اسلامی شریعت میں عمومی اصول یہ ہے کہ جو چیزیں بذاتِ خود حرام نہ ہوں لیکن ان کے استعمال سے قانونی یا سماجی نقصان ہو، یا ذلت و رسوائی کا سبب بنے، تو ان سے اجتناب کرنا بہتر ہوتا ہے۔
گٹکا، پان، سگریٹ کا استعمال
گٹکا، پان، سگریٹ جیسی اشیاء صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ تاہم یہ زہر یا مہلک اشیاء کی طرح فوری جان لیوا نہیں ہوتیں، اس لیے انہیں کھانے والا شرعی طور پر گناہگار نہیں ہوتا۔
- ان اشیاء کا کھانا جائز تو ہے، لیکن بچنا بہتر ہے۔
- یہ مال کا ضیاع بھی نہیں کہلاتا، کیونکہ جیسے چیونگم، ٹافی یا دیگر تفریحی اشیاء خریدنا جائز ہے، ویسے ہی یہ بھی۔
بدبو دار تمباکو کی ممانعت
جو لوگ بغیر خوشبو والا تمباکو استعمال کرتے ہیں اور منہ میں دبا کر رکھتے ہیں، ان کے منہ میں بدبو بس جاتی ہے، جس سے دوسروں کو اذیت ہوتی ہے۔
ایسی حالت میں:
- ایسی حالت میں نماز مکروہِ تحریمی ہے۔
- جب تک بدبو ختم نہ ہو، مسجد جانا بھی حرام ہے۔
قانونی اعتبار سے پابندی
اگر کوئی چیز شرعی طور پر حلال ہو لیکن قانونِ ملک میں اس پر پابندی ہو (مثلاً گٹکا بیچنے پر)، تو اس کی خرید و فروخت جائز نہیں ہوگی کیونکہ:
- قانون شکنی سے ذلت، جرمانہ اور رشوت کا اندیشہ ہوتا ہے۔
- شریعت ایسے مواقع پر اجتناب کا حکم دیتی ہے۔
خلاصہ
گٹکا، پان، سگریٹ کھانا شرعاً جائز تو ہے، لیکن صحت، بدبو اور قانونی پہلو کی وجہ سے ان سے بچنا ہی افضل اور بہتر ہے۔