Darana Dhamkana ڈرانا

بلاوجہ شرعی مسلمان کو ڈرانا دھمکانا

کسی مسلمان کو ڈرانے یا دھمکی دینے سے اسے تکلیف پہنچتی ہے اور یہ ممنوع ہے ۔ سرورِ عالم ﷺ نے فرمایا :”جس نے کسی مسلمان کو ناحق اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی اور جس نے مجھے اذیت پہنچائی اس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی ۔”
(مجمع الزوائد،کتاب الصلوۃ، رقم ۳۰۹۲،ج۲،ص۳۹۹)

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

اِنَّمَا ذٰلِکُمُ الشَّیۡطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَ ہٗ ۪ فَلَا تَخَافُوۡہُمْ وَخَافُوۡنِ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ ﴿۱۷۵﴾

ترجمۂ کنزالایمان :وہ تو شیطان ہی ہے کہ اپنے دوستوں سے دھمکاتا ہے تو اُن سے نہ ڈرو اورمجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔ ”
(پ۴،اٰل عمران:۱۷۵ )

حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ِانورصلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کو مت ڈرایا کرو کہ مسلمان کو ڈرانا ظلمِ عظیم ہے۔ ”(الترغیب والترہیب ، کتاب الادب، رقم۴، ج۳،ص۳۱۸)

جبکہ حضرتِسیدنا عمررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مسلمان کوبلاوجہ ڈرا یا تو اللہ پر حق ہے کہ اسے قیامت کے دن کی ہولناکیوں سے امن نہ دے۔”
(طبرانی اوسط ، رقم الحدیث ۲۳۵۰، ج۲،ص۲۰)

حضرتِسیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مسلمان کوناحق گھُور کر دیکھا تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن خوف میں مبتلاء کردے گا۔”
(الترغیب والترہیب،کتاب الادب،رقم۷،ج۳،ص۳۱۹)

اللہ تعالیٰ ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ عليہ وسلم

This post has been Liked 0 time(s) & Disliked 0 time(s)

اپنا تبصرہ بھیجیں