عمرہ کی ادائیگی سے پہلے مدینہ منورہ کی حاضری دینا بالکل جائز اور باعثِ برکت عمل ہے۔ اگر کوئی پاکستان سے یا کسی بھی ملک سے پہلے مدینہ طیبہ جائے اور وہاں سے عمرے کی نیت کرے، تو شریعت اس کی مکمل اجازت دیتی ہے۔
مدینہ سے عمرہ کا آغاز کیسے کریں؟
مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ جانے والے افراد کے لیے احرام باندھنے کی میقات ذو الحُلیفہ ہے، جسے آج کل ابیارِ علی بھی کہتے ہیں۔ اس جگہ سے یا اس سے پہلے کسی بھی مقام سے احرام باندھا جا سکتا ہے۔
- احرام مسجد میں باندھنا ضروری نہیں۔ مسجد کے علاوہ کسی کھلے یا مناسب مقام سے بھی احرام باندھ سکتے ہیں۔
- عمرہ کے لیے میقات سے پہلے احرام باندھنا لازم ہے، بصورت دیگر دم (قربانی) واجب ہو سکتی ہے۔
مدینہ منورہ میں قیام کی مدت
عمرہ پر جانے والے افراد کے لیے مدینہ منورہ میں قیام کی کوئی مخصوص مدت شرعاً لازم نہیں۔ لیکن ایک حدیث مبارکہ میں ایک عظیم فضیلت کا ذکر ہے:
من صلّى في مسجدي أربعين صلاة لا تفوته صلاة كتبت له براءة من النار، وبراءة من العذاب، وبراءة من النفاقترجمہ: جو میری مسجد (نبوی) میں چالیس نمازیں پڑھے کہ ان میں سے کوئی نماز قضا نہ ہو، اس کے لیے جہنم سے نجات، عذاب سے چھٹکارا اور نفاق سے بریت لکھ دی جاتی ہے۔
اس حدیث کی فضیلت حاصل کرنے کے لیے کم از کم آٹھ دن کا قیام کرنا بہتر ہے تاکہ پانچ وقت کی چالیس نمازیں مکمل ہو سکیں۔
مدینہ طیبہ میں قیام کی برکتیں
مدینہ منورہ میں قیام کی ہر گھڑی باعثِ سعادت ہے۔ وہاں کی فضاؤں میں ادب و عشق کی خوشبو ہے۔ لہٰذا جس قدر ممکن ہو وہاں باادب اور باوقار قیام کرنا روحانی ترقی کا ذریعہ بنے گا۔
خلاصہ
مدینہ شریف میں قیام کے بعد عمرہ ادا کرنا مکمل طور پر جائز اور مسنون ہے۔ ذو الحلیفہ (ابیار علی) سے احرام باندھیں اور چالیس نمازوں کی فضیلت حاصل کرنے کے لیے آٹھ دن قیام کی کوشش کریں۔