مکہ مکرمہ کیوں کر آباد ہوا

مکہ مکرمہ کیوں کر آباد ہوا

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام سرزمین شام میں حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کے شکم مبارک سے پیدا ہوئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی حضرت سارہ کے کوئی اولاد نہ تھی۔ اس لئے انہیں رشک پیدا ہوا اور انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ آپ حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کے بیٹے اسمٰعیل علیہ السلام کو میرے پاس سے جدا کر کے کہیں دور کردیجئے۔ خداوند قدوس کی حکمت نے ایک سبب پیدا فرمادیا۔ چنانچہ آپ پر وحی نازل ہوئی کہ آپ حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور اسمٰعیل علیہ السلام کو اُس سرزمین میں چھوڑ آئیں جہاں بے آب و گیاہ میدان اور خشک پہاڑیوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو ساتھ لے کر سفر فرمایا۔ اور اُس جگہ آئے جہاں کعبہ معظمہ ہے۔ یہاں اس وقت نہ کوئی آبادی تھی نہ کوئی چشمہ ،نہ دور دور تک پانی یا آدمی کا کوئی نام و نشان تھا۔ ایک توشہ دان میں کچھ کھجوریں اور ایک مشک میں پانی حضرت ابراہیم علیہ السلام وہاں رکھ کر روانہ ہو گئے۔ حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فریاد کی کہ اے اللہ عزوجل کے نبی اس سنسان بیابان میں جہاں نہ کوئی مونس ہے نہ غم خوار، آپ ہمیں بے یارومددگار چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں؟ کئی بار حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ کو پکارا مگر آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آخر میں حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے سوال کیا کہ آپ اتنا فرما دیجئے کہ آپ نے اپنی مرضی سے ہمیں یہاں لا کر چھوڑا ہے یا خداوند قدوس کے حکم سے آپ نے ایسا کیا ہے؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے ہاجرہ ! میں نے جو کچھ کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیا ہے۔ یہ سن کر حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ اب آپ جایئے، مجھے یقین کامل اورپورا پورا اطمینان ہے کہ خداوند کریم مجھ کو اور میرے بچے کو ضائع نہیں فرمائے گا۔
اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک لمبی دعا مانگی اور وہاں سے ملک شام چلے آئے۔ چند دنوں میں کھجوریں اور پانی ختم ہوجانے پر حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر بھوک اور پیاس کا غلبہ ہوا اور ان کے سینے میں دودھ خشک ہوگیا اور بچہ بھوک و پیاس سے تڑپنے لگا۔ حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پانی کی تلاش و جستجو میں سات چکر صفا مروہ کی دونوں پہاڑیوں کے لگائے مگر پانی کا کوئی سراغ دور دور تک نہیں ملا۔ یہاں تک کہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام پیاس کی شدت سے ایڑیاں پٹک پٹک کر رو رہے تھے۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کی ایڑیوں کے پاس زمین پر اپنا پیر مار کر ایک چشمہ جاری کردیا۔ اور اس پانی میں دودھ کی خاصیت تھی کہ یہ غذا اور پانی دونوں کا کام کرتا تھا۔ چنانچہ یہی زمزم کا پانی پی پی کر حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام زندہ رہے۔ یہاں تک کہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام جوان ہو گئے اور شکار کرنے لگے تو شکار کے گوشت اور زمزم کے پانی پر گزر بسر ہونے لگی۔ پھر قبیلہ جر ہم کے کچھ لوگ اپنی بکریوں کو چراتے ہوئے اس میدان میں آئے اور پانی کا چشمہ دیکھ کر حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی اجازت سے یہاں آباد ہو گئے اور اس قبیلہ کی ایک لڑکی سے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی شادی بھی ہو گئی۔ اور رفتہ رفتہ یہاں ایک آبادی ہو گئی۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خداوند قدوس کا یہ حکم ہوا کہ خانہ کعبہ کی تعمیر کریں۔ چنانچہ آپ نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی مدد سے خانہ کعبہ کو تعمیر فرمایا۔ اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد اور باشندگانِ مکہ مکرمہ کے لئے جو ایک طویل دعا مانگی۔ وہ قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں مذکور ہے۔ چنانچہ سورہ ابراہیم میں آپ کی اس دعا کا کچھ حصہ اس طرح مذکور ہے۔
 

رَبَّنَاۤ اِنِّیۡۤ اَسْکَنۡتُ مِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ بِوَادٍ غَیۡرِ ذِیۡ زَرْعٍ عِنۡدَ بَیۡتِکَ الْمُحَرَّمِ ۙ رَبَّنَا لِیُـقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہۡوِیۡۤ اِلَیۡہِمْ وَارْزُقْہُمۡ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمْ یَشْکُرُوۡنَ ﴿37﴾

ترجمہ کنزالایمان:۔اے میرے رب میں نے اپنی کچھ اولاد ایک نالے میں بسائی جس میں کھیتی نہیں ہوتی تیرے حرمت والے گھر کے پاس اے ہمارے رب اس لئے کہ وہ نماز قائم رکھیں تو تو لوگوں کے کچھ دل ان کی طرف مائل کردے اور انہیں کچھ پھل کھانے کو دے شاید وہ احسان مانیں۔ (پ13،ابراہیم:37)
یہ مکہ مکرمہ کی آبادی کی ابتدائی تاریخ ہے جو قرآن مجید سے ثابت ہوئی ہے۔
دعاء ابراہیمی کا اثر:۔ اس دعا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خداوند قدوس سے دو چیزیں طلب کیں ایک تو یہ کہ کچھ لوگوں کے دل اولاد ابراہیم علیہ السلام کی طرف مائل ہوں اور دوسرے ان لوگوں کو پھلوں کی روزی کھانے کو ملے۔ سبحان اللہ عزوجل آپ کی یہ دعائیں مقبول ہوئیں۔ چنانچہ اس طرح لوگوں کے دل اہل مکہ کی طرف مائل ہوئے کہ آج کروڑہا کروڑ انسان مکہ مکرمہ کی زیارت کے لئے تڑپ رہے ہیں اور ہر دور میں طرح طرح کی تکلیفیں اٹھا کر مسلمان خشکی اور سمندر اور ہوائی راستوں سے مکہ مکرمہ جاتے رہے۔ اور قیامت تک جاتے رہیں گے اور اہل مکہ کی روزی میں پھلوں کی کثرت کا یہ عالم ہے کہ باوجودیکہ شہر مکہ اور اس کے قرب و جوار میں کہیں نہ کوئی کھیتی ہے نہ کوئی باغ باغیچہ ہے۔ مگر مکہ مکرمہ کی منڈیوں اور بازاروں میں اس کثرت سے قسم قسم کے میوے اور پھل ملتے ہیں کہ فرط تعجب سے دیکھنے والوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ”طائف” کی زمین میں ہر قسم کے پھلوں کی پیداوار کی صلاحیت پیدا فرما دی ہے کہ وہاں سے قسم قسم کے میوے اور پھل اور طرح طرح کی سبزیاں اور ترکاریاں مکہ معظمہ میں آتی رہتی ہیں اور اس کے علاوہ مصر و عراق بلکہ یورپ کے ممالک سے میوے اور پھل بکثرت مکہ مکرمہ آیا کرتے ہیں۔ یہ سب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاؤں کی برکتوں کے اثرات و ثمرات ہیں جو بلاشبہ دنیا کے عجائبات میں سے ہیں۔
اس کے بعد آپ نے یہ دعا مانگی جس میں آپ نے اپنی اولاد کے علاوہ تمام مومنین کے لئے بھی دعا مانگی۔
 
رَبِّ اجْعَلْنِیۡ مُقِیۡمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ ٭ۖ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ ﴿40﴾رَبَّنَا اغْفِرْ لِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیۡنَ یَوْمَ یَقُوۡمُ الْحِسَابُ ﴿٪41﴾ (پ13،ابرٰھیم:40،41

ترجمہ کنزالایمان:۔اے میرے رب مجھے نماز کاقائم کرنے والا رکھ اور کچھ میری اولاد کو اے ہمارے رب اور میری دعا سن لے اے ہمارے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور سب مسلمانوں کو جس دن حساب قائم ہو گا۔
درسِ ہدایت:۔اس واقعہ سے دو باتیں خاص طور پر معلوم ہوئیں:۔
(۱)حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے رب تعالیٰ کے بہت ہی اطاعت گزار اور فرماں بردار تھے کہ وہ بچہ جس کو بڑی بڑی دعاؤں کے بعد بڑھاپے میں پایا تھا جو آپ کی آنکھوں کا نور اور دل کا سرور تھا، فطری طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام اس کو کبھی اپنے سے جدا نہیں کرسکتے تھے مگر جب اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہو گیا کہ اے ابراہیم! تم اپنے پیارے فرزند اور اس کی ماں کو اپنے گھر سے نکال کر وادیئ بطحا کی اُس سنسان جگہ پر لے جا کر چھوڑ آؤ جہاں سر چھپانے کو درخت کا پتّا اور پیاس بجھانے کو پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ہے، نہ وہاں کوئی یار و مددگار ہے، نہ کوئی مونس و غم خوار ہے۔ دوسرا کوئی انسان ہوتا تو شاید اس کے تصور ہی سے اُس کے سینے میں دل دھڑکنے لگتا، بلکہ شدتِ غم سے دل پھٹ جاتا۔ مگر حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام خدا کا یہ حکم سن کر نہ فکر مند ہوئے، نہ ایک لمحہ کے لئے سوچ بچار میں پڑے، نہ رنج و غم سے نڈھال ہوئے بلکہ فوراً ہی خدا کا حکم بجا لانے کے لئے بیوی اور بچے کو لے کر ملک شام سے سرزمین مکہ میں چلے گئے اور وہاں بیوی بچے کو چھوڑ کر ملک شام چلے آئے۔ اللہ اکبر! اس جذبہ اطاعت شعاری اور جوشِ فرماں برداری پر ہماری جاں قربان!
(۲)حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند حضرت اسمٰعیل علیہ السلام اور اُن کی اولاد کے لئے نہایت ہی محبت بھرے انداز میں اُن کی مقبولیت اور رزق کے لئے جو دعائیں مانگیں۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اپنی اولاد سے محبت کرنا اور اُن کے لئے دعائیں مانگنا یہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کا مبارک طریقہ ہے جس پر ہم سب مسلمانوں کو عمل کرنا ہماری صلاح و فلاح دارین کا ذریعہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

اپنا تبصرہ بھیجیں