Teesri Roti kahan gayi

تیسری روٹی کہاں گئی؟

حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام کی خدمت میں ایک آدمی نے عرض کی، “یا روح اللہ! میں آپ کی صحبت بابرکت میں رہ کر خدمت کرنا اور علم شریعت حاصل کرنا چاہتا ہوں۔آپ علیہ السلام نے اس کو اجازت دے دی ۔ چلتے چلتے جب دونوں ایک نہر کے کنارے پہنچے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا،”آؤ کھانا کھا لیں۔” آپ علیہ السلام کے پاس تین روٹیاں تھیں ، جب ایک ایک روٹی دونوں کھا چکے تو حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام نہر سے پانی نوش فرمانے لگے ، اس شخص نے تیسری روٹی چھپا لی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات

جب آپ علیہ السلام پانی پی کر واپس تشریف لائے تو روٹی موجود نہ پا کر ا ستفسار فرمایا،” تیسری روٹی کہاں گئی؟” اس نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا ،مجھے نہیں معلوم ۔ آپ علیہ السلام خاموش ہو رہے۔ تھوڑی دیر بعد فرمایا ، ” آؤ آگے چلیں۔” راستہ میں ایک ہرنی ملی جس کے ساتھ دو بچے تھے، آپ علیہ السلام نے ہرنی کے ایک بچے کو اپنے پاس بلایا، وہ آ گیا، آپ علیہ السلام نے اسے ذبح کیا، بھونا اور دونوں نے مل کر کھایا۔ گوشت کھا چکنے کے بعد آپ نے ہڈیوں کوجمع کیا اور فرمایا، قم باذن اللہ [1]اللہ پاک کے حکم سے زندہ ہو کر کھڑا ہو جا ہِرنی کا بچہ زندہ ہو کر اپنی ماں کے ساتھ چلا گیا۔

آپ علیہ السلام نے اس شخص سے فرمایا، “تجھے اس اللہ پاک کی قسم جس نے مجھے یہ معجزہ دکھانے کی قدرت عطا کی۔ سچ بتا، وہ تیسری روٹی کہاں گئی؟” وہ بولا ،”مجھے نہیں معلوم۔” فرمایا،” آؤ آگے چلیں۔” چلتے چلتے ایک دریا پر پہنچے، اور بیٹھ گئے ، آپ علیہ السلام نے اس شخص کا ہاتھ پکڑا اور پانی کے اوپر چلتے ہوئے دریا کے دوسرے کنارے پہنچ گئے۔ آپ علیہ السلام نے اس شخص سے فرمایا،” تجھے اس خدا پاک کی قسم ! جس نے مجھے یہ معجزہ دکھانے کی قدرت عطا کی، سچ بتا کہ وہ تیسری روٹی کہاں گئی؟ وہ بولا،” مجھے نہیں معلوم !” آ پ علیہ السلام نے فرمایا،” آؤ آگے چلیں۔”

سونے کا ڈھیر

چلتے چلتے ایک ریگستان میں پہنچے، آپ علیہ السلام نے ریت کی ایک ڈھیری بنائی اور فرمایا ، ” اے ریت کی ڈھیری! اللہ پاک کے حکم سے سونا بن جا۔” وہ فوراً سونا بن گئی، آپ علیہ السلام نے اس کے تین حصے کئے پھر فرمایا،” یہ ایک حصہ میرا ہے اور ایک حصہ تیرا اور ایک اس کا جس نے وہ تیسری روٹی لی۔” یہ سنتے ہی وہ شخص جھٹ بول اٹھا ! یاروح اللہ ! وہ تیسری روٹی میں نے ہی لی تھی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا،” یہ سارا سونا تو ہی لے لے۔

پھر اس کو چھوڑ کر آگے تشریف لے گئے۔ یہ شخص سونا چادر میں لپیٹ کر اکیلا ہی روانہ ہوا، راستے میں اسے دو شخص ملے، انہوں نے جب دیکھا کہ اس کے پاس سونا ہے تو اس کو قتل کر دینے کے لئے تیار ہو گئے تا کہ سونا لے لیں۔ وہ شخص جان بچانے کی خاطر بولا، “تم مجھے قتل کیوں کرتے ہو! ہم اس سونے کے تین حصے کر لیتے ہیں اور ایک ایک حصہ بانٹ لیتے ہیں۔ وہ دونوں شخص اس پر راضی ہو گئے۔

وہ شخص بولا، “بہتر یہ ہے کہ ہم میں سے ایک آدمی تھوڑا سا سونا لے کر قریب کے شہر میں جائے اور کھانا خرید کر لے آئے تا کہ کھا، پی ، کر سونا تقسیم کر لیں۔ چنانچہ ان میں سے ایک آدمی شہر پہنچا ، کھانا خرید کر واپس ہونے لگا تو اس نے سوچا ، بہتر یہ ہے کہ کھانے میں زہر ملا دوں تا کہ وہ دونوں کھا کر مر جائیں اور سارا سونا میں ہی لے لوں۔

دوسرے دو کا پلان

یہ سوچ کر اس نے زہر خرید کر کھانے میں ملا دیا۔ ادھر ان دونوں نے یہ سازش کی کہ جیسے ہی وہ کھانا لیکر آئے گا ہم دونوں مل کر اس کو مار ڈالیں گے اور پھر سارا سونا آدھا آدھا بانٹ لیں گے۔ چنانچہ جب وہ شخص کھانا لیکر آیا تو دونوں اس پر پِل پڑے اور اس کوقتل کر دیا۔ اس کے بعد خوشی خوشی کھا نا کھانے کیلئے بیٹھے تو زہر نے اپنا کام کر دکھایا اور یہ دونوں بھی تڑپ تڑپ کر ٹھنڈے ہو گئے اور سونا جوں کا توں پڑا رہا۔

پھر حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام واپس لوٹے تو چند آدمی آپ علیہ السلام کے ہمراہ تھے آپ علیہ السلام نے سونے اور تینوں لاشوں کی طرف اشارہ کر کے ہمراہیوں سے فرمایا، “دیکھ لو دنیا کا یہ حال ہے پس تم کو لازِم ہے کہ اس سے بچتے رہو۔ [2] اِتحاف السادۃ المتقین ج۹ص۸۳۵

عزیز ساتھیو! دیکھا آپ نے! دولت کی محبت کیسے کیسے گل کھلاتی ، گناھوں پر اکساتی، در بدر پھراتی، لوٹ مار کرواتی حتّٰی کہ لاشیں گرواتی ہے مگر کسی کے ہاتھ نہیں آتی اور اگر آتی ہے تو بے حد ستاتی اور خوب رلاتی ہے۔ لہٰذا ہمارے اصلاف رحمہم اللہ المبین مال و دولت کے معاملے میں نہایت ہی محتاط تھے چنانچہ

مال کی مذمت میں بزرگوں کے ارشادات

حجّۃ الاسلام حضرت امام محمد غزالی علیہ رحمۃ فرماتے ہیں،

  • حضرت حسن بصری علیہ رحمۃ فرماتے ہیں، خدا کی قسم ! جو درہم[3]یعنی دولتکی عزت کرتا ہے، اللہ ربّ العزّت اسے ذلّت دیتا ہے
  • منقول ہے ، سب سے پہلے درہم و دینار بنے تو شیطان نے ان کو اٹھا کر اپنی پیشانی پر رکھا پھر ان کو چوما اور بولا ، جس نے ان سے محبت کی وہ میرا غلام ہے (العِیاذ باللہ)
  • حضرت سمیط بن عجلان علیہ رحمۃ المنّان نے فرمایا، درہم و دینار[4]مال و دولتمنافقوں کی لگامیں ہیں وہ ان کے ذرِیعے دوزخ کی طرف کھینچے جائیں گے
  • جناب حضرت یحییٰ بن معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، درہم [5]یا روپےبچّھو ہیں اگر تم اس کے زہر کا اتار نہیں جانتے تو اسے مت پکڑو کیوں کہ اگر اس نے ڈس لیا تو اس کا زہر تمہیں ہلاک کر دے گا۔عرض کی، اس کا اتار کیا ہے؟ فرمایا، حلال طریقے سے حاصل کرنا اور اس کے حقوق واجبہ ادا کرنا
  • حضرت علاء بن زِیاد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، دنیا خوب بناؤسنگھار کر کے میرے سامنے مثالی صورت میں آئی۔ میں نے کہا، میں تیرے شر سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔وہ بولی، اگر آپ مجھ سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو درہم و دینار[6]روپے پیسوںسے نفرت کیجئے کیوں کہ درہم و دینار وہ چیزیں ہیں جن کے ذرِیعہ آدمی ہر قسم کی دنیا حاصل کرتا ہے لہٰذا جو ان دونوں[7]یعنی درہم و دینار سے صبر کریگا یعنی دور رہے گا وہ دنیا سے بھی صبرکر لے گا۔

امام غزالی کا راز

مزید امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی نے عربی اشعار نقل کئے ہیں، ان کا ترجمہ ہے:۔ “میں نے تو[8]یہ رازپا لیا ہے پس تم بھی اِس کے علاوہ کچھ اور گمان مت کرو اور یہ نہ سمجھو کہ تقویٰ اس درہم کے پاس ہے۔ تو جب تم اس[9]مال پر قادر ہونے کے باوجود اسے ترک کر دو تو جان لو کہ تمہارا تقویٰ ایک مسلمان کا تقویٰ ہے۔ کسی آدمی کی قمیص پر لگے ہوئے پیوند یا پِنڈلی سے اوپر کی ہوئی شلوار یا اس کی پیشانی جس میں[10]سجدے کےنشانات ہوں، کو دیکھ کر دھوکہ نہ کھانا یہ دیکھو کہ وہ درہم[11]مال و دولتسے محبت کرتا ہے یا اس سے دور رہتا ہے۔” [12]احیاء العلوم ج۳ص۲۸۸

ثواب کی نیت سے شیئر کرتے جائیں۔۔
Share on Facebook
Facebook
Tweet about this on Twitter
Twitter
Share on Reddit
Reddit
Share on LinkedIn
Linkedin
Buffer this page
Buffer
Digg this
Digg
Share on Tumblr
Tumblr
Share on Yummly
Yummly
Share on VK
VK
Email this to someone
email

حوالہ جات   [ + ]

اپنا تبصرہ بھیجیں