جو شخص کم از کم 92 کلومیٹر یا اس سے زائد مسافت کے ارادے سے اپنے شہر یا گاؤں کی آبادی سے نکلے، وہ شرعی طور پر مسافر</strong شمار ہوتا ہے، خواہ وہ ڈرائیور</strong ہو یا کوئی اور۔ ایسے شخص کے لیے نماز قصر</strong کرنے کا حکم لاگو ہوتا ہے۔
1۔ قصر نماز کی ابتداء کب سے ہوگی؟
جب کوئی شخص اپنے علاقے کی آبادی کی حد سے باہر نکل جائے، تو اس پر قصر کا حکم لاگو ہو جائے گا۔ اگر وہ شہر میں رہتا ہے تو شہر سے باہر نکلنا ضروری ہے، اور اگر گاؤں کا رہائشی ہے تو گاؤں کی آخری حد سے نکلنے کے بعد قصر کرے گا۔
فنائے شہر یعنی وہ مقامات جو شہر سے متصل ہوں اور عمومی استعمال میں آئیں (جیسے قبرستان، کوڑا ڈالنے کی جگہ، یا کھیلوں کے میدان) — اگر وہ شہر سے جُڑے ہوں تو ان سے بھی آگے نکلنا ضروری ہے۔ اگر شہر اور فنائے شہر کے درمیان 300 شرعی گز (تقریباً 300 قدم) کا فاصلہ ہو، تو فنائے شہر شہر کا حصہ نہیں رہے گا۔
2۔ سفر کی نیت اور گاڑی تبدیل کرنا
اگر کسی نے سفر کی ابتدا میں ہی 92 کلومیٹر یا اس سے زیادہ</strong کی مسافت کی نیت کی ہو، تو درمیان میں گاڑی تبدیل کرنے یا کسی اور کام سے رکنے سے قصر پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن اگر نیت ابتدا میں صرف 50 کلومیٹر</strong کی ہو، تو وہ قصر نہیں کرے گا، چاہے بعد میں مزید فاصلہ طے کرے۔ نیت کا آغاز میں متصل اور واضح ہونا ضروری ہے۔
3۔ وطنِ اصلی میں داخل ہونے کا حکم
اگر کوئی شخص سفر کے دوران اپنے وطنِ اصلی</strong میں واپس آ جائے، تو جیسے ہی وہ داخل ہوگا، وہ مسافر نہیں رہے گا — چاہے اس کا وہاں قیام کا ارادہ ہو یا صرف عارضی گزر ہو۔ وطنِ اصلی میں داخل ہوتے ہی سفر ختم</strong ہو جاتا ہے، اور قصر کی اجازت نہیں رہتی۔
خلاصہ
- 92 کلومیٹر یا زائد کے سفر کی نیت کرنے والا شرعی مسافر ہے۔
- قصر کا آغاز آبادی سے باہر نکلنے پر ہوتا ہے۔
- سفر کی نیت ابتدا میں واضح اور مکمل ہونی چاہیے۔
- وطنِ اصلی میں داخل ہوتے ہی سفر ختم اور قصر کا حکم ختم ہو جاتا ہے۔