والدین کے حقوق اور انکی شان

والدین کے حقوق

والدین کا مرتبہ سب سے بڑھ کر ہے۔ انکے سامنے اُف تک نہ کہے۔اللہ پاک نے ان کے سامنے اُف تک کہنے سے منع فرمایا ہے۔ ان کی ہر جائز کام میں فرمانبرداری کرے۔ اگر یہ بیمار ہوں یا بڑھاپا آ جائے تو انکی خوب خدمت کرے۔ اگر یہ خود پردیس ہے اور والدین اسے بلاتے ہیں تو آنا ہی ہو گا۔ فون یا انٹرنیٹ پر بات کرنا کافی نہیں۔

اگر یہ شادی شدہ ہے یا شادی کرنے لگا ہے تو بیٹے کو لازم ہے کہ جب اس کی دلہن گھر آجائے تو دستور کے مطابق اپنی دلہن سے خوب خوب پیار و محبت کرے لیکن ماں باپ کے ادب و احترام اور ان کی خدمت و فرمانبرداری میں ہر گز ہر گز بال برابر بھی فرق نہ آنے دے۔ اگر اس دنیا میں ہی ان کی خدمت کرکے ان کو راضی کر لیا تو یہ تمہارے لیے جنت ہیں اور اگر خدا نخواستہ نہ کر پائے تو آخرت میں پھنس جائیں گے۔ جیسا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: والدین تیری جنت اور دوزخ ہیں۔ (1)ابن ماجہ، الحدیث : ۳۶۶۲

جب تک والدین کو راضی نہ کرے گا اس کا کوئی فرض ، کوئی نفل ، کوئی نیک کام ہر گز قبول نہیں ہوگا آخرت کے عذاب کے علاوہ دنیا میں ہی جیتے جی سخت آزمائش ہوگی مرتے وقت کلمہ نصیب نہ ہونے کا خوف ہے ۔اللہ کی پناہ۔ فرمان آخری نبی ﷺہے: جس شخص سے اسکے والدین راضی ہوں اللہ پاک اس سے راضی ہے اور جس سے اس کے والدین ناراض ہوں اس سے اللہ پاک بھی ناراض ہے۔ (2)ترمذی

والدین کے حقوق

بیٹے کوچاہیے کہ والدین کی بات توجہ سے سنے۔ ماں باپ جب کھڑے ہوں تو تعظیماً ان کے لئے کھڑا ہوجائے۔ جب وہ کسی کام کا حکم دیں تو فوراً بجا لائے۔ ان دونوں کے کھانے پینے کا انتظام و انصرام کرے اور نرم دلی سے ان کے لئے عاجزی کا بازو بچھائے۔ وہ اگر کوئی بات باربار کہیں تو ان سے اکتا نہ جائے۔ ان کے ساتھ بھلائی کرے تو ان پراحسان نہ جتلائے۔ وہ کوئی کام کہیں تو اسے پورا کرنے میں کسی قسم کی شرط نہ لگائے۔ ان کی طرف حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھے اورنہ ہی کسی معاملے میں ان کی نافرمانی کرے۔ چنانچہ

ایک حدیث پاک میں ہے: ایک جوان نزع میں تھا اسے کلمہ کی تلقین کرتے تھے(3)اسے کلمہ طیبہ سکھاتے تھے نہ کہا جاتا تھا یہاں تک کہ حضور اقدس ﷺ تشریف لے گئے اور فرمایا: کہہ : لا إلہ إلا اللہ، عرض کی: نہیں کہا جاتا۔ معلوم ہوا کہ ماں ناراض ہے، اسے راضی کیا تو کلمہ زبان سے نکلا۔ (4) المسند للامام أحمد بن  حنبل, حديث عبدالصلۃ بن أبی أوفیٰ, رقم ۱۹۴۲۸ ج۷،ص۱۰۵

آپ نے جانا کہ ماں ناراض تھی تو مرتے وقت کلمہ بھی نہیں کہا جا رہا تھا۔ ماں باپ اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہیں۔ اس کی قدر کریں۔ ان سے پوچھیں جن کی ماں نہیں ہے باپ نہیں ہے۔ یہ ایک ہی بار ملتے ہیں جب دنیا سے چلے جائیں تو انکا مثل دوسرا نہیں ملتا۔ اللہ پاک ہمیں انکی محبت نصیب فرمائے۔ آمین

والدین کے شان

والدین کی شان میں رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

 ( وَوَصَّیۡنَا الْاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ ۚ حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَہۡنًا عَلٰی وَہۡنٍ وَّ فِصٰلُہٗ فِیۡ عَامَیۡنِ اَنِ اشْکُرْ لِیۡ وَ لِوَالِدَیۡکَ  )

تاکید کی ہم نے آدمی کو اس کے ماں باپ کے حق میں کہ پیٹ میں رکھا اسے اس کی ماں نے سختی پر سختی اٹھا کر، اور اس کا دودھ چُھٹنا دوبرس میں ہے ، یہ کہ حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا۔(5) پ۲۱، لقمان: ۱۴۔

 ( وَ وَصَّیۡنَا الْاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ اِحْسٰنًا ؕ حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ کُرْہًا وَّ وَضَعَتْہُ کُرْہًا ؕ وَ حَمْلُہٗ وَ فِصٰلُہٗ ثَلٰثُوۡنَ شَہۡرًا  )

اور ہم نے تاکید کی آدمی کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کی، اسے پیٹ میں رکھے رہی اس کی ماں تکلیف سے ، اور اسے جنا تکلیف سے ، اوراس کا پیٹ میں رہنا اور دودھ چھٹنا تیس مہینے میں ہے۔(6) پ۲۶، الاحقاف: ۱۵۔

    اس آیہ کریمہ میں رب العزت نے ماں باپ دونوں کے حق میں تاکید فرما کر ماں کو پھرخاص الگ کر کے گِنا اور اس کی ان سختیوں اور تکلیفوں کو جو اسے حمل و ولادت اور دو برس تک اپنے خون کا عطر پلانے میں(7)خون کا نچوڑ یعنی دودھ پلانے میں پیش آئیں۔ جن کی و جہ سے ماں کاحق بہت زیادہ اور عظیم تر ہو گیا۔ شمار فرمایا۔

اولاد پر باپ کا حق زیادہ ہے یا ماں کا؟

اولاد پر ماں باپ کا حق نہایت عظیم ہے اور ماں کاحق اس سے عظیم تر۔

 یہاں ماں باپ کے حق کی کوئی حد و انتہا نہ رکھی کہ انہیں اپنے حق جلیل کے ساتھ شمار کیا، فرماتا ہے: شکر بجالا میرا اور اپنے ماں باپ کا، اللہ أکبر۔ مذکورہ بالا دونوں آیتیں اور اسی طرح بہت حدیثیں دلیل ہیں کہ ماں کا حق، باپ کے حق سے زائد ہے۔

ام المؤمنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: میں نے حضور اقدس ﷺسے عرض کی: عورت پر سب سے بڑا حق کس کا ہے ؟ فرمایا: شوہر کا ، میں نے عرض کی: اور مرد پر سب سے بڑا حق کس کا ہے؟ فرمایا: اس کی ماں کا۔ (8)المستدرک علی الصحیحین، کتاب البرّ والصلۃ، باب بر أمّک ثمّ أباک ثمّ الأقرب فالأقرب، ج۵، ص۲۰۸، الحدیث: ۷۳۲۶۔

ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص نے خدمت اقدس ﷺ میں حاضر ہو کر عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! سب سے زیادہ کون اس کا مستحق ہے کہ میں اس کے ساتھ نیک رفاقت کروں؟ فرمایا: تیری ماں، عرض کی: پھر ، فرمایا: تیری ماں، عرض کی: پھر، فرمایا: تیری ماں، عرض کی:پھر، فرمایا: تیرا باپ(9)صحیح البخاري، کتاب الأدب، باب من أحقّ الناس بحسن الصحبۃ، ج۴، ص۹۳، الحدیث: ۵۹۷۱۔

ماں کو اہمیت دینے سے مراد

ماں کو ترجیح دینے سے مراد یہ ہے کہ خدمت میں مثلاً : ماں باپ دونوں نے ایک ساتھ پانی مانگا تو پہلے ماں کو پلائے پھر باپ کو، یا دونوں سفر سے آئے ہیں پہلے ماں کے پاؤں دبائے پھر باپ کے، نہ یہ کہ اگر والدین میں باہم جھگڑا ہو تو ماں کا ساتھ دے کر معاذ اللہ! باپ کے لیے تکلیف کا باعث ہو۔ باپ کو تکلیف پہنچانے کی کوشش یا اس پر کسی طرح سختی کرے یا اسے جواب دے یا بے ادبانہ آنکھ ملا کر بات کرے، یہ سب باتیں حرام، اللہ پاک کی نافرمانی ہیں۔

والدین کے جھگڑے میں کس کا ساتھ دے؟

اللہ پاک کی نافرمانی میں نہ ماں کی اطاعت ہے نہ باپ کی، تو اسے ماں باپ میں سے کسی کا ایسا ساتھ دینا ہر گز جائز نہیں، وہ دونوں اس کی جنت و نار ہیں۔ جسے ایذا دے گا دوزخ کا مستحق ہو گا۔ خدا کی پناہ

معصیت خالق میں کسی کی اطاعت نہیں، اگر مثلاً ماں چاہتی ہے کہ یہ باپ کو کسی طرح کا دکھ یا تکلیف پہنچائے اور یہ نہیں مانتا تو وہ ناراض ہوتی ہے۔ ہونے دے اور ہر گز نہ مانے۔ ایسے ہی باپ کی طرف سے ماں کے معاملے میں کرے۔

جب آدمی کیلئے والدین میں سے ہر ایک کے حق کی رعایت مشکل ہو جائے مثلاً ایک کی رعایت سے دوسرے کو تکلیف پہنچتی ہے تو تعظیم واحترام میں والد کے حق کی رعایت کرے اور خدمت میں والدہ کے حق کی۔ احترام میں باپ مقدم ہے اور خدمت میں والدہ مقدم ہو گی حتّٰی کہ اگر گھر میں دونوں اس کے پاس آئے ہیں تو باپ کی تعظیم کے لئے کھڑا ہو اور اگر دونوں نے اس سے پانی مانگا اور کسی نے اس کے ہاتھ سے پانی نہیں پکڑا تو پہلے والدہ کو پیش کرے۔(10) الفتاوی العالمکیریۃ، ج۵، ص۳۶۵

باپ کا حق

باپ کا نافرمان فاسق، فاجر، مرتکب کبائر، عاق ہے اور اسے سخت عذاب وغضب الٰہی کا استحقاق(11)سخت عذاب اور غضب کا مستحق، باپ کی نافرمانی اللہ جبار وقہار کی نافرمانی ہے اور باپ کی ناراضی اللہ جبار وقہار کی ناراضی ہے ، آدمی ماں باپ کو راضی کرے تو وہ اس کے جنت ہیں اور ناراض کرے تو وہی اس کے دوزخ ہیں۔

جب تک باپ کو راضی نہ کریگا اس کا کوئی فرض ، کوئی نفل ، کوئی عمل نیک اصلاً قبول نہ ہوگا(12)کوئی نیک کام ہر گز قبول نہیں ہوگا۔عذابِ آخرت کے علاوہ دنیا میں ہی جیتے جی سخت بلا نازل ہوگی مرتے وقت معاذ اللہ کلمہ نصیب نہ ہونے کا خوف ہے۔

والدین کی شان میں احادیث مبارکہ

اپنے اندر والدین کے حقوق کی اہمیت پیدا کرنے کے لیے چند فرامین آخری نبی ﷺ ملاحظہ فرمائیں:

  • اللہ کی رضا والد کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضی والد کی ناراضی میں ہے۔ (13)سنن الترمذي، ج۳، ص۳۶۰، الحدیث: ۱۹۰۷۔
  • ماں باپ تیری جنت اور تیری دوزخ ہیں ۔(14)سنن ابن ماجہ، ج۴، ص۱۸۶، الحدیث: ۳۶۶۲۔
  • والد جنت کے سب دروازوں میں بیچ کا دروازہ ہے اب تُو چاہے تو اس دروازے کو اپنے ہاتھ سے کھو دے خواہ نگاہ رکھ۔(15)سنن الترمذي، ج۳، ص۳۵۹، الحدیث: ۱۹۰۶
  • تین اشخاص جنت میں نہ جائیں گے: ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا اور دیّوث(16)وہ شخص جو اس بات کی پرواہ نہ کرے کہ اس کی بیوی کس کس غیر مرد سے ملتی ہے۔ اور وہ عورت کہ مردانی وضع بنائے۔(17)المستدرک علی الصحیحین، ج۱، ص۲۵۲، الحدیث: ۲۵۲۔
  • تین شخصوں کا کوئی فرض ونفل اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا: عاق اور صدقہ دے کر احسان جتانے والا اور ہر نیکی وبدی کو تقدیرِ الہی سے نہ ماننے والا۔(18)”السنۃ“ لابن أبی عاصم’ الحدیث: ۳۳۲ ،ص۷۳۔
  • سب گناہوں کی سزا اللہ پاک چاہے تو قیامت کے لئے اٹھا رکھتا ہے مگر ماں باپ کی نافرمانی کہ اس کی سزا جیتے جی پہنچاتا ہے۔(19)المستدرک علی الصحیحین،ج۵، ص ۲۱۶، الحدیث:۷۳۴۵۔

اللہ پاک ہمیں والدین کے حقوق کو صحیح معنوں میں پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

حوالہ جات[+]

توجہ فرمائیں! اس ویب سائیٹ میں اگر آپ کسی قسم کی غلطی پائیں تو ہمیں ضرور اطلاع فرمائیں۔ ہم آپ کے شکر گزار رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں