حرام، فرض کے مقابلے میں آتا ہے اور مکروہ تحریمی، واجب کے مقابلے میں۔
حرام اور مکروہ تحریمی دونوں ہی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ کے کام ہیں۔ تاہم، ان کے درمیان درج ذیل اہم فرق موجود ہیں:
حرام کا مفہوم
- حرام وہ عمل ہے جس کا کرنا گناہ کبیرہ ہے۔
- حرام کام کو ایک مرتبہ بھی جان بوجھ کر کرنے والا فاسق بن جاتا ہے۔
- فاسق شخص کی امامت جائز نہیں اور نہ ہی اس کی عدالت میں گواہی قابل قبول ہوگی۔
- حرام کی مثالیں: زنا، شراب نوشی، سود، رشوت، قتل، نماز ترک کرنا، روزہ چھوڑ دینا وغیرہ۔
مکروہ تحریمی کا مفہوم
- یہ وہ عمل ہے جو واجب کے خلاف ہے۔
- اس کا کرنا بھی گناہ ہے مگر گناہ کبیرہ سے نسبتاً کم درجے کا۔
- اگر کوئی شخص بار بار اصرار سے کرے تو وہی گناہ کبیرہ بن جاتا ہے۔
- مثال: داڑھی منڈوانا یا ایک مٹھی سے کم رکھنا۔
- اگر کوئی داڑھی منڈوانے پر اصرار کرے تو وہ فاسق ہو جاتا ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا ناجائز ہے۔
خلاصہ
حرام پر شریعت کی شدت بہت زیادہ ہے — ایک بار بھی کرنے پر سزا کا مستحق۔
مکروہ تحریمی پر شریعت کی شدت تھوڑی کم ہے — ایک بار کرنے پر تنبیہ اور بار بار کرنے پر پکڑ۔
جس طرح فرض کو چھوڑنا حرام ہے، اسی طرح واجب کو چھوڑنا مکروہ تحریمی کہلاتا ہے۔