جان و مال کی حفاظت، پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کے لیے عموماً جو نفلی صدقہ کیا جاتا ہے اور اس میں بکرا یا کوئی اور جانور ذبح کیا جاتا ہے، تو شرعاً اس کی کوئی مقررہ عمر نہیں۔
یعنی نفلی صدقے کے طور پر کسی بھی عمر کا جانور قربان کیا جا سکتا ہے۔
البتہ عمدہ سے عمدہ جانور راہِ خدا میں صدقہ کرنا شرعاً محبوب اور پسندیدہ عمل ہے۔
صدقے کے طور پر جانور یا رقم؟
صدقے میں جانور اور رقم دونوں جائز ہیں، لیکن افضل یہ ہے کہ:
- جس چیز کی اس وقت اور اس مقام پر لوگوں کو زیادہ حاجت ہو، وہی صدقہ کی جائے۔
- اگر کسی کی جان کا صدقہ دینا ہو، تو جانور جیسے بکری، مرغی وغیرہ ذبح کرنا زیادہ نفع بخش اور مؤثر سمجھا جاتا ہے۔
صدقہ سادات کو دینا؟
نفلی صدقہ سادات کو دیا جا سکتا ہے، لیکن:
زکوٰۃ، صدقۂ فطر، نذر اور دیگر صدقاتِ واجبہ سادات کو دینا جائز نہیں۔
صدقہ کا مقصد
صدقہ کے طور پر جانور ذبح کرنے کا مقصد فقراء کو گوشت کھلانا ہوتا ہے، جس کی احادیث میں بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے۔
من اطعم اخاه حتی یشبعہ وسقاہ من الماء حتی یرویہ باعدہ ﷲ من النار سبع خنادق مابین کل خندقین مسیرۃ خمس مائۃ عامجو اپنے مسلمان بھائی کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے، پیاس بھر پانی پلائے، اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے سات کھائیاں دور کردے گا، ہر کھائی سے دوسری تک پانچ سو برس کی راہ ہے۔ (1)
مریض کی شفا کے لیے جانور ذبح کرنے کا حکم
مریض کی صحتیابی پر جانور ذبح کرنے کے بارے میں فتاویٰ شامی میں یہ وضاحت ہے:
الذبح عند وضع الجدار أو عروض مرض أو شفاء منه لا شک في حله لأن القصد منه التصدقدیوار کی بنیاد رکھنے، بیماری لاحق ہونے یا اس سے شفا پانے کے وقت جو جانور ذبح کیا جائے، اس کے حلال ہونے میں کوئی شک نہیں کیونکہ اس سے مقصود صدقہ کرنا ہوتا ہے۔ (2)
خلاصہ
- صدقے کے بکرے کی عمر شرعاً مقرر نہیں، کسی بھی عمر کا ہو سکتا ہے۔
- افضل یہ ہے کہ اچھا اور صحت مند جانور ہو۔
- صدقے میں فقراء کو فائدہ دینا اصل مقصد ہے، اور یہی اس کا ثواب ہے۔