بھینس کی قربانی کرنا بلا شک و شبہ جائز ہے۔ کیونکہ بھینس، گائے ہی کی جنس میں سے ہے، تو جس طرح گائے کی قربانی کرنا جائز ہے، یوں ہی بھینس کی قربانی کرنا بھی جائز ہے۔
کیا بھینس کی قربانی جائز ہے؟
بھینس کو انگریزی میں (BUFFALO) کہتے ہیں۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں:
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
ترجمہ: ’’اور مویشی میں سے کچھ بوجھ اٹھانے والے اور کچھ زمین پر بچھے، کھاؤ اس میں سے جو اللہ نے تمہیں روزی دی اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ آٹھ نر اور مادہ ایک جوڑا بھیڑ کا اور ایک جوڑا بکری کا، تم فرماؤ کیا اس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ یا وہ جسے دونوں مادہ پیٹ میں لیے ہیں کسی علم سے بتاؤ اگر تم سچے ہو ۔اور ایک جوڑا اونٹ کا اور ایک جوڑا گائے کا۔‘‘ (1)
“انعام” (یعنی آٹھ جانوروں) میں بھینس بھی گائے کی طرح شامل ہے۔ جیسا کہ تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر در منثور میں ہے:
ترجمہ: حضرت لیث بن ابو سلیم سے مروی ہے آپ فرماتے ہیں کہ بھینس اور بختی اونٹ ازواج ثمانیہ (یعنی آٹھ نر اور مادہ) میں سے ہیں۔ (2)(3)
صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ:
ترجمہ: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہم اونٹ اور گائے میں شرکت کریں یعنی ہم میں سے ہر سات افراد ایک بدنہ میں شریک ہوں۔ (4)
اہل لغت اور فقہاء کی رائے:
امام اللغت علامہ ابن منظور افریقی اپنی کتاب “لسان العرب” میں لکھتے ہیں:
ترجمہ: بھینس گائے کی ایک قسم ہے۔ (5)
فقیہ النفس ابو المحاسن امام حسن بن منصور المعروف قاضی خان حنفی رحمہ اللہ “فتاویٰ قاضی خان” میں فرماتے ہیں:
ترجمہ: چار جانوروں کی قربانی جائز ہے، بھیڑ، بکری، گائے اور اونٹ، چاہے نر ہوں یا مادہ اور اسی طرح بھینس کی قربانی بھی جائز ہے، اس لیے کہ یہ پالتو گائے کی ایک قسم ہے۔ (6)
حوالہ جات
| 1↑ | الانعام، آیت 142 تا 144 |
|---|---|
| 2↑ | تفسیر در منثور، جلد 3، صفحہ 371، مطبوعہ دار الفکر، بیروت |
| 3↑ | تفسیر ابن ابی حاتم، جلد 5، صفحہ 1403، مطبوعہ عرب شریف |
| 4↑ | صحیح المسلم، کتاب الحج، جلد 2، صفحہ 995، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت |
| 5↑ | لسان العرب، جلد 2، صفحہ 206، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت |
| 6↑ | فتاویٰ قاضی خان، جلد 3، فصل فیما یجوز فی الضحایا، صفحہ 234، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت |