نمازیں قضا کرنا! ان شاء اللہ اگلے جمعہ سے نمازیں پڑھنا شروع کروں گا.

ان شاء اللہ اگلے جمعہ سے نمازیں پڑھنا شروع کروں گا!!!

اے پیارے بھائیو! ہم قیامت کی علامات کے بارے میں سن رہے تھے۔ جو پچھلی تحریروں میں گزر چکیں۔ ہمارے آقا ﷺ نے قیامت کی ایک نشانی یہ بھی بیان فرمائی ہے کہ لوگ نمازیں قضا کریں گے۔ [1]التذکرة باحوال الموتی وامورالاخرة، باب اذا فعلت ھذہ الامة…الخ، ص۵۹۷

آج نمازیں قضا کرنے کے مناظر ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، افسوس صد افسوس! آج ہمارے معاشرے میں صرف سستی اور کاہلی کی وجہ سے آئے دِن نمازیں قضا کردی جاتی ہیں ۔ ایک بہت بڑی تعداد ہے جو نمازیں قضا کر دیتی ہے اور انہیں اس کی کوئی پروا بھی نہیں ہوتی۔

اگلے جمعہ سے نمازیں شروع کروں گا

بعض لوگ تو ایسے بھی ہیں کہ جب اُن کی ایک یا چند نمازیں رہ جائیں تو ہفتوں ہفتوں بلکہ مہینوں مہینوں تک جان بوجھ کر نماز نہیں پڑھتے اور اگر کوئی نمازوں کی ترغیب دِلائے تو کہتے ہیں ”اب اِنْ شَآءَ اللہ اگلے جمعہ سے دوبارہ نمازیں پڑھنا شروع کروں گا یا رمضان سے باقاعدہ نمازوں کا اہتمام کروں گا“ یوں گویا کسی قسم کی شرم و جِھجک کے بِغیر بڑی بہادری کے ساتھ معاذ اللہ اس بات کا اِقرار کِیا جاتا ہے کہ نمازیں ترک کرنے کا یہ کبیرہ گُناہ میں جمعہ کے دن تک یا رمضان المبارک تک مسلسل جاری رکھوں گا۔

یقیناً یہ سب کچھ خوفِ خدا اور شوقِ عِبادت نہ ہونے کا وبال ہے ورنہ جس کے دل میں اللہ پاک کا خوف اور عبادت کا ذوق و شوق ہوتا ہے، وہ ہر حال میں نمازوں کی پابندی کرتا ہے اور اللہ پاک کی نافرمانی سے بچتا ہے۔ ياد رکھیئے! جان بوجھ کر نماز قَضا کرنا گناہ کبیرہ، حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ اللہ پاک پارہ16،سورہ مریم کی آیت نمبر59 میں اِرشاد فرماتاہے:

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ(۵۹)

ترجمہ کنز الایمان: تو اُن کے بعد اُن کی جگہ وہ ناخَلف آئے جنہوں نے نَمازیں گنوائیں(ضائع کیں) اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں’’غَیّ“ کا جنگل پائیں گے۔ [2]پ۱۶، مریم:۵۹

جہنم کی خوفناک وادی کا ہولناک کنواں!

پیارے بھائیوں! بیان کردہ آیت مبارکہ میں’’غَیّ‘‘ کا تذکرَہ ہوا ہے۔ اِس سے مراد جہنم کی ایک وادی ہے۔ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظَمی رحمۃاللّٰہ علیہ فرماتے ہیں: ’’غَیّ‘‘ جہنم میں ایک وادی ہے جس کی گرمی اور گہرائی سب سے زِیادہ ہے، اِس میں ایک کنواں ہے جس کا نام ’’ہَبْ ہب‘‘ہے،جب جہنم کی آگ بجھنے پر آتی ہے، اللہ پاک اس کنویں کو کھول دیتا ہے جس سے وہ[3]یعنی جہنم کی آگ بدستور بھڑکنے لگتی ہے۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا(۹۷)

ترجمۂ کنزالایمان:جب کبھی بجھنے پرآئے گی ہم اُسے اور بھڑکادیں گے۔ [4]پ۱۵، بنی اسرآئیل: ۹۷

یہ کنواں بےنمازیوں اور زانیوں اور شرابِیوں اور سود خوروں اور ماں باپ کو ایذا[5]یعنی تکلیفدینے والوں کے لیے ہے۔[6]بہارِشریعت، ۱/ ۴۳۴،حصہ سوم جبکہ حضر ت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللّٰہ علیہ سورۃ الماعون کی آیت نمبر 5 کے تحت فرماتے ہیں : نماز سے بھولنے کی چند صورتیں ہیں : کبھی نہ پڑھنا ، پابندی سے نہ پڑھنا، صحیح وقت پر نہ پڑھنا، نمازصحیح طریقے سے ادا نہ کرنا، شوق سے نہ پڑھنا، سمجھ بوجھ کرادا نہ کرنا، کسل وسستی، بے پرواہی سے پڑھنا۔[7] نورُ العرفان ص۹۵۸

ثواب کی نیت سے شیئر کرتے جائیں۔۔
Share on Facebook
Facebook
Tweet about this on Twitter
Twitter
Share on Reddit
Reddit
Share on LinkedIn
Linkedin
Buffer this page
Buffer
Digg this
Digg
Share on Tumblr
Tumblr
Share on Yummly
Yummly
Share on VK
VK
Email this to someone
email

حوالہ جات   [ + ]

اپنا تبصرہ بھیجیں