نمازوں کے اوقات شریعتِ مطہرہ میں متعین ہیں، اور ان کے مقررہ وقت میں ادا کرنا فرض ہے۔ ہر نماز کے لیے ایک مخصوص وقت مقرر ہے، جو قرآن و سنت اور فقہی تفصیل سے معلوم ہوتا ہے۔ ان میں نماز عصر کا وقت فقہی مسالک میں اختلافی ہے، خصوصاً شافعی اور حنفی مسالک کے درمیان۔
شافعی مسلک کے مطابق عصر کا وقت
شافعی فقہ کے مطابق:
- جب سورج ڈھل جائے (زوال ہو جائے) تو ظہر کا وقت شروع ہوتا ہے
- اور جب کسی چیز کا سایہ سایۂ اصلی کے علاوہ ایک مثل ہو جائے، تو عصر کا وقت داخل ہو جاتا ہے
حنفی مسلک کے مطابق عصر کا وقت
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک:
- ظہر کا وقت زوال سے شروع ہو کر اس وقت تک رہتا ہے جب تک کسی چیز کا سایہ سایۂ اصلی کے علاوہ دو مثل نہ ہو جائے
- اور جب دو مثل کا سایہ ہو جائے تو عصر کا وقت داخل ہوتا ہے
لہٰذا حنفی فقہ کے مطابق، اگرچہ شافعی وقت کے مطابق عصر کا وقت داخل ہو چکا ہو، حنفی شخص اس وقت عصر کی نماز ادا نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے نزدیک ظہر کا وقت ابھی باقی ہے۔
قدوری اور فتاویٰ رضویہ سے دلائل
مختصر القدوری میں ہے:
ترجمہ: ظہر کا اول وقت زوالِ شمس کے بعد شروع ہوتا ہے اور آخر وقت امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ کے نزدیک اس وقت تک رہتا ہے جب تک ہر شے کا سایہ، اس کے سایۂ اصلی کے سوا دو مثل نہ ہو جائے۔ (1)
فتاوی رضویہ میں فرمایا گیا:
”حضرت سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک جب تک سایہ ظل اصلی کے علاوہ دو مثل نہ ہوجائے، وقتِ عصر نہیں آتا، اور صاحبین کے نزدیک ایک ہی مثل کے بعد آجاتا ہے۔۔۔ قولِ امام ہی احوط واصح اور ازروئے دلیل ارجح ہے۔ عموماً متونِ مذہب قولِ امام پر جزم کیے ہیں اور عامہ اجلہ شارحین نے اُسے مرضی ومختار رکھا، اور اکابر ائمہ ترجیح وافتاء بلکہ جمہور پیشوایانِ مذہب نے اسی کی تصحیح کی۔“ (2)
خلاصہ
- شافعی فقہ میں عصر کا وقت ایک مثل پر داخل ہوتا ہے
- حنفی فقہ میں عصر کا وقت دو مثل پر داخل ہوتا ہے
- حنفی شخص شافعی وقت پر عصر نہیں پڑھ سکتا، کیونکہ اس کے نزدیک ابھی ظہر کا وقت جاری ہے
لہٰذا ہر مسلمان کو اپنے مسلک کے مطابق نماز کے اوقات کا خیال رکھنا ضروری ہے، خصوصاً جماعت، امامت، یا سفر کے دوران مشترکہ اوقات کا خیال کرتے ہوئے دینی بصیرت کے ساتھ عمل کیا جائے۔