دورانِ نماز یا نماز سے باہر قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے “ض” کو قصداً (جان بوجھ کر) دال، دواد، یا ظا پڑھنا ناجائز، حرام اور سخت گناہ ہے۔
دوران نماز لفظ “ضاد” کو دال یا “ظا” پڑھنا
کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا اور قرآن کریم میں تحریف (یعنی تبدیلی) پائی جاتی ہے۔
جان بوجھ کر غلط ادائیگی کا حکم:
جو شخص جان بوجھ کر ایسی تبدیلی کرے تو اس کی نماز سورہ فاتحہ کے اختتام تک بھی نہ پہنچے گی۔ بلکہ “مغضوب” کی جگہ “مغدوب” یا “مغظوب” کہتے ہی نماز بلاشک فاسد اور باطل ہو جائے گی۔
غیر ارادی یا غلطی سے ادائیگی کا حکم:
اور جو شخص اپنی طرف سے اصل حرف “ضاد” ہی ادا کرنے کا قصد و ارادہ کرے اور اسی حرف “ضاد” کو ادا کرنا چاہے لیکن زبان کی لغزش، جہالت، یا سہو کی وجہ سے دوسرا لفظ ادا ہو گیا، تو اب ایسی صورت میں یہ تبدیلی اگر نماز کی تلاوت میں ایسی جگہ پر ہے کہ وہاں معنی فاسد ہو گا، تو اس کی وجہ سے نماز بھی فاسد ہو جائے گی، جیسے کہ “مغضوب” کو “مغظوب” یا “مغدوب” پڑھنے کی صورت میں معنی فاسد ہو جاتے ہیں تو اس طرح پڑھتے ہی نماز فاسد ہو جائے گی۔
صحیح ادائیگی کی اہمیت:
لہٰذا سب سے اہم اور ضروری ہے کہ اس حرف “ض” کو اس کے اپنے ہی مخرج سے ادا کیا جائے اور پوری محنت کے ساتھ اس کو سیکھنے کی کوشش کی جائے اور کسی صحیح قراءت کرنے والے قاری کو سنایا جائے۔
اسی طرح اگر کوئی امام “ض” کو “ظا” یا “دواد” پڑھتا ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں۔