پہلی صورت: تکبر کے ساتھ ٹخنے ڈھانپنا
اگر کوئی شخص نماز یا غیر نماز میں تکبر، غرور یا عجب کی نیت سے شلوار یا کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکائے تو یہ عمل ناجائز و حرام ہے۔ ایسی حالت میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی اور گناہ ہے۔
اس صورت میں نماز واجب الاعادہ ہے یعنی اسے دوبارہ پڑھنا واجب ہوگا۔
دوسری صورت: بغیر تکبر ٹخنے ڈھانپنا
اگر شلوار یا ازار کو ٹخنوں سے نیچے لٹکایا جائے اور اس میں کوئی تکبر نہ ہو تو یہ عمل مکروہ تنزیہی اور خلافِ اولیٰ ہے۔
ایسی نماز ادا تو ہو جائے گی اور دوبارہ پڑھنا واجب نہیں ہوگا، لیکن افضل یہی ہے کہ ایسا نہ کیا جائے۔
سنت طریقہ:
شلوار، پینٹ یا پاجامہ کو اس طرح پہننا کہ وہ ٹخنوں سے اوپر ہو، یہ سنت ہے۔ اس میں عظمت، برکت اور نجات ہے۔
اہم تنبیہ:
ٹخنے ظاہر کرنے کے لیے نماز سے پہلے یا دوران پینٹ یا شلوار کو فولڈ کرنا، چاہے اوپر سے ہو یا نیچے سے، یہ عمل مکروہ تحریمی ہے۔
ایسی نماز بھی واجب الاعادہ ہوگی، لہٰذا اس سے بچنا ضروری ہے۔
فقہی حوالہ جات:
”السنة جعلها لأنصاف الساق، وهو مباح إلى الكعب، وما جاوزه حرام مع الخيلاء، مكروه عند فقدها۔“
ترجمہ: کپڑوں کو آدھی پنڈلی تک رکھنا سنت ہے، اور ٹخنوں تک رکھنا مباح ہے، اور ٹخنوں سے نیچے تکبر کے ساتھ ہو تو حرام ہے، ورنہ مکروہ۔
(1)
”إسبال الرجل إزاره أسفل من الكعبين إن لم يكن للخيلاء ففيه كراهة تنزيه۔“
ترجمہ: مرد کا اپنے ازار کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا اگر بوجہ تکبر نہ ہو تو مکروہ تنزیہی ہے۔
(2)
لہٰذا افضل، محفوظ اور سنت طریقہ یہی ہے کہ مرد اپنی شلوار، ازار یا پاجامہ کو ٹخنوں سے اوپر رکھیں اور نماز میں کسی مکروہ صورت سے بچیں۔