قربانی کے جانور کی عمر بکرا، بکری ایک سال سے، گائے دو سال سے اور اونٹ پانچ سال سے کم عمر کا نہ ہو۔ ہاں! چھ مہینے کا دنبہ یا مینڈھا بھی قربان ہوسکتا ہے جبکہ اتنا موٹا تازہ ہو کہ اسے سال کے دنبوں میں ملا دیں تو دور سے فرق نہ کیا جائے۔
قربانی کے جانور کی شرائط
قربانی درست واقع ہونے کے لیے قربانی کے جانور کو عیب سے خالی ہونا چاہیے۔ تھوڑا سا عیب ہو تو قربانی ہو جائے گی مگر مکروہ ہوگی اور زیادہ عیب ہو تو ہوگی ہی نہیں۔
احادیث اور فقہ کی روشنی میں عیب دار جانوروں کا حکم:
احادیث مبارکہ اور فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق لنگڑا جانور جو کہ لنگڑے پن کے سبب قربان گاہ تک پہنچنے کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو، ایسے جانور کی قربانی شرعاً جائز نہیں۔
نبی کریم ﷺ نے ایسے کانے جانور کی قربانی کرنے سے منع فرمایا ہے جس کا کانا پن ظاہر ہو۔
- وحشی جانور جیسے نیل گائے اور ہرن ان کی قربانی نہیں ہوسکتی۔
- جس کے پیدائشی سینگ نہ ہوں اس کی قربانی جائز ہے اور اگر سینگ تھے مگر ٹوٹ گئے اور جڑ تک ٹوٹ گئے ہیں تو ناجائز ہے، اس سے کم ٹوٹا ہے تو جائز ہے۔
- جس جانور میں جنون ہے، اگر اس حد کا ہے کہ وہ جانور چرتا بھی نہیں ہے تو اس کی قربانی ناجائز ہے اور اگر اس حد کا نہیں ہے تو جائز ہے۔
- خصی (یعنی جس کے خصیے نکال لیے گئے ہیں) یا مجبوب (یعنی جس کے خصیے اور عضو تناسل سب کاٹ لیے گئے ہوں) ان کی قربانی جائز ہے۔
- اتنا بوڑھا کہ بچہ کے قابل نہ رہا یا داغا ہوا جانور یا جس کے دودھ نہ اترتا ہو، ان سب کی قربانی جائز ہے۔
- خارشتی جانور کی قربانی جائز ہے جبکہ فربہ ہو اور اتنا لاغر ہو کہ ہڈی میں مغز نہ رہا تو قربانی جائز نہیں۔
- لنگڑا جو قربان گاہ تک اپنے پاؤں سے نہ جاسکے اور اتنا بیمار جس کی بیماری ظاہر ہو اور جس کے کان یا دم یا چکی کٹے ہوں یعنی وہ عضو تہائی سے زیادہ کٹا ہو، ان سب کی قربانی ناجائز ہے۔
- اور اگر کان یا دم یا چکی تہائی یا اس سے کم کٹی ہو تو جائز ہے۔ جس جانور کے پیدائشی کان نہ ہوں یا ایک کان نہ ہو اس کی ناجائز ہے اور جس کے کان چھوٹے ہوں اس کی جائز ہے۔
- جس جانور کی تہائی سے زیادہ نظر جاتی رہی اس کی بھی قربانی ناجائز ہے۔ اگر دونوں آنکھوں کی روشنی کم ہو تو اس کا پہچاننا آسان ہے اور صرف ایک آنکھ کی کم ہو تو اس کے پہچاننے کا طریقہ یہ ہے کہ جانور کو بھوکا رکھا جائے پھر اس آنکھ پر پٹی باندھ دی جائے جس کی روشنی کم ہے اور اچھی آنکھ کھلی رکھی جائے اور اتنی دور چارہ رکھیں جس کو جانور نہ دیکھے پھر چارہ کو نزدیک لاتے جائیں جس جگہ وہ چارے کو دیکھنے لگے وہاں نشان رکھ دیں پھر اچھی آنکھ پر پٹی باندھ دیں اور دوسری کھول دیں اور چارہ کو قریب کرتے جائیں جس جگہ اس آنکھ سے دیکھ لے یہاں بھی نشان کر دیں۔ پھر دونوں جگہوں کی پیمائش کریں اگر یہ جگہ اس پہلی جگہ کی تہائی ہے تو معلوم ہوا کہ تہائی روشنی کم ہے اور اگر نصف ہے تو معلوم ہوا کہ بہ نسبت اچھی آنکھ کی اس کی روشنی آدھی ہے۔ اس کے علاوہ مزید بھی صورتیں ہیں۔
حدیث سے بنیادی شرائط:
جن جانوروں کی قربانی جائز نہیں، ان کے متعلق سنن ابی داؤد میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
یعنی چار قسم کے جانور قربانی میں جائز نہیں: کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو، بیمار جس کی بیماری ظاہر ہو، لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو اور ایسا لاغر جس کی ہڈیوں میں مغز نہ ہو۔ (1)
حوالہ جات
| 1↑ | سنن ابی داؤد، جلد 3، صفحہ 97، مطبوعہ: بیروت |
|---|