ایسا بیمار جانور جس کی بیماری ظاہر ہو، (یعنی جو بیماری کی وجہ سے چارہ نہ کھائے) اس کی قربانی نہیں ہوسکتی۔
بیمار قربانی کے جانور کا حکم
بیمار جانور کے متعلق یہ بیان کردہ حکم عام ہے۔ لہٰذا، چاہے جانور خریدتے وقت بیمار ہو یا خریدنے کے بعد بیمار ہوا ہو، صاحب نصاب یعنی غنی شخص کے لیے دونوں صورتوں کا ایک ہی حکم ہے کہ اس کی جگہ دوسرا جانور قربان کرنا ضروری ہوگا۔
فقیر کے لیے حکم:
البتہ، اگر فقیر نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا اور پھر اس میں کوئی عیب پیدا ہوگیا، تو اس پر دوسرا جانور خرید کر اس کی قربانی کرنا لازم نہیں بلکہ وہی جانور کافی ہوگا۔
حدیث کی روشنی میں ممنوعہ جانور:
جن جانوروں کی قربانی جائز نہیں، ان کے متعلق سنن ابی داؤد میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
یعنی چار قسم کے جانور قربانی میں جائز نہیں: کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو، بیمار جس کی بیماری ظاہر ہو، لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو اور ایسا لاغر جس کی ہڈیوں میں مغز نہ ہو۔ (1)
فقہی کتاب سے وضاحت:
یہ شرط کہ جانور ایسا بیمار نہ ہو جس کی بیماری واضح ہو، اس کے متعلق در مختار میں ہے:
ترجمہ: اندھے، کانے، ایسے کمزور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ رہا، ایسا لنگڑا جو قربان گاہ تک نہ چل کر جاسکے، ایسا بیمار جس کی بیماری واضح ہو، ان جانوروں کی قربانی نہیں ہوسکتی۔ (2)