لواطت: مرد کا مرد سے بدفعلی کرنا

Lawatat

بے شمار دنیاوی واُخروی آفات کا سبب بننے والے اس مذموم فعل کی قباحت قرآن کریم اور احادیث کریمہ سے ثابت ہے ،چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

وَلُوۡطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖۤ اَتَاۡتُوۡنَ الْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمۡ بِہَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۸۰﴾اِنَّکُمْ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَہۡوَۃً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ ؕ بَلْ اَنۡتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوۡنَ ﴿۸۱﴾

ترجمہ کنزالایمان :اور لوط کو بھیجا جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہاں میں کسی نے نہ کی تم تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے۔” (پ۸،اعراف:۸۰،۸۱)
قومِ لوط(علیہ السلام)پر اسی کی وجہ سے عذاب نازل ہوا تھا،جس کا بیان قرآن مجید فرقانِ حمید میں ان الفاظ سے کیا گیا ہے:

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَہَا سَافِلَہَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیۡہَا حِجَارَۃً مِّنۡ سِجِّیۡلٍ ۬ۙ مَّنۡضُوۡدٍ ﴿ۙ۸۲﴾

ترجمہ کنزالایمان :پھر جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس بستی کے اوپر کو اس کا نیچا کر دیا اور اس پرکنکر کے پتھر لگاتار برسائے۔”(ھود:۸۲)

اس کی مذمت میں احادیث ِ مقدسہ:
(۱) حضرت عمرو بن ابی عمرورضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا،”جو قوم لوط کا سا عمل کرے ،وہ ملعون ہے۔”
(ترمذی،کتاب الحدود،باب ماجاء فی حد اللوطی ،رقم ۱۴۶۱ج۳،ص۱۳۷)
(۲) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: ”چار قسم کے لوگ ایسے ہیں، جو صبح اللہ تعالیٰ کے غضب میں اور شام اس کی ناراضگی میں کرتے ہیں۔”عرض کی گئی:”یا رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم ! وہ کون ہیں؟ ”ارشاد فرمایا:”وہ مرد جو عورتوں سے مشابہت اختیار کرتے ہیں اوروہ عورتیں جو مردوں سے مشابہت اختیار کرتی ہیں اور جانوروں اور مردوں سے بد فعلی کرنے والے۔”(کنزالعمال،کتاب المواعظ،رقم۴۳۹۷۵،ج۱۶،ص۳۱)
(۳) حضرت ابو سعیدخُدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،”عنقریب اس امت میں ایک ایسا گروہ ہوگا جو لوطیہ کہلائے گا۔یہ تین قسم کے ہوں گے۔
(i)جو امردوں کی صورتیں دیکھیں گے اور ان سے بات چیت کریں گے،
(ii)جو ان سے ہاتھ ملائیں گے اور گلے بھی ملیں گے ،
(iii)جو ان سے بدفعلی کریں گے۔
ان سبھی پر اللہ عزوجل کی لعنت ہے مگر جو توبہ کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرما لے گا اور وہ لعنت سے بچے رہیں گے ۔(کنزالعمال ،کتاب الحدود،رقم ۱۳۱۲۹ج۵،ص۱۳۵)
اس کی شرعی سزا:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”تم جس شخص کو قوم لوط کا عمل کرتے پاؤ تو کرنے اور کروانے والے دونوں کو قتل کر دو۔”(مستدرک ،کتاب الحدود،رقم ۸۱۱۳،ج۵،ص۵۰۸)
اور حضرت ابن عباس رضي الله عنهان کے لئے فرمایا کرتے تھے،” یعنی بستی میں کوئی اونچی دیوار دیکھی جائے اور لوطی کو اس کے نیچے ڈال دیا جائے ،پھر اسکے ساتھ پتھروں والا معاملہ کیا جائے جیسا قوم لوط کے ساتھ کیا گیا تھا۔”
حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی جانب ایک خط لکھ کر بھیجا کہ میں نے یہاں ایک ایسا شخص پایا ہے، جوبخوشی دوسروں کو اپنی ذات پر قدرت ديتا ہے۔” حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ طلب فرمایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا،”بے شک یہ ایک ایسا گناہ ہے ،جسے فقط ایک امت یعنی قوم لوط نے کیا ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتادیا کہ اس نے اس قوم کے ساتھ کیاکیا،چنانچہ میرا خیال ہے کہ اس شخص کو جلا دیا جائے۔”
پس حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ کو لکھا کہ اسے آگ میں جلا دیا جائے۔آپ نے حسب ِحکم اسے آگ میں جلوا دیا۔” (کتاب الکبائر،ص۶۶)
مدینہ :۔
زنا اور لواطت کی بیان کردہ شرعی سزائیں نافذ کرناحاکم اسلام کا کام ہے ،عوام کو چاہے کہ اگر یہ ثابت ہوجائے کہ فلاں نے زنا یا لواطت جیسا قبیح فعل کیا ہے تو اس سے اس وقت تک سماجی تعلق ختم کرلیں جب تک وہ کامل توبہ نہ کرلے۔

فاعل ومفعول کی اُخروی سزا:
(۱) حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے،” جس نے کسی کو خود پر بخوشی قدرت دی ، حتی کہ دوسرے نے اس سے منہ کالا کیاتو اللہ تعالیٰ اسے عورتوں کی سی شہوت میں مبتلاء فرما دے گا اور قیامت تک اس کی قبرمیں شیطان کو اس کے قریب رکھے گا۔”
(کتاب الکبائر،ص ۶۶)
(۲) حضرت سیدنا وکیع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص قومِ لوط کا ساعمل کرتے ہوئے مرے گا تو بعدِ تدفین اسے قومِ لوط کے قبرستان میں منتقل کردیا جائے گا اور اس کا حشر انہی کے ساتھ ہوگا ۔(کنزالعمال ،کتاب الحدود ،رقم ۱۳۱۲۷،ج۵،ص۱۳۵)
(۳) مروی ہے کہ حضرت عیسی عليه السلام دوران سفر ایک آگ کے پاس سے گزرے،جو ایک مرد پر جل رہی تھی۔آپ نے اس آگ کو بجھانے کے لئے اس پر پانی ڈالا۔ اچانک اس آگ نے ایک لڑکے کی صورت اختیار کر لی اور وہ مرد آگ بن گیا۔آپ کو اس سے بہت تعجب ہوااورآپ نے بارگاہِ الہٰی میں عرض کی،” اے میرے رب!ان دونوں کو ان کے دنیاوی حال پر لوٹا دے تاکہ میں ان سے ان کے بارے میں پوچھ سکوں۔”
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کوزندہ فرما دیا ۔آپ نے دیکھا کہ وہ ایک مرد اور ایک لڑکا تھا۔آپ نے ان سے فرمایا،”تم دونوں کا کیا معاملہ ہے؟” مرد نے جواب دیا،” اے روح اللہ!میں دنیا میں اس لڑکے کی محبت میں گرفتار ہوگیا تھا، شہوت نے مجھے ابھارا کہ میں اس سے برا کام کروں پھر جب میں اور یہ لڑکا مر گئے ،تویہ آگ بن گیا، جو مجھے جلاتا ہے اور میں بھی آگ بن کر اسے جلاتا ہوں۔ پس ہمارا یہ عذاب قیامت تک جاری رہے گا۔”(کتاب الکبائر،ص ۶۶)

اپنا تبصرہ بھیجیں