کچھ علامات قیامت اور ہمارا معاشرہ

کچھ علامات قیامت اور ہمارا معاشرہ

پیارے بھائیو! ہم قیامت کی علامات کے بارے میں سیکھ رہےہیں، جیسا کہ ہم نے اپنی پچھلی تحریر ”قیامت کی علامت“ میں سیکھا۔ چنانچہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مکی مدنی مصطفےٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قرب قیامت کی علامات میں سے یہ کام ہیں۔

  1. لوگ قطع رحمی کریں گے۔
  2. گناہوں کی کثرت ہو گی۔
  3. قرآن مجید کو(سونے چاندی سے) مزیّن کیاجائے گا۔
  4.  مردعورتوں کی اور
  5. عورتیں مردوں کی مشابہت اختیارکریں گی۔
  6. آدمی اپنےوالد کی نافرمانی کرے گااور دوست و احباب سےبھلائی کرے گا۔
  7. گانےوالیوں اور
  8. آلات موسیقی کارِواج عام ہو جائے گا۔

تواس وقت سرخ آندھی، زمین میں دھنس جانے، شکلیں تبدیل ہونے اور دوسرے عذابوں کےآنےسے ڈرتے رہنا۔ [1]حلیۃ الاولیاء، ۳/۴۱۰،رقم ۴۴۴۸ ملتقطاً

اے ساتھیوں! غور کیجئے! ان میں سے کون سا ایسا کام ہے جو آج ہمارے زمانے میں عام نہیں ہے، قطع رحمی کرنا[2]یعنی رشتہ داروں سے تعلق توڑ دینا قیامت کی علامات میں سے بتایا گیا ہے، آج گھروں اور خاندانوں میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑے ہوتے ہیں اور پھر یہی جھگڑے بڑھ کر قطعِ رحمی[3]یعنیرشتہ داروں سے تعلق توڑ دینے کی صُورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اور خاندان کے افراد کئی کئی سالوں تک ایک دوسرے کا منہ بھی نہیں دیکھتے۔

علامات قیامت کی تفصیل

گُناہوں کی کثرت کو بھی قیامت کی علامات میں سے بیان کیاگیا ہے، آج ہم اپنے معاشرے میں دیکھیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ وہ کون سا گناہ ہے جو ہمارے معاشرے میں نہیں پایا جا رہا۔تنہائی ہو یا محفل، گھر ہو یا بازار، شہر میں ہوں یا گاؤں میں ہر جگہ گناہوں کی بھرمار ہے۔ بلکہ اب تو گناہوں کی ایسی زیادتی ہے کہ خود کو گناہوں سے بچانا مشکل ترین کام ہوگیا ہے۔

قرآن مجید کو مزین کیاجائے گا

قرآنِ پاک کو مُزیّن و آراستہ کیا جانا بھی قیامت کی علامتوں میں سے بیان ہوا ہے، آج قرآنِ پاک کے غلاف کو، اس کے رحل کو، اس کی بائینڈنگ[4]یعنی اُوپری جِلد اور اوراق کو تو بہت سجایا جاتا ہے مگر اپنے کردار کو قرآنی اخلاق سے آراستہ کرنے والے کم ہوتے جار ہے ہیں، آج قرآنِ پاک جہاں رکھا جائے اس جگہ کی بھی سجاوٹ کا خیال رکھا جاتا ہے لیکن دل، دماغ، فکر اور سوچ بھی قرآنِ پاک کی تعلیمات سے سج جائے اس کی طرف دھیان نہیں دیاجاتا۔

مردوں کی عورتوں سے اور عورتوں کی مردوں سے مشابہت

مردوں کا عورتوں اور عورتوں کا مردوں کی مشابہت کرنا بھی قیامت کی نشانی ہے،غور کیجئے! آج کون سا ایسا شعبہ اور کون سا ایسا کام ہے جس میں عورتیں مردوں کی اور مرد عورتوں کی نقالی نہیں کر رہے۔ افسوس! آج تو جس کام میں عورتوں کی زیادہ تعداد شریک ہو، اسے ہی ترقّی کی علامت سمجھا جانے لگا ہے۔

بال کٹوانے، کپڑے پہننے، بازاروں میں گھومنے، گاڑیاں چلانے، خرِید و فروخت کے شعبہ جات، کھیلوں کے میدان، اَلْغَرَض! کون سی ایسی جگہ ہے جہاں عورتیں مردوں کی نقل کرتی ہوئی نظر نہیں آتیں، اسی طرح آج مردوں میں دیکھیں تو کنگن پہننے، عورتوں کی طرح لمبے بال رکھنے،عورتوں کی طرح ناک اور کانوں میں زیورات پہننے، سر پر ہئیربینڈ (Hair Band) لگانے، ہاتھوں اورپاؤں کو مہندی سے رنگنے سمیت اور کئی کاموں کا رواج بھی بڑھتا دکھائی دیتا ہے، حالانکہ ہمارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ ﷺ نے اسے قیامت کی علامات میں شمار کیا ہے اور اس سے منع بھی فرمایا ہے۔

آدمی کی اپنے والد سے نافرمانی اور دوست سے بھلائی

اسی طرح قِیامَت کی ایک نشانی یہ بھی بیان کی گئی کہ آدمی اپنے والد کی نافرمانی اور دوست احباب سے بھلائی کرےگا، اس کے نظارے بھی ہر سو عام ہیں، بعض لوگوں کا رویّہ اپنے سگے باپ سے بہت سخت ہوتا ہے مگر اپنے دوستوں کے آگے بچھے چلے جاتے ہیں، بعض لوگوں کو اپنے سگے والد سے حسن سلوک [5]یعنی اچھا سلوک کرنے کی توفیق نہیں ملتی، مگر اپنے دوستوں کے ساتھ آئے دن پارٹیاں اور دعوتیں چل رہی ہوتی ہیں، بعض لوگ اپنے والد کی اتنی نہیں مانتے جتنی اپنے دوستوں کی مانتےہیں، یہی وجہ ہےکہ ایسےنظارے بھی دیکھنےمیں آتے ہیں جب والد اپنی اولاد کےدوستوں سے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ آپ ہی میرے بیٹے کو سمجھائیں، آپ ہی میرے بیٹے کو بتائیں! میری تو وہ سنتا نہیں ہے۔

آلات موسیقی کا رِواج عام ہونا بھی علامات قیامت سے 

قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی بیان کیا گیا کہ گانے والیوں اور آلات موسیقی کی کثرت ہو گی، اس بارےمیں بھی معاشرے کی صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ میوزک اور گانے باجے کا سیلاب مسلمانوں کو بہائے لے جا رہا ہے، پہلے تو سنیما گھروں کی شکل میں مخصوص جگہیں ہوتی تھیں جہاں مَعَاذَ اللہ گانے، فلمیں اور میوزک کا سلسلہ ہوتا تھا۔ مگر اب تو ہر جگہ گانے اور میوزک کی بھرمار ہے۔

موبائل میں گانے اور میوزک، ٹی وی میں گانے اور میوزک، بازاروں میں گانے اور میوزک، ہوٹلوں میں گانے اور میوزک، کھلونوں میں گانے اور میوزک،بچوں کے جوتوں میں گانے اور میوزک، گھروں میں گانے اور میوزک، سکولز میں گانے اور میوزک، کالجز میں گانے اور میوزک، بسوں میں گانے اور میوزک، کاروں میں گانے اور میوزک، جہازوں میں گانے اور میوزک، ٹرینوں میں گانے اور میوزک! الغرض! کون سی ایسی جگہ ہے جہاں گانے اور میوزک کا سلسلہ نہیں ہے۔ بلکہ اب تو معاذ اللہ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ مسجدوں میں موبائلز کی دھنیں بجتی ہیں بیل(Bell)آتی ہے تو مسجد میں بھی گانے اور میوزک کی آوازیں گونجنے لگتی ہیں۔

اللہ پاک ہمارے حال پر رحم فرمائے۔اٰمِین

ثواب کی نیت سے شیئر کرتے جائیں۔۔
Share on Facebook
Facebook
Tweet about this on Twitter
Twitter
Share on Reddit
Reddit
Share on LinkedIn
Linkedin
Buffer this page
Buffer
Digg this
Digg
Share on Tumblr
Tumblr
Share on Yummly
Yummly
Share on VK
VK
Email this to someone
email

حوالہ جات   [ + ]

اپنا تبصرہ بھیجیں