لایا جائے گا کہ ان کے ہاتھ حاملہ ہوں گے ،میرے خیال میں یہ وہ ہوں گے جو اپنے ہاتھ سے غسل واجب کیا کرتے تھے۔ یعنی مشت زنی کیا کرتے تھے۔“

مزید لکھتے ہیں،”حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی قوم کو عذاب میں مبتلاء فرمایا جو اپنی شرمگاہوں کا غلط استعمال کیا کرتے تھے۔“(3)روح المعانی،المؤمنون :۳، الجزء الثامن عشر،ج۹،ص۱۶

مشت زنی کے اسباب

”آہ!گناہوں کے سیلاب کی ہلاکت سامانیاں ،یہ فحاشی اور عریانی کا طوفان، مخلوط تعلیمی نظام،مختلف شعبہ ہائے زندگی میں مردوں اور عورتوں کا اختلاط، T.V اور INTERNET پرفلمیں ،ڈرامے اور شہوت افزاء مناظر،رسائل و جرائد کے SEX APPEAL مضامین وغیرہ نے مل جل کر آج کے نوجوان کو باؤلا بنا ڈالا ہے ۔

عربی مقولہ ہے

”الشباب شعبۃ من الجنون“
یعنی جوانی دیوانگی ہی کا ایک شعبہ ہے،آج کے نوجوان پر شیطان نے اپنا گھیرا تنگ کر دیا ہے ،خواہ بظاہر نمازی اور سنتوں کا عادی ہی کیوں نہ ہو ،اپنی شہوت کی تسکین کے لیے مارا مارا پھر رہا ہے ،معاشرہ اپنے غلط رسم و رواج کے باعث بے چارے کی شادی میں بہت بڑی دیوار بن چکا ہے ،امتحان،سخت امتحان ہے ،مگر امتحان سے گھبرانا مردوں کا شیوہ نہیں۔ صبر کر کے اجر لوٹنا چاهیئے کہ شہوت جتنی زیادہ تنگ کرے صبر کرنے پر ثواب بھی اتنا ہی زیادہ ملے گا ۔اگر شہوت سے مغلوب ہو کر اس کی تسکین کے لیے ناجائز ذرائع اختیار کئے تو دونوں جہاں کا نقصان اور جہنم کا سامان ہے۔

حضرت سیدنا ابو الدردا ء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،”شہوت کی گھڑی بھر پیروی طویل غم کا باعث ہوتی ہے“۔ یہ لکھتے ہو ئے کلیجہ کانپتا اور حیا سے قلم تھرّاتا ہے مگر میری ان معروضات کو بے حیائی پر مبنی نہیں کہاجا سکتا بلکہ یہ تو عین درس حیا ہے ۔”اللہ عزوجل دیکھ رہا ہے“ یہ ایمان رکھنے کے باوجود جو لوگ اپنے زعم فاسد میں ”چھپ کر“ بے حیائی کا کام کرتے ہیں ان کے لیے حیا کا پیغام ہے ۔

افسوس

آہ! گندی ذہنیت کے حامل کئی نوجوان(لڑکے اور لڑکیاں)شادی کی راہیں مسدود پا کر اپنے ہی ہاتھوں اپنی جوانی برباد کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ابتداء ًاگرچہ لطف آتا ہو،مگر جب آنکھ کھلتی ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے ۔یاد رہے!یہ فعل حرام و گناہ ِکبیرہ ہے اور حدیث پاک میں ایسا کرنے والے کو ملعون کہا گیا ہے ۔اور اس کے لیے جہنم کے درد ناک عذاب کا استحقاق ہے ، آخرت بھی داؤ پر لگی اور دنیا میں بھی اس کے سخت ترین نقصانات ہیں ،اس غیر فطری عمل سے صحت بھی تباہ وبرباد ہو کر رہ جاتی ہے۔

ايک بار یہ ”فعل“کر لینے کے بعد پھر مشت زنی کرنے کو جی چاہتا ہے اگر معاذاللہ عزوجل چند بار کر لیا تو ورم آجاتا ہے اور عضو کی نرم و نازک رگیں رگڑ کھا کر دب کر سست ہو جاتیں اور پٹھے بے حد حساس ہو جاتے ہيں اور بالآخر نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ ذرا بد نگاہی ہوئی ،بلکہ ذہن میں تصور قائم ہوا اور منی خارج ،بلکہ کپڑے سے رگڑ کھا کر ہی منی ضائع۔”منی“اس خون سے بنتی ہے جو تمام جسم کو غذا پہنچانے کے بعد بچ جاتا ہے ۔ جب یہ کثرت کے ساتھ خارج ہونے لگے گی تو خون بدن کو غذا کیسے فراہم کریگا ؟ نتیجۃً جسم کا سارا نظام درہم برہم۔

اس فعل بد کی26 جسمانی آفتیں

  1. دل کمزور،
  2. معدہ،
  3. جگراور،
  4. گردے خراب،
  5. نظر کمزور،
  6. کانوں میں شائیں شائیں کی آوازیں آنا،
  7. چڑ چڑا پن،
  8. صبح اٹھے تو بدن سست،
  9. جوڑ جوڑ میں درد اور آنکھیں چپکی ہوئیں،
  10. ”منی“پتلی پڑ جانے کی صورت میں تھوڑی تھوڑی رطوبت بہتی رہنا،نالی میں رطوبت پڑی رہنا اور سڑنا ،پھر اس سبب سے بعض اوقات زخم ہو جانااور اس میں پیپ پڑ جانا،
  11. شروع میں پیشاب میں معمولی جلن،
  12. پھر مواد نکلنا،
  13. پھر جلن میں اضافہ،
  14. یہاں تک کہ پرانا سوزاک ہو کر زندگی کو ایسا تلخ کردیتا ہے کہ آدمی موت کی آرزو کرنے لگتا ہے،
  15. ”منی“کا پتلی ہونے کے سبب بلا کسی خیال کے پیشاب سے پہلے یا بعد پیشاب میں مل کر نکل جانا اسی کو ”جریان“کہتے ہیں جو شدید ترین امراض کی جڑ ہے،
  16. عضو میں ٹیڑھا پن،
  17. ڈھیلا پن،
  18. جڑ کمزور،
  19. شادی کے قابل نہ رہنا،
  20. اگر جماع میں کامیاب ہو بھی گیا تو اولاد کی امید نہیں،
  21. کمر میں درد،
  22. چہرہ زرد،
  23. آنکھوں میں گڑھے،
  24. شکل وحشیانہ،
  25. تپ دق(4)یعنی پرانا بخار،
  26. پاگل پن۔

پاگل ہو جانے کا ایک سبب

ايک اطلاع کے مطابق جب ایک ہزار تپ دق(5)یعنی پرانا بخار کے مریضوں کے اسباب پر غور کیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ414 مشت زنی کے سبب،186کثرت جماع کے باعث اور بقیہ دیگر وجوہات کی بناء پر مبتلائے تپ دق ہوئے تھے۔124 پاگلوں کا امتحان کرنے پر معلوم ہوا کہ ان میں سے 24(6)یعنی تقریبا ہر پانچواں فرداپنے ہاتھ سے منی خارج کرنے کی بناء پر پاگل ہوا تھا ۔(7)ملخصاً من ”امرد پسندی کی تباہ کاریاں“
))

کرلے توبہ رب کی رحمت ہے بڑی      قبر میں ورنہ سزا ہو گی کڑی

مشت زنی سے چھٹکارا کس طرح حاصل کریں؟

سب سے پہلے اس گناہ سے پکی سچی توبہ کریں۔ توبہ کا طریقہ میں نے پوسٹ کر دیا ہے۔ ملاحظہ فرما لیں۔

مزید اس کے اسباب پر غور کریں کہ یہ گناہ مجھ سے کیوں سرزد ہو رہا ہے۔ بری صحبت کی وجہ سے، فلموں ڈراموں کی وجہ سے، انٹرنیٹ کے غلط استعمال کی وجہ سے یا بدنگاہی کی وجہ سے جو بھی سبب ہو اسکو فوراً دور کریں اور اچھی صحبت اختیار کریں۔ اپنے آپ کو نیک کاموں میں مشغول کریں۔

جب بھی گناہ کرنے کا دوبارا ذہن بنے تو وضو کر لیں۔ اور ہر وقت “لاحول“ شریف کی کثرت کرتے رہیں انشاءاللہ اس عادت سے چھٹکارا حاصل ہو جائے گا۔ یاد رکھیں نفس و شیطان بھرپور کوشش کرے گا کہ آپ اس عادت سے چھٹکارا نہ حاصل کر پاؤ مگر آپ نے اپنے اس ارادے پر پختگی کے ساتھ قائم رہنا ہے۔ اور ہر نماز کےبعد اور علاوہ نماز بھی اس عادت سے چھٹکارے کے لیے دعا کرتے رہنا ہے۔ کیونکہ حدیث پاک میں آتا ہے کہ :

الدعاء سلاح المؤمن

ترجمہ: دعا مومن کا ہتھیار ہے۔

مزید ایک اور بات کہ کھانا کم کھائیں کہ پیٹ بھر کھانے سے بھی شہوت کو فروغ ملتا ہے۔ سب سے بہتر یہ ہے کہ روزہ رکھنے کی عادت ڈال لیں کہ روزہ شہوت کا توڑ ہے۔

اللہ پاک ہمیں اس فعل بد سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور نیکی کے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

حوالہ جات   [ + ]

مشت زنی کا عذاب اسکے اسباب و نقصانات اور اس سے چھٹکارا کیسے حاصل کریں” ایک تبصرہ

  1. Mujhy bh ye shok ha lakin mera wo thera ho gya ha or dehla bh ho gya ha mujhy is bimwri say nijat chiey .mere 6 month bad shadi ha plz help me ..

اپنا تبصرہ بھیجیں