اللّٰه تعالیٰ پاک ہے اور پاکیزگی کو پسند فرماتا ہے۔ اسلامی طہارت کے اصولوں کے مطابق کھانے پینے کی اشیاء، خاص طور پر گوشت کے معاملات میں خاص احتیاط کی تلقین کی گئی ہے۔
ذبح شدہ مرغی کو ابلے پانی میں ڈالنا
ذبح کے بعد سالم مرغی کو اکثر لوگ ابلتے ہوئے پانی میں اس نیت سے ڈالتے ہیں کہ اس کے پَر اور جلد آسانی سے اُتر جائیں۔ یہ عمل بعض شرائط کے ساتھ جائز ہے، اور بعض صورتوں میں گوشت ناپاک ہو جاتا ہے۔
1۔ جائز صورت
اگر ذبح شدہ مرغی کو صرف اس نیت سے نیم گرم یا گرم پانی میں تھوڑی دیر کے لیے ڈالا جائے کہ اس کے پَر اور کھال نرم ہو جائیں اور پانی گوشت کے اندر نہ سرایت کرے، تو یہ جائز ہے۔ لیکن بہتر ہے کہ ابلتا ہوا پانی نہ ہو بلکہ نیم گرم ہو۔
2۔ ناجائز صورت
اگر مرغی کو اتنی دیر کے لیے ابلتے ہوئے پانی میں چھوڑ دیا جائے کہ پانی گوشت کے اندرونی اجزاء میں داخل ہو جائے، تو نجاست بھی اندر سرایت کر جاتی ہے اور گوشت ناپاک ہو جاتا ہے، اور اس کو پاک کرنا ممکن نہیں رہتا۔ ایسی مرغی کا گوشت کھانا جائز نہیں۔
ناپاکی سے بچنے کی احتیاطیں
- ذبح کے بعد مرغی کی گردن سے خون اچھی طرح دھو لیا جائے۔
- پیٹ چاک کر کے اندر کی آلائش (بیٹ وغیرہ) نکال لی جائے۔
- پھر نیم گرم پانی میں تھوڑی دیر کے لیے ڈالا جائے تاکہ پَر اُتارنا آسان ہو جائے۔
پاکی کا طریقہ
اگر مرغی کو گرم پانی میں ڈالنے سے پہلے یہ احتیاط نہ کی گئی ہو، تو اس کے بعد گوشت کو تین بار اچھی طرح دھونا لازم ہے، کیونکہ خون اور آلائش ملی ہوئی ہوتی ہے۔ تین بار دھونا یا جاری پاک پانی بہانا کافی ہے، جب تک پاکی کا ظن غالب ہو جائے۔
خلاصہ
مرغی کو ابلے ہوئے پانی میں ڈالنے کا عمل جائز ہے، بشرطیکہ وہ صرف جلد اور پَر نرم کرنے کے لیے ہو، اور پانی گوشت میں سرایت نہ کرے۔ احتیاط نہ برتنے کی صورت میں گوشت ناپاک اور حرام ہو جاتا ہے، جس کا کھانا جائز نہیں۔