Waldain ke Huqooq in Urdu - والدین کے حقوق اور اولاد پر باپ کا حق زیادہ ہے یا ماں کا؟

والدین کے حقوق اور اولاد پر باپ کا حق زیادہ ہے یا ماں کا؟

(بیٹے کوچاہے کہ) والدین کی بات توجہ سے سنے، ماں باپ جب کھڑے ہوں تو تعظیماً اُن کے لئے کھڑا ہوجائے،جب وہ کسی کام کا حکم دیں تو فوراً بجا لائے، ان دونوں کے کھانے پینے کا انتظام وانصرام کرے اورنرم دلی سے ان کے لئے عاجزی کا بازو بچھائے، وہ اگر کوئی بات باربار کہیں تو اُن سے اُکتا نہ جائے، ان کے ساتھ بھلائی کرے تو ان پراحسان نہ جتلائے، وہ کوئی کام کہیں تواُسے پوراکرنے میں کسی قسم کی شرط نہ لگائے، اُن کی طرف حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھے اورنہ ہی کسی معاملے میں ان کی نافرمانی کرے۔چنانچہ

ایک حدیث پاک میں ہے: ایک جوان نزع میں تھا اسے کلمہ کی تلقین کرتے تھے(1)اسے کلمہ طیبہ سکھاتے تھے نہ کہا جاتا تھا یہاں تک کہ حضور اقدس سیّد عالم ﷺتشریف لے گئے اور فرمایا: کہہ : لا إلہ إلا اللہ، عرض کی: نہیں کہا جاتا۔معلوم ہوا کہ ماں ناراض ہے، اسے راضی کیا تو کلمہ زبان سے نکلا۔(2) المسند للامام أحمد بن  حنبل, حديث عبدالصلۃ بن أبی أوفیٰ, رقم ۱۹۴۲۸ ج۷،ص۱۰۵، بتغیر”شعب الایمان “،الخامس والخمسون من شعب الایمان وھو باب فی برّالوالدین، فصل فی عقوق الوالدین وما جاء فیہ،ج۶ص ۱۹۸، الحدیث: ۷۸۹۲۔

آپ نے جانا کہ ماں ناراض تھی تو مرتے وقت کلمہ بھی نہیں کہا جا رہا تھا۔ ماں باپ اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہیں۔ اس کی قدر کریں۔ ان سے پوچھیں جن کی ماں نہیں ہے باپ نہیں ہے۔ یہ ایک ہی بار ملتے ہیں جب دنیا سے چلے جائیں تو انکا مثل دوسرا نہیں ملتا۔ اللہ پاک ہمیں انکی محبت نصیب فرمائے۔ آمین

والدین کی شان میں رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

 ( وَوَصَّیۡنَا الْاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ ۚ حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَہۡنًا عَلٰی وَہۡنٍ وَّ فِصٰلُہٗ فِیۡ عَامَیۡنِ اَنِ اشْکُرْ لِیۡ وَ لِوَالِدَیۡکَ  )

تاکید کی ہم نے آدمی کو اس کے ماں باپ کے حق میں کہ پیٹ میں رکھا اسے اس کی ماں نے سختی پر سختی اٹھا کر، اور اس کا دودھ چُھٹنا دوبرس میں ہے ، یہ کہ حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا۔(3) پ۲۱، لقمان: ۱۴۔

 ( وَ وَصَّیۡنَا الْاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ اِحْسٰنًا ؕ حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ کُرْہًا وَّ وَضَعَتْہُ کُرْہًا ؕ وَ حَمْلُہٗ وَ فِصٰلُہٗ ثَلٰثُوۡنَ شَہۡرًا  )

اور ہم نے تاکید کی آدمی کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کی، اسے پیٹ میں رکھے رہی اس کی ماں تکلیف سے ، اور اسے جنا تکلیف سے ، اوراس کا پیٹ میں رہنا اور دودھ چھٹنا تیس مہینے میں ہے۔(4) پ۲۶، الاحقاف: ۱۵۔

    اس آیہ کریمہ میں ربّ العزت نے ماں باپ دونوں کے حق میں تاکید فرماکر ماں کو پھرخاص الگ کر کے گِنا اور اس کی ان سختیوں اور تکلیفوں کو جو اسے حمل و ولادت اور دو برس تک اپنے خون کا عطر پلانے میں(5)خون کانچوڑیعنی دودھ پلانے میں پیش آئیں جن کے باعث اس کا حق بہُت اشدّ واعظم ہوگیا(6)جن کی و جہ سے ماں کاحق بہُت زیادہ اور عظیم تر ہو گیا۔ شمار فرمایا۔

اولاد پر باپ کا حق زیادہ ہے یا ماں کا؟

اولاد پر ماں باپ کا حق نہایت عظیم ہے اور ماں کاحق اس سے اعظم(7)عظیم تر۔

 یہاں ماں باپ کے حق کی کوئی نہایت(8)حد و انتہا۔ نہ رکھی کہ انہیں اپنے حقِ جلیل کے ساتھ شمار کیا، فرماتا ہے: شکر بجالا میرا اور اپنے ماں باپ کا، اللہ أکبر اللہ أکبر وحسبنا اللہ ونعم الوکیل ولا حول ولا قوّۃ إلاّ باللہ العلیّ العظیم، مذکورہ بالا دونوں آیتیں اور اسی طرح بہت حدیثیں دلیل ہیں کہ ماں کا حق، باپ کے حق سے زائد ہے، ام المؤمنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:

سألت رسول اللہ صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم: أيّ الناس أعظم حقّاً علی المرأۃ؟ قال: زوجھا، قلت: فأيّ الناس أعظم حقّاً علی الرجل؟ قال: أمّہ

یعنی میں نے حضور اقدس ﷺسے عرض کی: عورت پر سب سے بڑا حق کس کا ہے ؟ فرمایا: شوہر کا ، میں نے عرض کی: اور مرد پر سب سے بڑا حق کس کا ہے؟ فرمایا: اس کی ماں کا۔ (9)المستدرک علی الصحیحین، کتاب البرّ والصلۃ، باب بر أمّک ثمّ أباک ثمّ الأقرب فالأقرب، ج۵، ص۲۰۸، الحدیث: ۷۳۲۶۔

    ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

جاء رجل إلی رسول اللہ ﷺ فقال: یا رسول اللہ صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم! من أحقّ الناس بحسن صحابتي؟ قال: أمّک، قال: ثمّ من؟ قال: أمّک، قال: ثم من؟ قال: أمّک، قال: ثم من؟ قال: أبوک

ایک شخص نے خدمتِ اقدس حضور پُر نور صلوات اللہ وسلامہ علیہ میں حاضر ہو کر عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! سب سے زیادہ کون اس کا مستحق ہے کہ میں اس کے ساتھ نیک رفاقت کروں؟ فرمایا: تیری ماں، عرض کی: پھر ، فرمایا: تیری ماں، عرض کی: پھر، فرمایا: تیری ماں، عرض کی:پھر، فرمایا: تیرا باپ(10)صحیح البخاري، کتاب الأدب، باب من أحقّ الناس بحسن الصحبۃ، ج۴، ص۹۳، الحدیث: ۵۹۷۱۔

أوصي الرجل بأمّہ، أوصي الرجل بأمّہ، أوصي الرجل بأمّہ، أوصيالرجل بأبیہ

میں ایک آدمی کو وصیت کرتا ہوں اس کی ماں کے حق میں، وصیت کرتاہوں اس کی ماں کے حق میں، وصیت کرتا ہوں اس کی ماں کے حق میں، وصیت کرتا ہوں اس کے باپ کے حق میں۔(11) المستدرک علی الصحیحین، کتاب البرّ والصلۃ، باب برّ أمّک ثمّ أباک ثمّ الأقرب فالأقرب، ج۵، ص۲۰۸، الحدیث: ۷۳۲۵، إنّ ہذہ الروایۃ بالمعنی واللفظ غیرھا۔

    مگر اس زیادت(12)بار بار وصیّت کرنے کے یہ معنٰی ہیں کہ خدمت میں ، دینے میں باپ پر ماں کو ترجیح دے مثلاًسو روپے ہیں اور کوئی خاص وجہ مانعِ تفضیلِ مادر نہیں(13)ماں کو فوقیت دینے میں ممانعت کی کوئی خاص و جہ نہیں تو باپ کو پچیس دے ماں کو پچھتر، یا ماں باپ دونوں نے ایک ساتھ پانی مانگا تو پہلے ماں کو پلائے پھر باپ کو، یا دونوں سفر سے آئے ہیں پہلے ماں کے پاؤں دبائے پھر باپ کے، (14)اوراسی پر قیاس کرلو۔، نہ یہ کہ اگر والدین میں باہم تنازع(15)باہم جھگڑا۔ ہو تو ماں کا ساتھ دے کر معاذ اللہ! باپ کے درپے ایذا ہو یا اس پر کسی طرح درشتی کرے(16)باپ کو تکلیف پہنچانے کی کوشش یا اس پر کسی طرح سختی کرے یا اُسے جواب دے یا بے ادبانہ آنکھ ملا کر بات کرے، یہ سب باتیں حرام اوراللہ عزوجل کی معصیت(17)نافرمانی ہیں، نہ ماں کی اطاعت ہے نہ باپ کی، تو اسے ماں باپ میں سے کسی کا ایسا ساتھ دینا ہر گز جائز نہیں ، وہ دونوں اس کی جنّت ونار ہیں ، جسے ایذا دے گا دوزخ کا مستحق ہوگا والعیاذ باللہ(18)خدا کی پناہ، معصیتِ خالق میں کسی کی اطاعت نہیں، اگر مثلاً ماں چاہتی ہے کہ یہ باپ کو کسی طرح کا آزار(19)دکھ یاتکلیف پہنچائے اور یہ نہیں مانتا تو وہ ناراض ہوتی ہے، ہونے دے اور ہر گز نہ مانے ، ایسے ہی باپ کی طرف سے ماں کے معاملے میں ۔ انکی ایسی ناراضیاں کچھ قابلِ لحاظ نہ ہوں گی کہ یہ ان کی نِری زیادتی(20)سراسر زیادتی ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی چاہتے ہیں بلکہ ہمارے علمائے کرام نے یوں تقسیم فرمائی ہے کہ خدمت میں ماں کو ترجیح ہے جس کی مثالیں ہم لکھ آئے ہیں، اور تعظیم باپ کی زائد ہے کہ وہ اس کی ماں کا بھی حاکم وآقا ہے۔”عالمگیری” میں ہے:

إذا تعذّر علیہ جمع مراعاۃ حقّ الوالدین بأن یتأذّی أحدھما بمراعاۃ الآخر یرجح حقّ الأب فیما یرجع إلی التعظیم والاحترام وحقّ الأمّ فیما یرجع إلی الخدمۃ والإنعام وعن علاء الأئمّۃ الحمامي قال مشایخنا رحمھم اللہ تعالٰی: الأب یقدم علی الأمّ في الاحترام والأمّ في الخدمۃ حتی لو دخلا علیہ في البیت یقوم للأب ولو سألا منہ مآء ولم یأخذ من یدہ أحدھما فیبدأ بالأمّ کذا في ”القنیۃ”، واللہ سبحانہ وتعالٰی أعلم وعلمہ جلّ مجدہ أحکم۔

جب آدمی کیلئے والدین میں سے ہر ایک کے حق کی رعایت مشکل ہو جائے مثلاًایک کی رعایت سے دوسرے کو تکلیف پہنچتی ہے تو تعظیم واحترام میں والد کے حق کی رعایت کرے اور خدمت میں والدہ کے حق کی۔ علامہ حمامی نے فرمایا ہمارے امام فرماتے ہیں کہ احترام میں باپ مقدم ہے اور خدمت میں والدہ مقدم ہوگی حتّٰی کہ اگر گھر میں دونوں اس کے پاس آئے ہیں تو باپ کی تعظیم کے لئے کھڑا ہو اور اگر دونوں نے اس سے پانی مانگا اور کسی نے اس کے ہاتھ سے پانی نہیں پکڑا تو پہلے والدہ کو پیش کرے ، اسی طرح ”قنیہ“ میں ہے۔(21) الفتاوی العالمکیریۃ، کتاب الکراھیۃ، الباب السادس والعشرون في الرجل یخرج إلی السفر، ج۵، ص۳۶۵۔

باپ کا حق

باپ کا نافرمان فاسق، فاجر، مرتکب کبائر، عاق ہے اور اسے سخت عذاب وغضب الٰہی کا استحقاق(22)سخت عذاب اور غضب کا مستحق، باپ کی نافرمانی اللہ جبار وقہار کی نافرمانی ہے اور باپ کی ناراضی اللہ جبار وقہار کی ناراضی ہے ، آدمی ماں باپ کو راضی کرے تو وہ اس کے جنت ہیں اور ناراض کرے تو وہی اس کے دوزخ ہیں۔جب تک باپ کو راضی نہ کریگا اس کا کوئی فرض ، کوئی نفل ، کوئی عمل نیک اصلاً قبول نہ ہوگا(23)کوئی نیک کام ہر گز قبول نہیں ہوگا۔عذابِ آخرت کے علاوہ دنیا میں ہی جیتے جی سخت بلا نازل ہوگی مرتے وقت معاذ اللہ کلمہ نصیب نہ ہونے کا خوف ہے۔ حدیث میں ہے، رسول اللہ ﷺفرماتے ہیں:

طاعۃ اللہ طاعۃ الوالد ومعصیۃ اللہ معصیۃ الوالد

اللہ کی اطاعت ہے والد کی اطاعت ، اور اللہ کی معصیت ہے والد کی معصیت(24)المعجم الأوسط، من اسمہ أحمد، ج۱، ص۶۱۴، الحدیث: ۲۲۵۵

دوسری حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺفرماتے ہیں:

رضا اللہ في رضا الوالد وسخط اللہ في سخط الوالد

 اللہ کی رضا والد کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضی والد کی ناراضی میں ہے۔ (25)سنن الترمذي، کتاب البرّ والصلۃ، باب ما جاء من الفضل في رضا الوالدین، ج۳، ص۳۶۰، الحدیث: ۱۹۰۷۔

 تیسری حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺفرماتے ہیں:

ھما جنّتک ونارک

ماں باپ تیری جنت اور تیری دوزخ ہیں ۔(26)سنن ابن ماجہ، کتاب الأدب، باب برّ الوالدین، ج۴، ص۱۸۶، الحدیث: ۳۶۶۲۔

    چوتھی حدیث میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:

الوالد أوسط أبواب الجنّۃ فإن شئت فأضع ذلک الباب أو احفظہ

والد جنت کے سب دروازوں میں بیچ کا دروازہ ہے اب تُو چاہے تو اس دروازے کو اپنے ہاتھ سے کھو دے خواہ نگاہ رکھ۔(27)سنن الترمذي، کتاب البرّ والصلۃ، باب ما جاء من الفضل في رضا الوالدین، ج۳، ص۳۵۹، الحدیث: ۱۹۰۶۔

پانچویں حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺفرماتے ہیں:

ثلاثۃ لا یدخلون الجنّۃ: العاق لوالدیہ والدیّوث والرجلۃ من النساء

تین اشخاص جنت میں نہ جائیں گے: ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا اور دیّوث(28)وہ شخص جو اس بات کی پرواہ نہ کرے کہ اس کی بیوی کس کس غیر مرد سے ملتی ہے۔ اور وہ عورت کہ مردانی وضع بنائے۔(29)المستدرک علی الصحیحین، کتاب الإیمان، ثلاثۃ لا یدخلون الجنّۃ، ج۱، ص۲۵۲، الحدیث: ۲۵۲۔

    چھٹی حدیث میں رسول اللہ ﷺفرماتے ہیں:

ثلاثۃ لا یقبل اللہ -عزّ وجل- منھم صرفاً ولا عدلاً: عاق ومنّان ومکذّب بقدر

تین شخصوں کا کوئی فرض ونفل اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا: عاق اور صدقہ دے کر احسان جتانے والا اور ہر نیکی وبدی کو تقدیرِ الہی سے نہ ماننے والا۔(30)”السنۃ“ لابن أبی عاصم’ باب: ما ذکر عن النبی علیہ السلام فی المدذبین بقدر اللہ…الخ، الحدیث: ۳۳۲ ،ص۷۳۔

ساتویں حدیث میں رسول اللہ ﷺفرماتے ہیں:

کلّ الذنوب یؤخّر اللہ منھا ما شآء إلی یوم القیامۃ إلاّ عقوق الوالدین فإنّ اللہ یعجلہ لصاحبہ في الحیاۃ قبل الممات

سب گناہوں کی سزا اللہ تعالیٰ چاہے تو قیامت کے لئے اٹھا رکھتا ہے مگر ماں باپ کی نافرمانی کہ اس کی سزا جیتے جی پہنچاتا ہے۔(31)المستدرک علی الصحیحین، کتاب البرّ والصلۃ ،باب کلّ ذنب یوخّر اللہ ما شاء الاّ عقوق الوالدین،ج۵، ص ۲۱۶، الحدیث:۷۳۴۵۔

حوالہ جات   [ + ]

اپنا تبصرہ بھیجیں