نماز کا طریقہ (مکمل)

نماز کا طریقہ (مکمل)

فرمانِ مصطَفٰے ﷺ: سب سے زیادہ حسرت قیامت کے دن اُس کو ہو گی جسے دنیا میں علم حاصل کرنے کا موقع ملا مگر اس نے حاصل نہ کیا اور اس شَخص کو ہو گی جس نے علْم حاصل کیا اور دوسروں نے تو اس سے سن کر نفع اٹھایا لیکن اس نے نہ اٹھایا(یعنی اس علم پر عمل نہ کیا)۔(1)تاریخ دمشق لابن عساکر ج 51 ص 138 دار الفکر بیروت اس تحریر میں نماز کا مکمل طریقہ بیان کیا جائے گا۔ جو کہ ہر مسلمان پر سیکھنا فرض ہے۔ اس تحریر کو مکمل توجہ کے ساتھ پڑھیں اور اس پر عمل کریں۔

نماز کا طریقہ

با وضو قبلہ رُو اِس طرح کھڑے ہوں کہ دونوں پاؤں کے پنجوں میں چاراُنگل کا فاصلہ رہے اوردونوں ہاتھ کانوں تک لے جائیے کہ اَنگوٹھے کان کی لو سے چھو جائیں اور انگلیاں نہ ملی ہوئی ہوں نہ خوب کھلی بلکہ اپنی حا لت پر(NORMAL) رکھیں اور ہتھیلیا ں قبلہ کی طرف ہوں نظرسجدہ کی جگہ ہو۔ اب جو نَماز پڑھنا ہے اُس کی نیت یعنی دل میں اس کا پکّا اِرادہ کیجئے ساتھ ہی زبان سے بھی کہہ لیجئے کہ زِیادہ اچھا ہے۔

مثلاً نیت کی میں نے آج کی ظہر کی چار رکعت فرض نما ز کی، اگر باجماعت پڑھ رہے ہیں تو یہ بھی کہہ لیں پیچھے اس اِما م کے۔ اب تکبیرِتحریمہ یعنی ’’اللہُ اکبر‘‘ کہتے ہوئے ہاتھ نیچے لا ئیے اور ناف کے نیچے اس طرح با ندھئے کہ سیدھی ہتھیلی کی گدّی اُلٹی ہتھیلی کے سِرے پر اور بیچ کی تین انگلیاں اُلٹی کلائی کی پیٹھ پر اور انگوٹھا اور چھنگلیا(2)یعنی چھوٹی انگلی کلا ئی کے اغل بغل ہوں ۔ اب اس طرح ثنا پڑھئے :

ثناء

سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ وَ تَبَارَکَ اسْمُکَ

پاک ہے تو اے اللہ پاک اور میں تیری حمد کرتا ہوں ، تیرا نام برکت والا ہے

وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَ لَآ اِلٰہَ غَیْرُکَ 

اور تیری عظمت بُلند ہے اور تیرے سواکوئی معبود نہیں۔

پھر تعوُّذ پڑھئے :

اَ عُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم

میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتاہوں شیطان مردود سے

پھر تسمِیَہ پڑھئے:

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحمت والا

سورہ فاتحہ

پھر مکمل سورۂ فا تحہ پڑھئے:

اَلۡحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَۙ﴿۱﴾ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِۙ﴿۲﴾ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیۡنِؕ﴿۳﴾ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیۡنُؕ﴿۴﴾ اِہۡدِ نَا الصِّرٰطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَۙ﴿۵﴾ صِرٰطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ۬ۙ۬ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمْ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

ترجمہ:سب خوبیاں اللہ کو جو مالک سارے جہان والوں کا۔ بہت مہربان رحمت والا، روزِ جزا کا مالک ۔ ہم تجھی کو پوجیں اور تجھی سے مدد چاہیں۔ ہم کو سیدھا راسۃ چلا، راستہ اُن کا جن پر تو نے اِحسان کیا، نہ اُن کا جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا۔

سورۂ فاتحہ ختم کر کے آہِستہ سے ’’ اٰمین‘‘ کہئے۔ پھرتین آیات یا ایک بڑی آیت جو تین چھوٹی آیتوں کے برابر ہو یا کوئی سورت مثلاً سورۂ اخلاص پڑھئے :

سورہ اخلاص

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ ۚ﴿۱﴾ اَللہُ الصَّمَدُ ۚ﴿۲﴾ لَمْ یَلِدْ ۬ۙ وَ لَمْ یُوۡلَدْ ۙ﴿۳﴾ وَ لَمْ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ ﴿۴﴾

ترجمہ: تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اُسکی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اُس کے جوڑ کا کوئی۔

اب ’’اللہُ اَکْبَر‘‘ کہتے ہوئے رُکوع میں جا ئیے اور گھٹنوں کو اس طرح ہا تھ سے پکڑئیے کہ ہتھیلیاں گھٹنوں پر اور اُنگلیا ں اچّھی طر ح پھیلی ہوئی ہو ں ۔پیٹھ بچھی ہوئی اور سر پیٹھ کی سِیدھ میں ہو اُونچا نیچا نہ ہو اور نظر قدموں پر ہو۔ کم از کم تین بار رُکوع کی تسبیح یعنی

’’سُبْحٰنَ رَ بِّیَ الْعَظِیْم‘‘(3) یعنی پاک ہے میرا عظمت والا پروردگار

کہئے۔ پھر تسمیع (4)تَس ۔ مِیع یعنی

سَمِعَ اللہُُ لِمَنْ حَمِدَہ(5) یعنی اللہ پاک نے اُس کی سُن لی جس نے اُس کی تعریف کی

 کہتے ہوئے باِلکل سیدھے کھڑے ہو جائیے،اِس کھڑے ہونے کو’’ قومہ‘‘ کہتے ہیں۔ اگر آپ منفرِد ہیں یعنی اکیلے نماز پڑھ رہے ہیں تو اِس کے بعد کہئے:

اَ للّٰھُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْد

اے اللہ ! اے ہمارے مالک ! سب خوبیاں تیرے ہی لیے ہیں۔

سجدے

پھر’’اللہُ اکبر‘‘کہتے ہوئے اِس طر ح سجدے میں جائیے کہ پہلے گھٹنے زمین پر رکھئے پھر ہاتھ پھر دونوں ہاتھوں کے بیچ میں اِس طرح سر رکھئے کہ پہلے ناک پھر پیشانی اور یہ خاص خیال رکھئے کہ ناک کی نوک نہیں بلکہ ہڈّی لگے اور پیشانی زمین پر جم جائے، نظر ناک پر رہے، بازوؤں کو کروٹوں سے، پیٹ کو رانوں سے اور رانوں کو پِنڈلیوں سے جدا رکھئے۔

ہاں اگر صَف میں ہوں تو بازو کروٹوں سے لگائے رکھئے اور دونوں پاؤں کی دسوں اُنگلیوں کا رُخ اس طرح قبلہ کی طرف رہے کہ دسوں اُنگلیوں کے پیٹ (6)یعنی اُنگلیوں کے تلووں کے اُبھرے ہوئے حصّے زمین پر لگے رہیں۔ ہتھیلیاں بچھی رہیں اور انگلیاں ’’قبلہ رو‘‘ رہیں مگر کلائیاں زمین سے لگی ہوئی مت رکھئے ۔اور اب کم از کم تین بارسجدے کی تسبیح یعنی

’’ سُبْحٰنَ رَ بِّیَ الْاَعْلٰی‘‘(7)پاک ہے میراپروردگار سب سے بلند

پڑھئے۔ پھر سر اس طرح اٹھائیے کہ پہلے پیشانی پھر ناک پھر ہاتھ اٹھیں۔ پھر سیدھا قدم کھڑا کر کے اُس کی اُنگلیاں قِبلہ رُخ کر دیجئے اور اُلٹا قدم بچھا کر اس پرخوب سیدھے بیٹھ جائیے اور ہتھیلیاں بچھا کر رانوں پر گھٹنوں کے پاس رکھئے کہ دونوں ہا تھوں کی اُنگلیاں قِبلہ کی جانب اور اُنگلیوں کے سِرے گھٹنوں کے پاس ہوں۔

دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کوجَلْسہ کہتے ہیں۔ پھر کم از کم ایک بار سبحٰن اللہ کہنے کی مقدار ٹھہرئیے۔(اس وقفہ میں

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِی

’’ یعنی اے اللہ پاکَّ ! میری مغفرت فرما‘‘ کہہ لینا مستحب ہے) پھر’’اللہُ اَ کْبَر‘‘ کہتے ہوئے پہلے سَجدے ہی کی طرح دوسراسجدہ کیجئے۔ اب اسی طرح پہلے سراُٹھائیے پھر ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھ کر پنجوں کے بل کھڑے ہو جائیے۔ اُٹھتے وقت بغیر مجبوری زمین پر ہا تھ سے ٹیک مت لگائیے۔ یہ آپ کی ایک  رَکعَت پوری ہوئی۔ اب دوسری رکعت میں

’’بِسْمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّ حِیْم‘‘

پڑھ کرالحمد اور سورت پڑھئے اور پہلے کی طرح رکوع اور سجدے کیجئے، دوسرے سجدے سے سر اُ ٹھا نے کے بعد سیدھا قدم کھڑا کر کے ا لٹا قدم بچھا کر بیٹھ جائیے دو۲ رکعت کے دوسرے سَجدے کے بعد بیٹھنا قعدہ کہلاتا ہے اب قعدہ میں تشہد (8)تَ۔شَہْ۔ہُد پڑ ھئے:

تشہد

اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَ الصَّلَوَاتُ وَ الطَّیِّبٰتُطاَلسَّلَامُ عَلَیْکَ

تمام قَولی،فِعلی اورمالی عبادتیں اللہ پاکَّ ہی کیلئے ہیں ۔سلام ہوآپ پر

اَیُّھَا النَّبِیُّ وَ رَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَا تُہٗ ط اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی

اے نبی! اور اللہ پاکَّ کی رَحمتیں اوربَرَکتیں ۔ سلا م ہوہم پر اوراللہ کے

عِبَادِ اللہِ الصّٰلِحِیْنَ ط اَشْھَدُ اَنْ لَّا ٓاِلٰـہَ اِلَّا اللہُ

نیک بندوں پر،میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ پاکَّکے سوا کوئی معبود نہیں

وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہ ٗ 

اورمیں گواہی دیتاہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں

جب تشہد میں لفظ ’’لا‘‘ کے قریب پہنچیں تو سیدھے ہاتھ کی بیچ کی اُنگلی اوراَنگوٹھے کا حَلقہ بنالیجئے اور چھنگلیا (9)یعنی چھوٹی اُنگلیاوربِنْصَر یعنی اس کے برابر والی اُنگلی کو ہتھیلی سے ملادیجئے اور(10)اَشْھَدُ اَ لْ کے فوراً بعد لفظِ’’لا‘‘ کہتے ہی کلمے کی اُنگلی اٹھائیے مگر اس کو اِدھر اُدھر مت ہلائیے اورلفظ ’’اِلَّا‘‘ پر گرادیجئے اورفوراًسب اُنگلیاں سیدھی کر لیجئے ۔ اب اگر دو سے زِیادہ رکعتیں پڑھنی ہیں تو ’’اَللّٰہُ اَ کْبَر‘‘ کہتے ہوئے کھڑے ہوجائیے ۔

اگر فرض نماز پڑھ رہے ہیں تو تیسری اور چوتھی رکعت کے قیام میں

’’بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘

اور ’’ اَلْحَمْد‘‘ شریف پڑھئے! سورت ملانے کی ضرورت نہیں۔ باقی اَفعال اِسی طرح بجا لائیے اوراگر سنت و نفل ہوں تو’’سورۂ فاتِحَہ‘‘کے بعد سورت بھی مِلائیے (11)ہاں اگر اِما م کے پیچھے نَماز پڑھ رہے ہیں تو کسی بھی رَکعت کے قِیام میں قراء ت نہ کیجئے خاموش کھڑے رہیے پھر چار رَکعَتیں پوری کرکے قعدۂ اخیرہ میں تشہد کے بعد دُرُودِ ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام پڑھئے:

درود ابراہیم

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا

اے اللہ عزوجل! دُرود بھیج (ہمارے سردار) محمد پر اوران کی آل پر جس طرح تُونے

صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرٰھِیْمَ وَ عَلٰٓی اٰلِ اِبْرٰھِیْمَ اِ نَّکَ

دُرُود بھیجا (سیدنا) ابراہیم پر اورانکی آل پر، بے شک تو

حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ ط اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ

سَرا ہا ہوا بزرگ ہے ۔اے اللہپاک!برکت نازِل کر(ہمارے سردار) محمد پر اور

عَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰٓی اِبْرٰھِیْمَ

ان کی آل پرجس طرح تو نے بَرَکت نازِل کی (سیدنا) ابراہیم

وَ عَلٰٓی اٰلِ اِبْرٰھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ 

اورانکی آل پر، بے شک توسَراہا ہوا بزرگ ہے ۔

نماز کا اختتام

پھر کو ئی سی دُعا ئے ما ثور ہ پڑ ھئے ،مثلاً یہ دُعا پڑ ھ لیجئے :

اَللّٰھُمَّ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً

اے اللہ !اے رب ہمارے ! ہمیں دنیا میں بھلائی دے

وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ

اورہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذابِ دوزخ سے بچا۔

پھرنماز ختم کرنے کے لئے پہلے دائیں کندھے کی طرف منہ کر کے

’’اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ‘‘

کہئے اور اسی طرح بائیں طرف۔ اب نَماز ختم ہو ئی۔ یہ تھا نماز کا طریقہ جو کہ فقہ حنفی پر ہے۔ اللہ پاک ہمیں درست طریقہ پر نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

حوالہ جات[+]

اپنا تبصرہ بھیجیں