جس مال کے بارے میں یقینی اور قطعی طور پر معلوم ہو کہ وہ حرام ہے، ایسے مال کو مسجد کی تعمیر میں استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں۔
یقینی حرام مال مسجد کے لیے کیوں ممنوع ہے؟
حرام مال میں بالخصوص سود شامل ہوتا ہے۔ سود لینا دینا ناجائز اور گناہ کبیرہ ہے، اور اس سے حاصل شدہ مال خبیث اور ناپاک تصور کیا جاتا ہے۔
ایسا حرام مال اگر مسجد میں لگایا جائے تو یہ ثواب کا باعث نہیں بلکہ گناہ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
حرام مال سے نجات کیسے حاصل کی جائے؟
اگر کسی شخص کے پاس سود یا کسی اور حرام ذریعے سے حاصل کیا گیا مال موجود ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ:
- سودی معاملے کو بند کرے
- سچے دل سے توبہ کرے
- وہ مال بغیر ثواب کی نیت کے کسی شرعی فقیر (مستحق زکوٰۃ) کو دے دے
فقیر کا مال مسجد کو دینا
اگر فقیر چاہے تو وہ اپنی مرضی سے اس مال کو مسجد، مدرسہ یا قبرستان کی دیوار وغیرہ جیسی دینی ضرورتوں پر خرچ کر سکتا ہے۔
حرام مال کی دو اہم حالتیں
- یقینی حرام مال: جیسے سود، رشوت یا چوری کا مال — اسے مسجد میں دینا جائز نہیں۔
- غیر یقینی حرام مال: اگر صرف شک ہو، کوئی ثبوت نہ ہو تو ایسا مال مسجد میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
خلاصہ
سود اور حرام مال کو مسجد کی تعمیر میں براہ راست لگانا حرام ہے۔
ایسا مال صرف فقیر کو دے کر غیر شرعی نیت سے پاک کیا جا سکتا ہے، اور پھر فقیر چاہے تو مسجد کو دے سکتا ہے۔
لہٰذا احتیاط اور طہارت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے تاکہ مسجد جیسی مقدس جگہ پر حرام کا شائبہ بھی نہ رہے۔