Aik Zamana aisa aaye ga

لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا

فرمان مصطفٰے ﷺ ہے :

’’ سَیَأْتِیْ زَمَانٌ عَلٰی اُمَّتِیْ یُحِبُّوْنَ خَمْسًا وَ یَنْسَوْنَ خَمْسًا ‘‘

عنقریب میری امّت پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ وہ پانچ سے محبت رکھیں گے اور پانچ کو بھول جائیں گے۔

1. یُحِبُّوْنَ الدُّنۡیَا وَ یَنْسَوْنَ الْاٰخِرَةَ

دنیا سے محبت رکھیں گے اور آخِرت کو بھول جائیں گے ۔

2. وَیُحِبُّوْنَ الْمَالَ وَ یَنْسَوْنَ الْحِسَابَ

مال سے محبت رکھیں گے اور حسابِ (آخرت) کو بھول جائیں گے ۔

3. وَیُحِبُّوْنَ الْخَـلْقَ وَیَنْسَوْنَ الْخَـالِـقَ

مخلوق سے محبت رکھیں گے اورخالِق کو بھول جائیں گے ۔

4. وَیُحِبّوْنَ الذُّنُوْبَ وَیَنْسَوْنَ التَّوْبَةَ

گناہوں سے محبت رکھیں گے اور توبہ کوبھول جائیں گے ۔

5. وَ یُحِبُّوْنَ الْقُصُوْرَ وَیَنْسَوْنَ الْمَقْبَرَةَ

محلَّات سے محبت رکھیں گے اورقبرِستان کو بھول جائیں گے ۔(1)مکاشفۃ القلوب، الباب العاشر فی العشق، ص٣٤

دور حاضر اور فتنے

پیارے بھائیو! دورِ حاضر قیامت کی نشانیوں اور اس سے پہلے رونما ہونے والے بے شمار فتنوں سے لبریز ہے ۔ہر نیا دن نئی علامت قیامت اور نت نئے فتنے کے ساتھ نمودار ہوتا ہے ۔ یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ جس امت کے حقیقی خیر خواہ حضور نبیٔ کریم ﷺ اپنی حیات ِ ظاہری میں دورِ فتن کی ہولناکیوں کے بارے میں فکر مند رہا کرتے تھے کہ آزمائشوں، پریشانیوں اور فتنوں کے اس ہولناک زمانہ میں میری امت کہیں راہِ حق سے برگشتہ(2)مُنحرِفنہ ہوجائے آج اسی امت کے افراد ان فتنوں میں پڑ کر اپنے ہی ہاتھوں دین و دیانت، حق و امانت اور باہمی محبت وشرافت کا بے دریغ قتلِ عام کر رہے ہیں۔

لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے بھائیوں اور بہنوں تک رحمتِ عالم ﷺ کے وہ ارشادات پہنچائے جائیں جن میں پیارے آقا ﷺ نے ”ایک زمانہ ایسا آئے گا“ ”قربِ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے “ ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی“یا اس جیسے دیگر الفاظ ارشاد فرما کر اللہ پاک کی طرف سے عطا کردہ اپنے علم کے ذریعے 14 سو سال پہلے ہی اس موجودہ اور آیندہ دور کے فتنوں کی پیشن گوئی فرماتے ہوئے ہمیں ان کی بھڑکتی آگ سے اُٹھنے والے شراروں(3)شُعلوںسے اپنا دامن بچانے کی ترغیب دلائی۔ آئیے برکت و عبرت حاصل کرنے کے لئے چند احادیث مبارکہ اور ان کی شرح و وضاحت میں علماء کرام رحمہم اللّٰہ السّلام کے ارشادات ملاحظہ فرمائیے۔

گھروالوں کے ہاتھوں ہلاکت

سیّد المرسلین ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس شخص کے سوا کسی دین والے کا دین محفوظ نہ رہے گا جواپنے دین کو لے کر(4)یعنی اس کی حفاظت کی خاطرایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ اور ایک سوراخ (5)غار سے دوسرے سوراخ کی طرف بھاگے ۔ اس وقت معیشت کا حصول اللہ پاک کو ناراض کیے بغیر نہ ہوگا۔

جب یہ صورتِ حال ہوگی تو آدمی اپنے بیوی بچوں کے ہاتھوں ہلاکت میں پڑجائے گا، اگر بیوی بچے نہ ہوں گے تو والدین کے ہاتھوں اس کی ہلاکت ہوگی اور اگر والدین بھی نہ ہوں تو اس کی ہلاکت رشتے داروں یا پڑوسیوں کے ہاتھوں ہوگی۔‘‘صحابہ کرام علیہِم الرِضوان نے عرض کی : ’’ یارسولَ اللہ ﷺ ! یہ کیسے ہوگا؟‘‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’وہ اسے تنگیِ معیشت پر عار(6)شرمدلائیں گے ، ا س وقت وہ اپنے آپ کو ہلاکت کی جگہوں میں لے جائے گا ۔‘‘(7)الزهد الکبیر للبیهقی، الجزء الثانی، فصل فی ترک الدنیا الخ، ص۱۸۳، حدیث : ۴۳۹

حدیث پاک سے حاصل ہونے والا سبق

اس حدیث پاک پر خصوصاً وہ بہنیں غور کریں جو اپنے شوہروں کو ان کی آمدنی پرطرح طرح کے طعنے دیتے ہوئے اس طرح کی جلی کٹی باتیں سناتی ہیں : ’’ فُلاں نے اتنا بڑا مکان بنالیا، فُلاں کتنا خوشحال ہو گیا ہے ، تم بھی تو کچھ کرو، تمہاری تنخواہ تو انتہائی نامعقول ہے اس میں تو گھر کے اخراجات ہی پورے نہیں ہوتے وغیرہ وغیرہ۔‘‘

نیز شوہر ملازمت و کاروبار سے جیسے ہی تھکا ہارا گھر آتا ہے اپنی فرمائشوں اور بچوں کی شکایتوں کے انبار لگا کر اس کو مالی حالات سے بیزار اور ذہنی اذیت میں گرفتار کردیتیں ہیں۔ نتیجۃً بے چارہ شوہر ان کے طعنوں سے بچنے اور ان کی بے جا فرمائشیں پوری کرنے کے لئے حلال و حرام کی پروا کئے بغیرحُصولِ مال کے وبال میں پھنس کر بادلِ نخواستہ(8)نہ چاہتے ہوئے بھیناجائز ذرائع اختیار کر بیٹھتا ہے ۔جیسا کہ آیَندہ زمانے میں سراٹھانے والے فتنوں کے بارے میں ایک حدیث شریف یہ بھی ہے ۔

(2)حلال و حرام کے معاملے میں بے پروائی

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ سیِّدعالم ﷺ نے فرمایا : ’’ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ آدمی کو اس بات کی کوئی پروا نہ ہوگی کہ اس نے(9)مالکہاں سے حاصل کیا حرام سے یا حلال سے ۔‘‘(10)بخاری، کتاب البیوع، باب من لم یبالی من حیث الخ، ۲ / ۷، حدیث : ۲۰۵۹

حکیم الامّت مفتی احمد یار خان عَلَیہ رحمۃ الحَنان اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’یعنی آخر زمانہ میں لوگ دین سے بے پروا ہو جائیں گے ، پیٹ کی فکر میں ہر طرح پھنس جائیں گے ، آمدنی بڑھانے ، مال جمع کرنے کی فکر کریں گے ، ہر حرام وحلال لینے پر دلیر ہو جائیں گے جیسا کہ آج کل عام ہے ۔‘‘(11)مراٰۃالمناجیح، ۴ / ۲۲۹

مالِ حرام کا وبال

پیارے بھائیو! زرقِ حلال کھانے اور لقمۂ حرام سے خود کو اور اپنے بیوی بچوں کو بچانے کے لئے علمِ دین سیکھنا اور حلال و حرام کا فرق جاننا نہایت ضروری ہے ۔ یاد رکھئے !اگر ماں باپ ، بہن بھائی ، بیوی بچوں یا قرابت داروں کی بے جا خواہشات پوری کرنے اور ان کے طعنوں سے بچنے کے لئے حرام وحلال کی پروا کئے بغیر مال و دولت جمع کرتے رہے اور علمِ دین سیکھ کر سنّتوں کے مطابق ان کی تربیت نہ کی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ کل بروزِ قیامت یہی بیوی بچے آپ کے خلاف بارگاہِ الٰہی میں مقدمہ کردیں جیساکہ

بارگاہِ الٰہی میں دعویٰ

حضرت فقیہ ابوللَّیث سَمر قندی علَیہ رحمۃ اللّٰہ القوی نقل کرتے ہیں : مروی ہے کہ مرد سے تعلق رکھنے والوں میں پہلے اس کی زوجہ اور اس کی اولاد ہے ، یہ سب(12)یعنی بیوی، بچّے قیامت میںاللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کریں گے کہ اے ہمارے ربّ پاک! ہمیں اِس شخص سے ہمارا حق دِلا، کیونکہ اِس نے کبھی ہمیں دینی اُمور کی تعلیم نہیں دی اور یہ ہمیں حرام کھلاتا تھا جس کا ہمیں علم نہ تھا۔ پھر اس شخص کو حرام کمانے پر اس قَدَر ماراجائے گا کہ اس کا گوشت جَھڑجائے گا پھر اس کو میزان(13)ترازو کے پاس لایا جائے گا، فرشتے پہاڑ کے برابر اس کی نیکیاں لائیں گے تو اس کے عیال(14)بال بچّوںمیں سے ایک شخص آگے بڑھ کر کہے گا : ’’میری نیکیاں کم ہیں‘‘ تو وہ اُس کی نیکیوں میں سے لے لے گا،

پھردوسرا آکر کہے گا : ’’ تُو نے مجھے سُود کھلایا تھا ‘‘ اور اُس کی نیکیوں میں سے لے لے گا، اِس طرح اُس کے گھر والے اس کی سب نیکیاں لے جائیں گے اور وہ اپنے اہل وعیال کی طرف حسرت ویاس(15)رنج و مایوسیسے دیکھ کر کہے گا : ’’اب میری گردن پر وہ گناہ و مظالم رہ گئے جو میں نے تمہارے لئے کئے تھے ۔‘‘(16)اُس وقتفرشتے کہیں گے : ’’یہ وہ(17)بد نصیبشخص ہے جس کی نیکیاں اِس کے گھر والے لے گئے اور یہ اُن کی وجہ سے جہنم میں چلاگیا۔‘‘(18)قرة العُیون ، الباب الثامن فی عقوبة قاتل الخ، ص۴۰۱

بد نصیبی

غور کیجئے !اس شخص کی بد نصیبی کا کیا عالم ہو گا جس کی تمام نیکیاں اس کے اہلِ خانہ حاصل کر کے نجات پا جائیں اور وہ خود قلّاش (19)کنگالرہ جائے ۔ لہٰذاموقع غنیمت جانتے ہوئے خوابِ غفلت سے بیدار ہو جائیے اور اللہ پاک اوراس کے پیارے حبیب ﷺ کی فرماں برداری والے کاموں میں لگ جائیے کہیں ایسا نہ ہو کہ نیکیاں کرنا ہمارے لئے دشوار سے دشوار ہوتا جائے کیونکہ اللہ پاک کے مَحبوب ﷺ نے ایک ایسے وقت کی نشاندہی بھی فرمائی ہے جس میں سنت پر عمل کرنا، دین پر قائم رہنا اور اس راہ میں آنے والی تکالیف پر صبر کرنا بہت مشکل ہو گا۔ چنانچہ اس ضمن میں 2 فرامینِ مصطفی ﷺ سُنئے اور اپنے آپ کو قرآن و سنّت کا پابند بنانے کی کوشش کیجئے ۔

(3)سنتیں اپنانا انگارہ تھامنے کی طرح ہوگا

1. رحمت عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا :

’’ اَلۡمُتَمَسِّكُ بِسُنَّتِىۡ عِنۡدَ اِخۡتِلَافِ اُمَّتِىۡ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ ‘‘

یعنی فسادِ امت کے وقت میری سنت کو تھامنے والا آگ کا انگارہ تھامنے والے کی طرح ہوگا۔(20)نوادر الاصول، الاصل الثالث عشر، الجزء الاول، ص۶۸، حدیث : ۸۷

2. اللہ پاک کے مَحبوب ﷺ کا فرمان عالیشان ہے :

’’ يَاتِی عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ الصَّابِرُ فِيْهِمْ عَلَى دِيْنِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ ‘‘

یعنی لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ ان میں اپنے دین پر صبر کرنے والا انگارہ پکڑنے والے کی طرح ہوگا۔‘‘(21) ترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء فی النھی عن سب الریاح، ۴ / ۱۱۵، حدیث : ۲۲۶۷

حکیم الامّت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’یہ زمانہ قریبِ قیامت ہو گا جس کی ابتدا آج ہو چکی ہے ۔ فی زمانہ دین دار بن کر رہنا مشکل ہے ۔ آج داڑھی رکھنا، نماز کی پابندی کرنا دوبھر ہو گیا ہے ۔ سود سے بچنا تو قریباً ناممکن ہی ہے ۔‘‘ مزید فرماتے ہیں : ’’ جیسے ہاتھ میں انگارہ رکھنا بہت ہی بڑے صابر کا کام ہے یوں ہی اس وقت مخلص، کامل مسلمان بننا سخت مشکل ہو جاوے گا۔‘‘(22)مراٰۃالمناجیح، ۷ / ۱۷۲ 

حوالہ جات   [ + ]

اپنا تبصرہ بھیجیں