عورت کا مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے جانا، جائز نہیں ہے۔ ان کے لیے حکم ہے کہ وہ اپنی قیام گاہ پرہی علیحدہ نماز پڑھیں اور اس صورت میں ان پر تکبیر تشریق پڑھنا بھی واجب نہیں۔
کیونکہ تکبیر تشریق ہر نماز فرض پنجگانہ کے بعد جو جماعت مستحبہ کے ساتھ ادا کی گئی ہو، ایک بار تکبیر بلند آواز سے کہنا واجب ہے اور تین بار افضل ہے۔ چونکہ عورتوں کا جماعت کروانا ناجائز ہے لہذا ان کے لیے تکبیر تشریق کہنا واجب نہیں ہے۔ مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے:
یعنی تکبیر تشریق کو ہر فرض نماز کے فوراً بعد ایک مرتبہ پڑھنا ضروری ہے، فرض نماز میں جمعہ بھی شامل ہے۔ البتہ نفل، وتر، نمازِ جنازہ اور نماز عید اگرچہ فرض ہیں مگر اس حکم سے خارج ہیں۔
وہ فرض نماز جماعت سے ادا کی جائے اگرچہ کہ وہ انہی ایام کی قضا نماز ہو جو کہ اسی مدت میں ادا کی جارہی ہو، یہ فرض نمازیں آٹھ ہیں۔ ” بجماعة ” کی قید سے منفرد خارج ہو گیا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایامِ تشریق میں ایک اور دو افراد پر تکبیر واجب نہیں تکبیر تو جماعت سے نماز ادا کرنے والوں پر واجب ہے۔ ” مستحبة ” کی قید سے عورتوں کی جماعت خارج ہو گئی۔ (1)
حوالہ جات
| 1↑ | حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح ، کتاب الصلاۃ، ص 539، دار الكتب العلمية، بيروت |
|---|