اگر کوئی شخص امام کے ساتھ قیام کی حالت میں نہ پہنچ سکے لیکن رکوع میں شامل ہو جائے، تو اس شخص کی وہ رکعت شمار ہو جائے گی۔
رکوع پانے والا رکعت پانے والا شمار ہوگا
آپ کی یہ رکعت اس صورت میں بھی شمار ہو جائے گی جب آپ امام کے ساتھ بہت کم مقدار میں شریک ہوئے ہوں، یعنی امام کے رکوع سے اٹھنے سے پہلے آپ کے ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ چکے ہوں، تو آپ رکوع پانے والے شمار ہوں گے اور آپ کو وہ رکعت مل جائے گی، چاہے آپ کچھ بھی نہ پڑھ پائے ہوں۔
فقہی حوالہ
مشہور و معروف کتاب فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
ترجمہ: “کسی نے امام کو رکوع میں پایا اور کھڑے ہو کر تکبیر کہی پھر رکوع کے لیے جھکنا شروع ہوا اور ادھر امام رکوع سے اٹھنا شروع ہوا تو صحیح یہی ہے کہ وہ اس رکعت کو شمار کرے گا جبکہ امام کے سیدھے کھڑے ہونے سے پہلے رکوع میں مشارکت ہو جائے اگرچہ قلیل ہی ہو۔”
حوالہ جات
| 1↑ | فتاویٰ عالمگیری، کتاب الصلاۃ، باب ادراک الفریضۃ، ج 1، ص 120، دار الفکر، بیروت |
|---|