حاملہ عورت کو حمل کی حالت میں روزہ رکھنے کی وجہ سے اپنی یا بچے کی جان کو واقعی نقصان پہنچنے یا بیمار ہو جانے یا نا قابل برداشت مشقت و تکلیف میں مبتلا ہو جانے کا صحیح اندیشہ ہو، (1) تو اس صورت میں اس کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے۔
عورت کو ان چیزوں کے ہونے کا ظن غالب تین طرح سے حاصل ہو سکتا ہے:
- ان میں سے کسی کی کوئی واضح علامت ہو
- یا پہلے والا ذاتی تجربہ ہو چکا ہو
- یا کوئی ایسا مسلمان ڈاکٹر جو اعلانیہ گناہ نہ کرتا ہو اور اپنے اس شعبے میں صحیح مہارت رکھتا ہو اور وہ بتائے۔
لیکن اس بات کا خیال رہے کہ بیماری یا ہلاکت وغیرہ کا صرف خیال اور خوامخواہ کا ڈر روزہ چھوڑنے کے لیے کافی نہیں ہے، بلکہ اوپر ذکر کردہ طریقوں میں سے کسی طریقے کے مطابق ظن غالبِ حاصل ہونا ضروری اور لازمی ہے۔
حضور ﷺ کی حدیث پاک میں ہے:
ترجمہ: بے شک اللّٰه پاک نے مسافر سے روزے اور نماز کے ایک حصے کو اٹھا دیا ہے، مسافر کو روزے کا اختیار ہے اور حاملہ اور دودھ پلانے والی سے بھی روزے اٹھا دیے گئے ہیں۔ (2)
یعنی کہ مسافر کو روزہ رکھنے یا مؤخر کرنے کا اختیار ہے اور اس کو نماز قصر کرنی ہے اور حاملہ و بچے والی کو صحیح نقصان کی وجہ سے روزہ مؤخر کرنے کی اجازت ہے۔ فقہ کی مایہ ناز کتاب ملتقی الابحر میں اس حوالے سے لکھا ہے ہے:
ترجمہ: حاملہ یا دودھ پلانے والی کو اپنی یا بچے کی جان کا خوف ہو تو روزہ نہ رکھے اور بعد میں اس کی قضا کرے۔ (3) واللہ اعلم