بنی اسرائیل پر طاعون کی بیماری کا عذاب

بنی اسرائیل پر طاعون کی بیماری کا عذاب

جب ”میدان تیہ” میں بنی اسرائیل نے یہ خواہش ظاہر کی کہ ہم زمین سے اگنے والے غلے اور ترکاریاں کھائیں گے تو ان لوگوں کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سمجھایا کہ تم لوگ ”من و سلویٰ” کے نفیس کھانے کو چھوڑ کر گیہوں، دال اور ترکاریوں جیسی خسیس اور گھٹیا غذائیں کیوں طلب کررہے ہو؟

واٹس ایپ گروپ (ابھی جوائن کریں) Join Now
یوٹیوب چینل (ابھی سبکرائب کریں) Subscribe

بنی اسرائیل کی سرکشی

مگر جب بنی اسرائیل اپنی ضد پر اڑے رہے تو اللہ پاک نے حکم دیا کہ تم لوگ میدان تیہ سے نکل کر شہر بیت المقدس میں داخل ہو جاؤ اور وہاں بے روک ٹوک اپنی پسند کی اور من بھاتی غذائیں کھاؤ مگر یہ ضروری ہے کہ تم لوگ بیت المقدس کے دروازے میں کمال ادب و احترام کے ساتھ جھک کر داخل ہونا اور داخل ہوتے وقت یہ دعا مانگتے رہنا کہ یا اللہ! تو ہمارے گناہوں کو معاف فرما دے تو ہم تمہارے گناہوں کو بخش دیں گے۔

مگر بنی اسرائیل جو ہمیشہ سے سرکش اور شرارتوں کے عادی اور خدا کی نافرمانیوں کے خوگر تھے، بیت المقدس کے قریب پہنچ کر ایک دم ان لوگو ں کی رگ شرارت بھڑک اٹھی اور یہ نافرمان لوگ بجائے جھک کے داخل ہونے کے اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے دروازے میں داخل ہوئے اور حِطَّۃٌ(معافی کی دعا )کے بدلے حبۃ فی شعرۃ (ایک دانہ ہے ایک بال میں)کہتے ہوئے اور مذاق و تمسخر کرتے ہوئے بیت المقدس کے دروازے میں گھستے چلے گئے۔

طاعون کی بیماری

فرمانِ ربانی کی اس نافرمانی اور حکم الٰہی کے ساتھ تمسخر کی وجہ سے ان لوگوں پر قہر خداوندی بصورت عذاب نازل ہو گیا کہ اچانک ان لوگوں میں طاعون کی بیماری وبائی شکل میں پھیل گئی اور گھنٹہ بھر میں ستر ہزار بنی اسرائیل درد و کرب سے مچھلی کی طرح تڑپ تڑپ کر مر گئے۔ (1)

طاعون کیا ہے؟

یہ ایک مہلک وبائی بیماری ہے جس کو ڈاکٹر ”پلیگ”کہتے ہیں اس بیماری میں گردن اور بغلوں اور کنجِ ران میں آم کی گٹھلی کے برابر گلٹیاں نکل آتی ہیں۔ جن میں بے پناہ درد اور ناقابل برداشت سوزش ہوتی ہے اور شدید بخار چڑھ جاتا ہے اور آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں اور دردناک جلن سے شعلہ کی طرح جلنے لگتی ہیں اور مریض شدتِ درد اور شدید بے چینی و بے قراری میں تڑپ تڑپ کر بہت جلد مرجاتا ہے اور جس بستی میں یہ وبا پھیل جاتی ہے اس بستی کی اکثر آبادی موت کے گھاٹ اتر جاتی ہے اور ہر طرف ویرانی اور خوف و ہراس کا دور دورہ پھیل جاتا ہے۔

اللہ پاک نے بنی اسرائیل کے اس واقعہ کا ذکر فرماتے ہوئے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ:۔

وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوۡا ہٰذِہِ الْقَرْیَۃَ فَکُلُوۡا مِنْہَا حَیۡثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوۡلُوۡا حِطَّۃٌ نَّغْفِرْلَکُمْ خَطٰیٰکُمْ ؕ وَسَنَزِیۡدُ الْمُحْسِنِیۡنَ ﴿58﴾فَبَدَّلَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا قَوْلًا غَیۡرَ الَّذِیۡ قِیۡلَ لَہُمْ فَاَنۡزَلْنَا عَلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا کَانُوۡا یَفْسُقُوۡنَ ﴿٪59﴾

ترجمہ:۔ اور جب ہم نے فرمایا اس بستی میں جاؤ پھر اس میں جہاں چاہو بے روک ٹوک کھاؤ اور دروازہ میں سجدہ کرتے داخل ہو اور کہو ہمارے گناہ معاف ہوں ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور قریب ہے کہ نیکی والوں کو اور زیادہ دیں تو ظالموں نے اور بات بدل دی جو فرمائی گئی تھی اس کے سوا توہم نے آسمان سے ان پر عذاب اتارا بدلہ ان کی بے حکمی کا۔ (2)

درس ہدایت

اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ خداوند قدوس کی نافرمانی اور احکام ربانی کے ساتھ تمسخر و مذاق کرنے کا کتنا بھیانک اور کس قدر ہولناک انجام ہوتا ہے کہ آخرت کا عذاب تو اپنی جگہ برقرار ہی ہے دنیا میں قہر الٰہی بصورت عذاب نازل ہوجاتا ہے۔ جس سے لوگ ہلاک ہو کر فنا کے گھاٹ اتر جاتے ہیں اور بستیاں ویران ہو جاتی ہیں معاذ اللہ منہ۔

طاعون کی بیماری میں شہادت

”طاعون” بنی اسرائیل کے حق میں عذاب تھا مگر اس خیرالامم یعنی خاتم الانبیاء ﷺ کی امت کے حق میں یہ بیماری رحمت ہے کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ طاعون کی بیماری میں مرنے والا شہید ہوتا ہے۔ (3)

مسئلہ یہ ہے کہ جس بستی میں طاعون کی وبا پھیلی ہو وہاں جانا نہیں چاہے اور اگر اپنی بستی میں وبا آجائے تو بستی چھوڑ کر دوسری جگہ بھاگنا نہیں چاہیے بلکہ طاعون کی وبا میں اپنی بستی ہی کے اندر خدا پر توکل کر کے صبر کے ساتھ رہنا چاہے۔

اگر اس بیماری میں مر گیا تو شہید ہو گا اور طاعون کے ڈر سے بستی چھوڑ کر بھاگنے والے پر اتنا بڑا گناہ ہوتا ہے جتنا کہ جہاد کے دن میدان چھوڑ کر بھاگنے والوں پر گناہ ہوتا ہے۔ اس لئے ہرگز ہرگز بھاگنا نہیں چاہے بلکہ اس بیماری میں صبر کے ساتھ اپنی ہی بستی میں مقیم رہنا چاہے کہ اس پر خداوند تعالیٰ نے اجر و ثواب کا وعدہ فرمایا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم

5/5 - (1 vote)

حوالہ جات

حوالہ جات
1 صاوی، ج ۱، ص۳۱ و جلالین
2 پ1،البقرۃ:58۔59
3 تفسیر صاوی، ج۱،ص۶۸،پ۱،البقرۃ: ۵۹

توجہ فرمائیں! اس ویب سائیٹ میں اگر آپ کسی قسم کی غلطی پائیں تو ہمیں ضرور اطلاع فرمائیں۔ ہم آپ کے شکر گزار رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں