300 آدمی سور بن گئے!

300 aadmi Soor ban gaye

حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام کی خدمت میں حواریوں نے عرض کی، کہ (کیا) آپ کا ربّ عزوجل آپ کی دعا سے یہ کرم نوازی فرما دیگا کہ ہم پر آسمان سے غیبی دسترخوان نعمتوں سے بھرا ہوا اتارے؟ اس پر حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام نے فرمایا، ایسے سوالات نہ کرو ، اللہ عزوجل سے ڈرو، منہ مانگے معجزات نہ مانگو اگر تم مومن ہو تو اس سے باز آ جاؤ ۔ انہوں نے جواباً عرض کی، حضور والا! ہمارا یہ معروضہ آپ کی نبوت یا ربّ تعالیٰ کی قدرت کاملہ میں کسی شک وشبہ کی بنا پر نہیں بلکہ اس کے چار مقصد ہیں:

  1. ایک یہ کہ ہم وہ غیبی کھانا کھائیں، برکت حاصل کریں، اس سے ہمارے دل منوّر ہو جائیں، ہم کو قرب خداعزوجل اور زیادہ حاصل ہو جائے،
  2. دوسرے یہ کہ آپ علیہ السلام نے جو ہم سے وعدہ فرمایا ہے کہ تم لوگ مقبول الدعا ہو، ربّ تعالیٰ تمہاری مانتا ہے اس کا ہم کو عین الیقین حاصل ہو جائے دل ہمارے مطمئن ہو جائیں ہم کو اپنے کامل الایمان ہونے پر اطمینان ہو جائے،
  3. تیسرے یہ کہ ہم کو آپ علیہ السلام کی صداقت عین الیقین سے معلوم ہو جائے،
  4. چوتھے یہ کہ ہم اس آسمانی معجزے کا مشاہدہ کر لیں اور دوسروں کے لیے ہم عینی گواہ بن جائیں نیز تا قِیامت لوگوں کے لیے ہمارا یہ واقعہ کمال ایمان کا باعث بنے ہم آپ کے زندہ و جاوید گواہ بن جاویں۔

حضرت عیسی علیہ السلام کی دعا سے آسمان سے دستر خوان اتر آیا

حضرت سلمان فارسی و عبداللہ ابن عباّس و جَمہور مفسرین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعين کا قول یہ ہے کہ جب حواریوں نے حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام کو ہر طرح کا اطمینان دلایا کہ ہم یہ خوان محض شوق یا تفریح کیلئے نہیں مانگتے بلکہ اس میں ہمارے دینی مقاصد ہیں۔ تب حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام نے ٹاٹ کا لباس پہنا اور رو رو کر دعا کی: ۔

اَللّٰہُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلْ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ تَکُوۡنُ لَنَا عِیۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَ اٰیَۃً مِّنۡکَ ۚ وَارْزُقْنَا وَاَنۡتَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ ﴿۱۱۴﴾

ترجمہ کنز الایمان: اے اللہ! اے رب ہمارے !ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلوں پچھلوں کی اور تیری طرف سے نشانی اور ہمیں رزق دے اور تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔(1) پ ۷ المائدہ ۱۱۴

چنانچِہ سرخ رنگ کا دسترخوان بادلوں میں ڈھکا ہوا آیا، یہ تمام لوگ اسے اترتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ یہ دسترخوان مع بادلوں کے آہِستہ آہِستہ نیچے اترا یہاں تک کہ لوگوں کے درمِیان رکھ دیا گیا۔ حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام اِس دسترخوان کو دیکھ کر بہت روئے اور دعا کی، مولیٰ! مجھے شاکرین سے بنا ، الہٰی! اسے ان حواریوں کے لئے رحمت بنا، عذاب نہ بنا۔ حواریوں نے اس سے ایسی خوشبو محسوس کی جو اس سے پہلے کبھی نہ کی تھی۔ حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام اور حواری سجدہ شکرمیں گر گئے۔ حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام نے فرمایا، کہ اسے کون کھولے گا؟ یہ خوان سرخ غلاف سے ڈھکا ہوا تھا۔ تمام نے عرض کی، حضور ! آپ ہی کھولیں۔

اس دسترخوان میں کیا تھا؟

چنانچِہ حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام نے تازہ وضو کیا نوافل پڑھے، دیر تک دعائیں مانگیں، پھر دسترخوان سے غلاف ہٹایا، اس میں یہ چیزیں تھیں:۔

سات مچھلیاں،سات روٹیاں، ان مچھلیوں پر سِنّے نہ تھے، اندر کانٹا نہ تھا۔ اس سے روغن ٹپک رہا تھا ان کے سروں کے آگے سِرکہ دُم کی طرف نمک آس پاس سبزیاں۔ بعض روایات میں ہے کہ پانچ روٹیاں تھیں ۔ ایک روٹی پر زیتون دوسری پر شہد تیسری پر گھی چوتھی پر پَنیر۔ پانچویں پر بُھنا ہوا گوشت ۔

شمعون حواری نے پوچھا کہ اے روح اللہ! یہ کھانا جنت کا ہے یا زمین کا؟ فرمایا، نہ زمین کا نہ جنت کا، یہ محض قدرتی ہے۔ اوّلاً بیمار و فقراء، فاقہ مست، برص و جذام والے اور اپاہج بلائے گئے۔ آپ نے فرمایا، بسمِ اللہ پڑھ کر کھاؤ تمہارے لئے مبارک ہے اورمنکرین کے لئے بلا۔ پھر دوسرے لوگوں سے بھی یہی فرمایا، چنانچِہ پہلے دن سات ہزار تین سو آدمیوں نے کھایا، پھر وہ خوان اٹھا، لوگ دیکھتے رہے، اڑتا ہوا ان کی نگاہوں سے غائب ہو گیا۔ تمام بیمار مصیبت زدہ اچّھے تندرست ہو گئے فقراء غنی(2)یعنی غریب مالدارہو گئے پھر یہ خوان چالیس دن مسلسل یا ایک دن کے بعد ایک دن آتا رہا، لوگ کھاتے رہے۔ پھرحضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام پر وحی آئی کہ اب اس سے صرف فقراء کھائیں کوئی غنی نہ کھائے۔

تین سو آدمی سور بن گئے

جب یہ اعلان ہوا تو اغنیاء(3)یعنی مالدار لوگناراض ہو گئے اور بولے کہ یہ محض جادو ہے! یہ منکرین(4)یعنی انکار کرنے والےتین سو آدمی تھے یہ لوگ شب کو اپنے بال بچّوں میں بخیریت سوئے مگر صبح کو اٹھے تو سور تھے راستوں میں بھاگتے پھرتے تھے گندگی پاخانہ کھاتے تھے۔ جب لوگوں نے ان کا حال یہ دیکھا تو حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام کے پاس بھاگے آئے، بہت روئے، یہ سور بھی آ پ کے گرد جمع ہو گئے اور روتے تھے۔ حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام انہیں نام بنام پکارتے تھے یہ جواب میں سر ہِلاتے تھے مگر بول نہ سکتے تھے۔ تین دن نہایت ذلّت و خواری سے جیئے، چوتھے دن سب کے سب ہلاک ہو گئے ان میں کوئی عورت یا بچّہ نہ تھا سب مرد تھے۔

جن قوموں کو دنیا میں مسخ کیا گیا کیا انکی نسل باقی ہے؟

جتنی قومیں دنیا میں مسخ کی گئیں وہ ہلاک کر دی گئیں ان کی نسل نہ چلی یہ قانون قدرت ہے۔(5)مُلخصاَالتفسیر الکبیر ج۴ص۴۶۳وغیرہ ترمِذی شریف کی حدیث میں ہے، نبی کریم ﷺ کا ارشاد عبرت بنیاد ہے، آسمان سے روٹی اور گوشت کا خوان نازل کیا گیا اور حکم دیا گیا کہ نہ خیانت کریں نہ دوسرے دن کے لیے بچا کر رکھیں، پس انہوں نے خیانت کی اوردوسرے دن کیلئے جمع بھی کیا توانہیں بندر اور خنزیر کی شکل کردیا گیا۔(6)جامِعِ ترمذی ج۵ص۴۴حدیث ۳۰۷۲

ان لوگوں کو تاکید کی گئی تھی کہ اس خوان میں سے کل کے لیے بچا کر چھپا کر نہ رکھیں بعض لوگوں نے کَل کے لیے بچایا وہ سور بنا دیئے گئے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا فرمان ہے، قِیامت میں سخت عذاب، دسترخوان والے عیسائیوں، فرعونی لوگوں اور منافقوں کو ہو گا۔(7)ا لدرُالمَنثورج۳ص۲۳۷

کیا سور کا نام لینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام کی شان عظمت نشان آپ نے دیکھی ! آپکی دعا سے اللہ پاک نے نعمتوں بھرا مائدہ(8)یعنی دسترخواننازِل فرما دیا۔ دنیا میں جو بھی نعمت ملتی ہے عموماً اس میں زحمت بھی ہوتی ہے۔ شکرانِ نِعمت کرنے والے کامیاب اور کفرانِ نِعمت کرنے والے ناکام ہو جاتے ہیں۔ نعمتوں کی فراوانیوں کو دیکھ کر نافرمانیوں پر اتر آنے والے انجام کار ذلیل و خوار ہوتے ہیں جیسا کہ اس قراٰنی حکایت سے معلوم ہوا کہ 300 نافرمان سور(9)خنزیرکی شکل میں متشکل ہو گئے اور تین دن تک دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پھرے اور چوتھے دن ذلت کے ساتھ موت کے گھاٹ اتر گئے۔

ہم اللہ پاک کی اس کے قہر و غضب سے پناہ مانگتے ہیں۔ بعض لوگوں کو یہ وہم ہوتا ہے کہ “سور” یا خنزیر کا نام لینے سے زبان ناپاک ہو جاتی اور وضو ٹوٹ جاتا ہے! یہ سرا سر غلط فہمی ہے۔ خنزیر کا لفظ قراٰن کریم میں بھی موجود ہے۔ لہٰذا یہ لفظ بولنے سے نہ زبان ناپاک ہوتی ہے اورنہ ہی وضو ٹوٹتا ہے۔

حوالہ جات   [ + ]

اپنا تبصرہ بھیجیں