جب آخری نبیﷺ کی ولادت ہوئی تو کیا کیا معجزات ظاہر ہوئے؟

ربیع الاول

ہمارے پیارے آقا اور آخری نبی حضرت محمد ﷺ  ۱۲ربیع الاول کو صبحِ صادِق کے وقت جہاں میں تشریف لائے اور آکر بے سہاروں، غم کے ماروں، دکھیاروں اور در در کی ٹھوکریں کھانے والے بے چاروں کی شامِ غریباں کو”صبحِ بہاراں“ بنا دیا۔

میلاد النبی ﷺ پر ظاہر ہونے والے معجزات

اللہ پاک کے نور ﷺ کی دنیا میں جلوہ گری ہوتے ہی کفر و ظلمت کے بادَل چھٹ گئے، شاہ ایران ”کِسر یٰ“ کے محل پر زلزلہ آیا، چودہ کنگرے گر گئے۔ ایران کا جو آتش کَدہ ایک ہزار سال سے شعلہ زن تھا وہ بجھ گیا، دریائے ساوَہ خشک ہو گیا، کعبے کو وجد آ گیا اور بت سر کے بل گر پڑے۔

تیری آمد تھی کہ بیت اللہ مجر ے کو جھکا
تیری ہیبت تھی کہ ہر بت تھر تھرا کر گر گیا(1)حدائق بخشش ص۴۱

ہمارے پیارے آخری نبی ﷺ جہاں میں فضل اور رحمت بن کر تشریف لائے اور یقینا اللہ پاک کی رحمت کے نزول کا دن خوشی و مسرّت کا دن ہوتا ہے۔ چنانچِہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوۡا ؕ ہُوَ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوۡنَ

ترجمہ: تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اِسی پر چاہئے کہ خوشی کریں۔ وہ ان کے سب دَھن دولت سے بہتر ہے۔﴿۵۸﴾ (2)پ۱۱، یونس:۵۸

اللہ اکبر! رحمت خداوندی پر خوشی منانے کا قرآن کریم حکم دے رہا ہے اور کیا ہمارے پیارے آقا ﷺ سے بڑھ کر بھی کوئی اللہ پاک کی رحمت ہے؟ دیکھئے مقدس قرآن میں صاف صاف اِعلان ہے:

وَمَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیۡنَ

ترجمہ: اور ہم نے تمھیں نہ بھیجا مگر رَحمت سارے جہان کیلئے ۔﴿۱۰۷﴾(3)پ۱۷، الانبیاء:۱۰۷

دنیا کے سارے فضل و انعام اور رحمتیں جن کے صدقے ملیں ان کے ملنے پر عیدوں کی عید منانی چاہیے۔ یہی اھل ایمان کا وطیرہ رہا کہ وہ ہر دور میں ہی اس نعمت و رحمت کبریٰ کا شکر ادا کرتے اور خوشی کا اظہار کرتے اگرچہ زمانوں کے بدلنے سے انداز بدلے ہیں۔

اگرچہ ہمارے ہاں خوشیوں کا اظہار چونکہ چراغاں سے کیا جاتا ہے لہذا اہل ایمان اسی کو اپناتے ہیں۔ ورنہ خوشیاں تو قرن اول والوں (یعنی صحابہ کرام) نے بھی منائیں۔ جب رحمت للعالمین اور نعمت کبریٰ مدینہ میں ہدایت کا مہتاب اور ختم نبوت کا گوہر نایاب بن کر تشریف لائے۔ وہ کیا خوبصورت سماں تھا۔ جب سارا مدینہ ہی حضور کی راہیں تکتا اور حسن و جمال کو دیکھتا اور طلع البدر علینا کی صدائیں لگاتا استقبال کر رہا تھا۔

الغرض یہ کہ ہر مؤمن کو چاہیے کہ اس موقع پر خوشیوں کا اظہار کرے۔ جس طرح چاہے کرے کسی کو کھانا کھلائے، روزہ رکھے، جھنڈے لگائے، اپنے محبوب کے نغمے سنے سنائے اور زمانے کو بتائے کہ میں آج اسکی آمد کی خوشیاں منا رہا ہوں جن کا مخلوق میں ثانی نہیں جو ہدایت لے کر آئے اور ہمیں ہمارے رب اور دین کے سیدھے راستے بتائے۔

حوالہ جات[+]

اپنا تبصرہ بھیجیں