اذان و اقامت کا جواب دینا

Azaan o Iqamat ka jawab dena
  1. ایک مرتبہ رسول ِ اکرم ﷺ نے فرمایا،” اے خواتین کے گروہ! جب تم بلال رضی اللہ عنہ کی اذان اور اقامت سنوتو جیسے یہ کہے تم بھی اسی طرح کہہ لیاکرو کہ اللہ عزوجل تمہارے لئے ہر کلمہ کے بدلے ایک لاکھ نیکیاں لکھے گا اور ایک ہزار درجات بلند فرمائے گا اور ایک ہزار گناہ مٹائے گا۔“یہ سن کر عرض کی ،”یہ فضیلت تو عورتوں کے لئے ہے مردوں کیلئے کیاہے؟ “تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا” مردوں کیلئے اس سے دگنا ثواب ہے ۔“
    (کنزالعمال، رقم۲۱۰۰۶ ، ج ۷ ،ص ۲۸۷)
  2. حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک صاحب جن کا بظاہر کوئی بہت بڑا نیک عمل نہ تھا ، وہ فوت ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی موجودگی میں فرمایا :”کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جنت میں داخل کردیا ہے ۔“ اس پر لوگ متعجب ہوئے کیونکہ بظاہر ان کا کوئی بڑا عمل نہ تھا ۔ چنانچہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ ان کے گھر گئے اور ان کی بیوہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ ان کا کوئی خاص عمل ہمیں بتائيے۔ انہوں نے جواب دیا :”اور تو کوئی خاص بڑا عمل مجھے معلوم نہیں ، صرف اتنا جانتی ہوں کہ دن ہویا رات ، جب بھی وہ اذان سنتے تو جواب ضرور دیتے تھے۔ “
    (ملخص من ابن عساکر ،ج۴۰،ص۴۱۲)

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زبان اذان واقامت کا جواب دینے میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ

اپنا تبصرہ بھیجیں