Raaz

دوسروں کے راز فاش کرنا شرعی اعتبار سے کیسا ہے؟

زبان کی ایک آفت لوگوں کے راز فاش کرنا بھی ہے اور یہ ایک طرح کی خیانت ہے جو کہ ممنوع ہے کیونکہ اس سے اس شخص کو تکلیف پہنچتی ہے جس کا راز فاش کیا جائے ۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرورِ عالم صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو شخص آپس میں ایک دوسرے کو رازداں بنائیں تو ایک کیلئے دوسرے کا وہ راز فاش کرنا جائز نہیں جسکا فاش ہونا پہلے کو ناگوار گزرے”۔
(شعب الایمان ،رقم الحدیث ۱۱۱۹۱، ج۷،ص۵۲۰)

جبکہ حضرت جابررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رحمتِ کونین ا نے فرمایا: ”ایک شخص کی بات دوسرے کے پاس امانت ہے ۔”
(سنن الترمذی ، کتاب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی ان المجالس امانۃ، رقم الحدیث ۱۹۶۶، ج۳، ص۳۸۶)

اور حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: ”روز قیامت اللہ کے نزدیک سب سے بُرا وہ ہوگا جو اپنی بیوی سے یا جوبیوی اپنے شوہر سے قضائے شہوت كرے اور ان میں سے كوئی اپنے ہمسفر كاراز فاش كردے”۔
(صحیح مسلم,كتاب النكاح,باب تحریم افشاء سرالمرءۃ رقم الحدیث ١٤٣٧,ص٧٥٣)

وہ تین مقامات جہاں راز فاش کرنا جائز ہے

لیکن تین قسم کی باتوں کو ظاہر کرنا جائز ہے جیسا کہ۔۔۔۔۔۔
حضرت جابررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور پُرنورصلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا:” مجالس امانت ہیں سوائے تین قسم کی مجالس کے ، (۱)جس مجلس میں کسی کو ناحق قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہو(۲)حرام جماع کا منصوبہ بنا ہو(۳)ناحق مال لینے کا منصوبہ بنا ہو۔”
(سنن ابی داؤد ، کتاب الادب ،رقم الحدیث ۴۸۶۹، ج۴،ص۳۵۱)

اللہ تعالیٰ ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ عليہ وسلم

This post has been Liked 0 time(s) & Disliked 0 time(s)

اپنا تبصرہ بھیجیں