Murda Bakri kaan jharrti uth khari hui

مری ہوئی بکری کان جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوئی

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضورنبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ کے چہرہ انور کو متغَیّر پایا۔ یہ دیکھ کر اُسی وقت وہ اپنے گھر پہنچے اور اپنی زوجہ محترمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا، میں نے رسول پاک ﷺ کا چہرہ زیبا بدلا ہوا دیکھا ہے، میرا گمان ہے کہ بھوک کے سبب سے ایسا ہے۔

کیا تیرے پاس کچھ موجود ہے؟ جواب دیا، وَاللہ اِس بکری اورتھوڑے سے بچے کُھچے آٹے کے سوا اور کچھ نہیں ۔ اسی وقت بکری کو ذبح کر دیا اور فرمایا کہ جلدی جلدی گوشت اورروٹیاں تیار کرو۔ جب کھا نا تیّار ہو گیا تو ایک بڑے پیالے میں رکھ کر سرکارِ نامدار ﷺ کے دربارِ دُربار میں حاضر ہو گئے اور کھانا پیش کر دیا ۔

رحمت عالَم ﷺ نے اِرشاد فرمایا، اے جابر! اپنی قوم کوجمع کر لو۔ میں لوگوں کو لے کر حاضر خدمت بابرکت ہوا، فرمایا، ان کوجدا جدا ٹولیاں بنا کرمیرے پاس بھیجتے رہو۔ اِس طرح وہ کھانے لگے۔ جب ایک ٹولی سیر ہو جاتی تو وہ نِکل جاتی اور دوسری آجاتی یہاں تک کہ سب کھا چکے اور برتن میں جتنا کھانا پہلے تھا اتنا ہی سب کے کھانے کے بعد بھی موجود تھا۔

سرکارِ مدینہ ﷺ فرماتے تھے کھاؤ اور ہڈّی نہ توڑو۔ پھر آپ ﷺ نے برتن کے بیچ میں ہڈّیوں کو جمع کیا اور ان پر اپنا ہاتھ مبارک رکھا اور کچھ کلام پڑھا جِسے میں نے نہیں سنا۔ ابھی جس کا گوشت کھایا تھا وہی بکری یکا یک کان جھاڑتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی! آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا، اپنی بکری لے جاؤ! میں بکری اپنی زوجہ محترمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس لے آیا ۔

وہ(1)حیرت سےبولیں، یہ کیا؟ میں نے کہا، وَاللہ! یہ ہماری وہی بکری ہے جس کو ہم نے ذبح کیا تھا۔ دعائے مصطَفٰے ﷺ سے اللہ پاک نے اسے زندہ کر دیا ہے! یہ سن کر ان کی زوجہ محترمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بے ساختہ پکار اُٹھیں، میں گواہی دیتی ہوں کہ بے شک وہ اللہ پاک کے رسول ﷺ ہیں۔(2)الخصائص الکبرٰی ج۲ص ۱۱۲

اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفرت ہو۔

حوالہ جات   [ + ]

اپنا تبصرہ بھیجیں