جی ہاں، فی زمانہ رات میں قربانی کرنا یعنی قربانی کے جانور کو ذبح کرنا جائز ہے۔
کیا رات میں قربانی کر سکتے ہیں؟
قربانی کا وقت 10 ذوالحجہ کی طلوع فجر سے لے کر 12 ذوالحجہ کی غروب آفتاب تک ہے۔ یعنی تین دن اور بیچ کی دو راتیں گیارہویں اور بارہویں۔ یہ سارا قربانی کا ہی وقت ہے۔
ہاں، شہر میں رہنے والوں کے لیے عید کی نماز کے بعد قربانی کرنا شرط ہے اور دیہات میں رہنے والوں کو طلوع فجر کے بعد سے ہی قربانی کرنا جائز ہے۔ تو ذو الحجہ کی گیارہویں اور بارہویں شب میں قربانی کرنا جائز ہے، کیونکہ یہ راتیں بھی قربانی کے وقت میں شامل ہیں۔
فقہاء کی رائے اور فی زمانہ حکم:
البتہ فقہائے کرام رحمۃ اللہ علیہم نے رات میں قربانی کرنے کو مکروہ تنزیہی فرمایا ہے، کیونکہ اندھیرے کی وجہ سے ذبح میں غلطی ہوسکتی ہے۔
لیکن فی زمانہ لائٹس اور روشنی کا اتنا وافر انتظام ہوسکتا ہے کہ کسی طرح کی غلطی کا بھی احتمال باقی نہیں رہتا۔ لہٰذا جہاں رات میں لائٹ اور روشنی کا انتظام ہو، تو ان لوگوں کے لیے مکروہ بھی نہیں کہا جائے گا، کہ جب علت یعنی اندھیرا ختم ہو گیا، تو کراہت کا حکم بھی باقی نہیں رہے گا۔ اور جن کے پاس روشنی کا انتظام نہ ہو وہاں رات میں قربانی کرنا، جائز تو ہے، مگر مکروہ تنزیہی یعنی خلاف اولیٰ ہے۔
فقہی حوالہ:
رات میں قربانی کرنے کے بارے میں فتح القدیر میں ہے:
یعنی ایام نحر کی راتوں کو قربانی کرنا جائز ہے، مگر اندھیرے میں غلطی کے احتمال کی وجہ سے مکروہ ہے۔ (1)
حوالہ جات
| 1↑ | فتح القدیر، کتاب الاضحیہ، جلد 9، صفحہ 568، مطبوعہ کوئٹہ |
|---|