فی زمانہ فیس بک وغیرہ سوشل میڈیا گناہوں کے اڈے بنے ہوئے ہیں۔ جو بھی شخص ان کا استعمال کرتا ہے تو اس کے سامنے ناچاہتے ہوئے بھی گناہ کے مناظر آ ہی جاتے ہیں۔ اس لیے ان سے بچنا ضروری ہے۔
فیس بک کا استعمال حلال یا حرام؟
باقی فیس بک کا ایسا استعمال کہ جو ثواب پھیلانے کے لیے کیا جائے اور گناہوں سے محفوظ ہو تو اس کی اجازت ہوگی مگر پھر بھی یہ مشکل ہے۔
- اور صرف تفریح کے لیے استعمال کرنا ممنوع ہوگا کہ ٹائم کا ضائع کرنا درست نہیں۔
- باقی گناہوں کے لیے استعمال کرنا ویسے بھی ناجائز ہی ہے۔
جیسے: بے پردہ نامحرم لڑکیوں کی تصاویر دیکھنا، دکھانا اور اس کی تشہیر کرنا، ناجائز و گناہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے، چاہے یہ بزنس کی ایڈورٹائزنگ کے لیے کیا جائے یا کسی اور مقصد کے لیے ہو، بہر صورت ناجائز ہے۔ فحش و عریانی پر مشتمل ویڈیوز (videos) شیئر کرنا ناجائز و حرام اور اشاعتِ فاحشہ ہے اور ایسے کرنے والے افراد گناہ کی طرف داعی اور سخت گنہگار ہیں، ان کی شیئر کردہ ویڈیوز جتنے افراد دیکھیں گے، ان سب کے گناہوں کے برابر شیئر کرنے والے کو گناہ ملے گا۔
حدیث مبارکہ کا حوالہ
صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم نور مجسم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ: “جو کسی کو امرِ ضلالت کی طرف بلائے؛ جتنے اس کے بلانے پر چلیں، ان سب کے برابر اس پر گناہ ہو گا اور اس سے ان کے گناہوں میں کچھ کمی نہ ہوگی۔” (1)
حوالہ جات
| 1↑ | الصحیح لمسلم، کتاب العلم، جلد4، صفحہ2060، دار احياء التراث العربی، بيروت |
|---|