اللہ کے ذکر کی فضیلت

اللہ کے ذکر کی فضیلت

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کے ذکر کی فضیلت بہت زیادہ ہے۔ جو لوگ ذکر اللہ کرتے ہیں وہ اس بات سے خوب واقف ہیں کہ اس سے انسان کو دلی طور پر سکون ملتا ہے۔ اس تحریر میں ہم ذکر کی فضیلت کے ساتھ ساتھ اس سے حاصل ہونے والے فوائد کا تذکرہ بھی کریں گے۔ اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوۡبُہُمۡ بِذِکْرِ اللہِ ؕ اَلَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوۡبُ ﴿ؕ۲۸﴾

واٹس ایپ گروپ (ابھی جوائن کریں) Join Now
یوٹیوب چینل (ابھی سبکرائب کریں) Subscribe

ترجمہ: وہ جو ایمان لائے اوران کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں سن لو اللہ کی یادہی میں دلوں کاچین ہے۔“ (1)

ایک مقام پر ارشاد فرمایا:

فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ

ترجمہ: تو میری یاد کرو میں تمہارا چرچاکروں گا۔“ (2)

ایک اور مقام پر ہے:

وَاذْکُرُوا اللہَ کَثِیۡرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ ﴿ۚ۴۵﴾

ترجمہ: اور اللہ کو بہت یاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ۔“ (3)

اللہ کے ذکر کی فضیلت

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ پاک فرماتا ہے :

”میں اپنے بندے کے اس گمان کے قریب ہوں جو وہ مجھ سے کرتاہے اور جب وہ میرا ذکر کرتاہے تو میں اسکے ساتھ ہوتاہوں تو اگر وہ مجھے تنہائی میں یاد کر تاہے تو میں بھی اسے تنہایا د کرتا ہوں اور اگر وہ میراذکر مجمع میں کرتاہے تو میں اس سے بہتر مجمع میں اسکا ذکر کرتاہوں اگر وہ ایک بالشت مجھ سے قریب ہوتاہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب آتا ہے تو میں اس سے دو ہاتھ قریب ہوجاتا ہوں اور اگر وہ میرے پاس چلتے ہوئے آتا ہے تومیر ی رحمت اس کے پاس دوڑتی ہوئی آتی ہے۔“ (4)

اللہ کا ذکر کرنے والے

فرمان آخری نبی ﷺ ہے:

”فرشتےاللہ کا ذکر کرنے والوں کو راستوں میں تلاش کرتے رہتے ہیں اور جب انہیں ذکرالہی کرنے والے لوگ مل جاتے ہیں، تو نداء کرتے ہیں کہ”آؤ تمہاری مراد پوری ہو گئی، ذکرکرنے والے مل گئے ہیں۔” پھر فرشتے ان ذکر کرنے والوں کو آسمان تک اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں۔ جب یہ فرشتے اللہ پاک کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں تو اللہ پاک ان سے دریافت فرماتا ہے: ”اے میرے فرشتو! میرے بندے کیا کر رہے تھے؟“

حالانکہ وہ فرشتوں سے زیادہ جانتا ہے۔ فرشتے عرض کرتے ہیں، ”یارب! وہ تیری تسبیح و تحمید و تکبیراور تیری بزرگی کا تذکرہ کر رہے تھے۔“ پھر اللہ پاک دریافت فرماتا ہے : ”کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟“ وہ عرض کرتے ہیں:”تیری ذات کی قسم انہوں نے تجھے ہرگز نہیں دیکھا۔“ اللہ پاک فرماتا ہے کہ ”اگر وہ مجھے دیکھ لیتے تو کیا کرتے ؟“ وہ عرض کرتے ہیں: ”پھر تو تیری عبادت و تسبیح وعظمت کا بیان زیادہ کرتے۔“ اللہ پاک فرماتا ہے: ”وہ کیا مانگ رہے تھے؟“ وہ عرض کرتے ہیں: ”یارب! وہ جنت طلب کررہے تھے۔“

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”کیا انہوں  نے جنت کو دیکھا ہے؟“ وہ عرض کرتے ہیں: ”نہیں۔” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو؟” وہ عرض کرتے ہیں:“ تواور زیادہ اس کی حرص وطلب کرتے اور مزیدرغبت رکھتے۔“ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ”وہ کس چیز سے پناہ مانگ رہے تھے؟“ وہ عرض کرتے ہیں: ”یارب کریم! وہ جہنم سے پناہ مانگ رہے تھے۔“ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اگر وہ جہنم کو دیکھ لیتے تو کیا کرتے۔“ وہ عرض کرتے ہیں: ”تو پھر اس سے فرار حاصل کرنے میں اور زیادہ کوشش کرتے اور بہت زیادہ ڈرتے۔“

تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”گواہ ہو جاؤ، میں نے ان لوگوں کی مغفرت فرما دی۔“ ان میں سے ایک فرشتہ عرض کرتا ہے: ”یا الہی! ان میں ایک ایسا شخص بھی تھا، جو ذکر کرنے والوں میں سے نہیں تھا، بلکہ اپنے کسی کام سے آیا تھا اور ان میں بیٹھ گیا تھا۔“ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اے فرشتو!جو ذکر کرنے والوں کے ساتھ بیٹھ جائے، وہ بھی محروم نہیں رہتا۔“ (5)

اعمال میں سے سب سے بہتر

 ایک بار رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دریافت فرمایا:

”کیا میں تمہارے اعمال میں سے ان اعمال کی خبر نہ دوں کہ جواعمال میں سے سب سے بہتر، تمہارے مالک کے نزدیک سب سے زیادہ پاکیزہ، درجات کے لحاظ سے بلند و بالا اور خرچ کے اعتبار سے زر و مال سے بھی بہتر ہیں؟ اور اس سے بھی کہ تم کسی دشمن کا سامنا کرو اور پھر وہ تمہاری گردنیں کاٹ دیں اور تم ان کی گردنیں کاٹ دو؟“ انہوں نے عرض کی:”یا رسول اللہ ﷺ! ضرور خبر دیجئے؟“ فرمایا: ”اللہ پاک کا ذکر کرنا۔“ (6)

اسلام کی بہترین خصلتیں

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ ”اسلام کی بہترین خصلتیں کیا ہیں؟“ فرمایا :”کسی سے دوستی کرو تو اللہ پاک کے لئے اور کسی سے دشمنی کرو تو اللہ کے لئے اور تیری زبان پر اللہ کا ذکر جاری رہے۔“ (7)

دل کی صفائی

حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے: ”ہر شے کے لئے کوئی نہ کوئی صفائی کرنے والی شے ہوتی ہے اور دلوں کی صفائی اللہ کے ذکر سے ہوتی ہے۔“ (8)

حضرت سفیان بن عُیینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ “جب کوئی قوم جمع ہو کراللہ پاک کا ذکر کرتی ہے، تو شیطان اور دنیا اس سے ہٹ جاتے ہیں۔ شیطان، دنیا سے کہتا ہے: ”کیا تو دیکھ نہیں رہی کہ یہ کیا کر رہے ہیں؟“ وہ جواب دیتی ہے:”انہیں چھوڑ دے، کیونکہ جب یہ متفرق ہوں گے، تو میں ان کی گردنیں پکڑ پکڑ کر تیرے پاس لاؤں گی۔“ (9)

اللہ پاک ہمیں اپنی زبان اللہ کے ذکر میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

5/5 - (2 votes)

حوالہ جات

حوالہ جات
1 پ۱۳ ،الرعد :۲۸
2 پ۲ ،البقرۃ :۱۵۲
3 پ۲۸،لجمعۃ:۱۰
4 بخاری ،کتاب التو حید ،باب قول اللہ ویحذرکم اللہ نفسہ ،رقم ۷۴۰۵ ،ج۴ ،ص ۵۴۱
5 مسلم کتاب الذکرو الدعاء، باب فضل مجالس الذکر ،رقم ۲۶۸۹، ص ۱۴۴۴
6 ترمذی، کتاب الدعوات، باب فضل الذکر ،رقم ۳۳۸۷، ج۵ ،ص ۲۴۵
7 مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الایمان، الفصل الثالث ،رقم،۴۸،ج۱،ص۵۷
8 الترغیب والترہیب،کتاب الذکر، رقم ۱۰،ج۲،ص۲۵۴
9 مکاشفۃ القلوب،الباب السابع والاربعون فی فضل ذکر اللہ تعالیٰ، ص۱۷۸

توجہ فرمائیں! اس ویب سائیٹ میں اگر آپ کسی قسم کی غلطی پائیں تو ہمیں ضرور اطلاع فرمائیں۔ ہم آپ کے شکر گزار رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں