خانہ کعبہ مسلمانوں کا قبلہ و مرکز ہے۔ اس کی ظاہری ساخت میں چار کونوں (گوشوں) کی بڑی اہمیت ہے، جنہیں مخصوص ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ ہر کونے کی اپنی پہچان اور شرعی مقام ہے۔ ذیل میں خانہ کعبہ کے چاروں کونوں کے نام اور ان کی مختصر تفصیل بیان کی جاتی ہے:
1۔ رکنِ حجرِ اسود
یہ خانہ کعبہ کا سب سے اہم کونہ ہے جہاں حجر اسود نصب ہے۔ طواف کا آغاز اسی جگہ سے کیا جاتا ہے اور ہر طواف کا اختتام بھی اسی جگہ پر ہوتا ہے۔ حجر اسود کو بوسہ دینا یا ہاتھ سے چھونا باعثِ برکت ہے۔
2۔ رکنِ عراقی
یہ رکن، رکنِ حجرِ اسود سے کعبہ کے دروازے کی طرف جاتے ہوئے پہلا کونہ ہے، جہاں سے حِطِیم (نیم دائرہ) شروع ہوتا ہے۔ اس کو “رکنِ عراقی” اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ عراق کی سمت واقع ہے۔
3۔ رکنِ شامی
یہ کونہ رکنِ حجرِ اسود کے بالکل مقابل واقع ہے اور اس طرف سے بھی حطیم شروع ہوتا ہے۔ چونکہ یہ شام (Levant) کی جانب واقع ہے، اس لیے اسے رکنِ شامی کہا جاتا ہے۔
4۔ رکنِ یمانی
یہ رکن، رکنِ عراقی کے بالکل مقابل واقع ہے اور یہاں سے حِطِیم کا آغاز نہیں ہوتا۔ نبی کریم ﷺ رکنِ یمانی کو ہاتھ لگایا کرتے تھے اور حجر اسود تک کی درمیانی جگہ پر مخصوص دعا بھی پڑھتے تھے۔
اہم نکتہ
رکنِ حجرِ اسود اور رکنِ یمانی کے درمیان نبی کریم ﷺ کی مخصوص دعا:
اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما، اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔
خلاصہ
خانہ کعبہ کے یہ چاروں کونے دینی اور روحانی لحاظ سے بہت اہم ہیں۔ ان کے نام نہ صرف جغرافیائی سمتوں سے نسبت رکھتے ہیں بلکہ ان میں سے بعض کا ذکر احادیثِ مبارکہ میں بھی آیا ہے، جو ان کی شرعی حیثیت کو مزید واضح کرتا ہے۔