کیا انسان مُشت زنی کرسکتا ہے؟

Muth ka Nuksan

حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا،” اپنے ہاتھ سے نکاح کرنے والا ملعون ہے۔”(فتاویٰ رضویہ،جلد ۱۰،صفحہ ۸۰)
امام اہل ِ سنت مجدد دین وملت الشاہ مولانا احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن اپنے ہاتھ سے غسل واجب کرنے کے بارے میں لکھتے ہیں :”یہ فعل ناپاک، حرام اورناجائز ہے۔”(فتاویٰ رضویہ ،ج ۱۰،نصف اول، ص۸)

ہاتھ سے غسل واجب کرنے کے بارے میں وعیدیں

اپنے ہاتھ سے غسل واجب کرنے کے بارے میں بھی کئی وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔مثلاً

(1) علامہ شمس الدین ذہبی علیہ الرحمۃ نقل کرتے ہیں کہ رحمت عالم صلي الله عليه وسلم سے مروی ہے کہ ”سات لوگ ایسے ہیں کہ جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے اور بروز قیامت ان کی جانب نگاہ رحمت نہ فرمائے گا۔اور ان سے فرمائے گا کہ جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہو جاؤ،بشرطیکہ یہ توبہ نہ کریں۔
(۱)بدفعلی کرنے والا۔
(۲)کروانے والا۔
(۳)جانور سے برا کام کرنے والا۔
(۴) ماں اور بیٹی سے نکاح کرنے والا۔
(۵)اپنے ہاتھ سے غسل واجب کرنے والا۔ (کتاب الکبائر ،ص۶۳)

(2) علامہ محمود آلوسی علیہ الرحمۃ تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں، ”حضرت عطاء علیہ الرحمۃ سے مروی ہے ،”میں نے سنا ہے کہ بروز قیامت ایک قوم کو اس حال میں لایا جائے گا کہ ان کے ہاتھ حاملہ ہوں گے ،میرے خیال میں یہ وہ ہوں گے جو اپنے ہاتھ سے غسل واجب کیا کرتے تھے۔”
مزید لکھتے ہیں،”حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی قوم کو عذاب میں مبتلاء فرمایا جو اپنی شرمگاہوں کا غلط استعمال کیا کرتے تھے۔”(روح المعانی،المؤمنون :۳، الجزء الثامن عشر،ج۹،ص۱۶)

مشت زنی کے اسباب

”آہ!گناہوں کے سيلاب کی ہلاکت سامانياں ،يہ فحاشی اور عريانی کا طوفان، مخلوط تعليمی نظام،مختلف شعبہ ہائے زندگی ميں مردوں اور عورتوں کا اختلاط، T.V اورV.C.Rپرفلميں ،ڈرامے اور شہوت افزاء مناظر،رسائل و جرائد کے SEX APPEAL مضامين وغيرہ نے مل جل کر آج کے نوجوان کو باؤلا بنا ڈالا ہے ۔عربی مقولہ ہے ”الشباب شعبۃ من الجنون”يعنی جوانی ديوانگی ہی کا ايک شعبہ ہے،آج کے نوجوان پر شيطان نے اپنا گھيرا تنگ کر ديا ہے ،خواہ بظاہر نمازی اور سنتوں کا عادی ہی کيوں نہ ہو ،اپنی شہوت کی تسکين کے ليے مارا مارا پھر رہا ہے ،معاشرہ اپنے غلط رسم و رواج کے باعث بے چارے کی شادی ميں بہت بڑی ديوار بن چکا ہے ،امتحان،سخت امتحان ہے ،مگر امتحان سے گھبرانا مردوں کا شيوہ نہيں ۔صبر کر کے اجر لوٹنا چاهیے کہ شہوت جتنی زيادہ تنگ کرے صبر کرنے پر ثواب بھی اتنا ہی زيادہ ملے گا ۔اگر شہوت سے مغلوب ہو کر اس کی تسکين کے ليے ناجائز ذرائع اختيار کئے تو دونوں جہاں کا نقصان اور جہنم کا سامان ہے ۔حضرت سيدنا ابو الدردا ء رضی اللہ عنہ فرماتے ہيں ،”شہوت کی گھڑی بھر پيروی طويل غم کا باعث ہوتی ہے”۔يہ لکھتے ہو ئے کليجہ کانپتا اور حيا سے قلم تھرّاتا ہے مگر ميری ان معروضات کو بے حيائی پر مبنی نہيں کہاجا سکتا بلکہ يہ تو عين درس حيا ہے ۔”اللہ عزوجل ديکھ رہا ہے”يہ ايمان رکھنے کے باوجود جو لوگ اپنے زعم فاسد ميں ”چھپ کر”بے حيائی کا کام کرتے ہيں ان کے ليے حيا کا پيغام ہے ۔ آہ! گندی ذہنيت کے حامل کئی نوجوان(لڑکے اور لڑکياں)شادی کی راہيں مسدود پا کر اپنے ہی ہاتھوں اپنی جوانی برباد کرنا شروع کر ديتے ہيں ۔ابتداء ًاگرچہ لطف آتا ہو،مگر جب آنکھ کھلتی ہے تو بہت دير ہو چکی ہوتی ہے ۔ياد رہے!يہ فعل حرام و گناہ ِکبيرہ ہے اور حديث پاک ميں ايسا کرنے والے کو ملعون کہا گيا ہے ۔اور اس کے ليے جہنم کے درد ناک عذاب کا استحقاق ہے ، آخرت بھی داؤپر لگی اور دنياميں بھی اس کے سخت ترين نقصانات ہيں ،اس غير فطری عمل سے صحت بھی تباہ وبرباد ہو کر رہ جاتی ہے۔
ايک بار يہ ”فعل”کر لينے کے بعد پھر کرنے کو جی چاہتا ہے اگر معاذاللہ عزوجل چند بار کر ليا تو ورم آجاتا ہے اور عضو کی نرم و نازک رگيں رگڑ کھا کر دب کر سست ہو جاتیں اور پٹھے بے حد حساس ہو جاتے ہيں اور بالآخر نوبت يہاں تک پہنچتی ہے کہ ذرا بد نگاہی ہوئی ،بلکہ ذہن ميں تصور قائم ہوا اور منی خارج ،بلکہ کپڑے سے رگڑ کھا کر ہی منی ضائع۔”منی”اس خون سے بنتی ہے جو تمام جسم کو غذا پہنچانے کے بعد بچ جاتا ہے ۔ جب يہ کثرت کے ساتھ خارج ہونے لگے گی تو خون بدن کو غذا کيسے فراہم کریگا ؟ نتيجۃًجسم کا سارا نظام درہم برہم۔

اس فعل بد کی26 جسمانی آفتيں

(1)دل کمزور(2)معدہ(3)جگراور(4)گردے خراب(5)نظر کمزور(6)کانوں ميں شائيں شائيں کی آوازيں آنا(7)چڑچڑاپن(8)صبح اٹھے تو بدن سست(9)جوڑ جوڑ ميں درد اور آنکھيں چپکی ہوئيں (10)”منی”پتلی پڑ جانے کی صورت ميں تھوڑی تھوڑی رطوبت بہتی رہنا،نالی ميں رطوبت پڑی رہنا اور سڑنا ،پھر اس سبب سے بعض اوقات زخم ہو جانااور اس ميں پيپ پڑ جانا(11)شروع ميں پيشاب ميں معمولی جلن(12)پھر مواد نکلنا(13)پھر جلن ميں اضافہ (14)يہاں تک کہ پرانا سوزاک ہو کر زندگی کو ايسا تلخ کرديتا ہے کہ آدمی موت کی آرزو کرنے لگتا ہے (15)”منی”کا پتلی ہونے کے سبب بلا کسی خيال کے پيشاب سے پہلے يا بعد پيشاب ميں مل کر نکل جانا اسی کو ”جريان”کہتے ہيں جو شديد ترين امراض کی جڑ ہے (16)عضو ميں ٹيڑھا پن(17)ڈھيلا پن (18)جڑ کمزور(19)شادی کے قابل نہ رہنا(20)اگر جماع ميں کامياب ہو بھی گيا تو اولاد کی اميد نہيں (21)کمر ميں درد (22)چہرہ زرد(23)آنکھوں ميں گڑھے (24)شکل وحشيانہ(25)تپ دق(يعنی پرانا بخار)(26)پاگل پن۔

پاگل ہو جانے کا ايک سبب

ايک اطلاع کے مطابق جب ايک ہزار تپ دق(يعنی پرانا بخار) کے مريضوں کے اسباب پر غور کيا گيا تو يہ بات سامنے آئی کہ414 مشت زنی کے سبب،186کثرت جماع کے باعث اور بقيہ ديگر وجوہات کی بناء پر مبتلائے تپ دق ہوئے تھے۔124پاگلوں کا امتحان کرنے پر معلوم ہوا کہ ان ميں سے 24(يعنی تقريبا ہر پانچواں فرد)اپنے ہاتھ سے منی خارج کرنے کی بناء پر پاگل ہوا تھا ۔

کرلے توبہ رب کی رحمت ہے بڑی قبر ميں ورنہ سزا ہو گی کڑی

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.