ماضی قریب میں کچھ افراد نے اس اجماعی مسئلے کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی اور نبی کریم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا انکار کر کے گمراہی اختیار کی، جبکہ نبی کریم ﷺ نے خود اس حیات کی صراحت فرمائی ہے۔
قرآن مجید سے دلیل
اور جو اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں، انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تمہیں خبر نہیں۔ (1)
امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ شہداء زندہ ہوتے ہیں، انبیاء کرام علیہم السلام تو شہداء سے بھی اعلیٰ مقام رکھتے ہیں، اس لیے وہ بدرجہ اولیٰ زندہ ہیں (2)۔
احادیث مبارکہ سے دلائل
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
جمعہ کے دن مجھ پر درود کی کثرت کیا کرو، کیونکہ یہ دن فرشتوں کے حاضر ہونے کا دن ہے، جو بھی مجھ پر درود بھیجتا ہے، وہ مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔
عرض کیا گیا: یا رسول اللہ ﷺ! وفات کے بعد بھی؟ فرمایا:
جی ہاں! وفات کے بعد بھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کے جسموں کو کھانا حرام فرما دیا ہے، پس اللہ کا نبی زندہ ہے، رزق دیا جاتا ہے۔ (3)
علمائے اہل سنت کا اجماعی موقف
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
“حیات انبیاء علیہم السلام کا منکر گمراہ بددین ہے… انبیاء علیہم السلام سب بجیاتِ حقیقی دنیاوی جسمانی زندہ ہیں…”
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں۔ (4)
خلاصہ
امت مسلمہ اور علمائے اہل سنت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام اپنی قبور میں جسمانی طور پر زندہ ہیں۔ اس عقیدے کا انکار کرنا گمراہی، بددینی اور اہل سنت سے خروج کا سبب ہے۔