سات کھجوریں اور حضور نبی کریم ﷺ کا ایک معجزہ

7 Khajooren aur Ek Mojza

حضرت عرباض بن سارِیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، غزوہ تبوک میں ایک رات سر ورِکائنات ﷺ نے حضرت بِلا ل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا، اے بِلال! تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے؟ حضرت بِلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی، حضور! آپ کے ربّ عزّوجلّ کی قسم ! ہم تو اپنے توشہ دان خالی کئے بیٹھے ہیں۔رحمت عالم ﷺ نے فرمایا،اچھی طرح دیکھو اور اپنے توشہ دان جھاڑو شاید کچھ نکل آئے۔ (اس وقت ہم تین افراد تھے) سب نے اپنے اپنے توشہ دان جھاڑ ے تو کل سات کھجوریں برامد ہوئیں۔

واٹس ایپ گروپ (ابھی جوائن کریں) Join Now
یوٹیوب چینل (ابھی سبکرائب کریں) Subscribe

آپ ﷺ نے ان کو ایک صفحہ پر رکھ کر ان پر اپنا دست مبارک رکھ دیا ، اور فرمایا، بِسمِ اللہ پڑھ کر کھاؤ، ہم تینوں نے محبوب داور ﷺ کے دست انور کے نیچے سے اٹھا کر خوب کھائیں، حضرت بِلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں گٹھلیاں الٹے ہاتھ میں رکھتا جاتا تھا،جب میں نے سیر ہو کر ان کوشمارکیا تو 54 تھیں! اسی طرح ان دونوں صحابہ رضی اللہ عنہما نے بھی سیر ہو کر کھائیں۔ جب ہم نے کھانے سے ہاتھ روک لیا تو سرکارِ نامدارﷺ نے بھی اپنے دست مبارک اٹھا لیا ۔ وہ ساتوں کھجوریں اسی طرح موجود تھیں! حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا، اے بِلال ! ان کو سنبھال کر رکھو اور ان میں سے کوئی نہ کھائے، پھر کام آئیں گی۔

حضرت بِلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ہم نے ان کو نہ کھایا، جب دوسرا دن آیا اور کھانے کا وقت ہوا تو سرکارِ مدینہ ﷺ نے وہی سات کھجوریں لانے کا حکم دیا، آپ ﷺ نے پھر اسی طرح ان پر اپنا دست مبارک رکھا اور فرمایا، بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ! اب ہم دس آدمی تھے سب سیر ہو گئے۔ حضور تاجدارِ رسالت ﷺ نے اپنا دست رحمت اٹھایا تو سات کھجوریں بدستور موجود تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا، اے بِلال ! اگر مجھے حقّ تعالیٰ سے حیا نہ آ رہی ہوتی تو واپس مدینہ پہنچنے تک ان ہی سات کھجوروں سے کھاتے ۔ پھر سرکار ﷺ نے وہ کھجوریں ایک لڑکے کوعطا فرما دیں۔ وہ انھیں کھا کر جاتا رہا۔(1)

5/5 - (1 vote)

حوالہ جات

حوالہ جات
1 الخصائص الکبریٰ ج۲ ص ۴۵۵

توجہ فرمائیں! اس ویب سائیٹ میں اگر آپ کسی قسم کی غلطی پائیں تو ہمیں ضرور اطلاع فرمائیں۔ ہم آپ کے شکر گزار رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں