Taraweeh تراویح

تراویح کی جماعت دوبارہ کس نے قائم کی؟ اور اسکی کی اہمیت و فضیلت

اس مہینے کی خصوصی عبادت ” نماز تراویح “ ہے۔ نماز تراویح کا اہتمام نبی اکرم ﷺ کے مبارک دور سے ہی چلا آ رہا ہے۔ خود رسول کریم ﷺ نے تین راتیں تَراویح کی جماعت کرائی ، پھر امّت پر شفقت فرماتے ہوئے تَراویح کی جماعت تَرک فرما دی کہ کہیں امّت پر تَراویح فرض نہ کر دی جائے۔
(بخاری ، كتاب صلا ة التراويح ، باب فضل ما قام رمضان ، ۱ / ۶۵۹ ، حديث : ۲۰۱۲ ملخصاً دار الکتب العلمیة بيروت)

تراویح کی اہمیت و فضیلت

نماز تَراویح پر خلفائے راشدین کی مداومت:
حضرت علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی فرماتے ہیں : اس پر خلفائے راشدین رضی اللہ تعالٰی عنہم نے مداومت ( یعنی ہمیشگی ) فرمائی اور نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ”میری سنّت اور سنّت خلفائے راشدین کو اپنے اوپر لازِم سمجھو۔ “ (ترمذی ، کتاب العلم ، باب ما جاء فی الأخذ بالسنة…الخ ، ۴ / ۳۰۸ ، حدیث : ۲۶۸۵ دار الفكر بيروت)
اور خود حضور ﷺ نے بھی تَراویح پڑھی اور اسے بہت پسند فرمایا ۔(بہار شریعت ، ۱ / ۶۸۸ ، حصہ : ۴ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)

فاروق اعظم نے دوبارہ تراویح کی جماعت قائم فرمائی

حضرت سیدنا عبدالرحمٰن بن عبدالقاری رضی اللہ تَعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں رمَضان المبارک میں امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تَعالٰی عنہ کے ساتھ مسجد میں آیا تو لوگ وہاں مختلف انداز میں نماز تَراویح ادا کر رہے تھے۔ کوئی اپنی نماز پڑھ رہا تھا اور کسی نے جماعت قائم کی ہوئی تھی۔ یہ دیکھ کر آپ رضی اللہ تَعالٰی عنہ نے فرمایا :

’’اِنِّيْ اَرٰى لَوْ جَمَعْتُ ہٰۤؤُلَآءِ عَلٰى قَارِئٍ وَّاحِدٍ لَكَانَ اَمْثَلَ

یعنی میرا خیال ہے اگر میں ان سب کو ایک ہی امام کے پیچھے جمع کر دوں تو بہت اچھا رہے گا ۔ ‘‘

چنانچہ آپ رضی اللہ تَعالٰی عنہ نے قاریٔ قراٰن حضرت سیدنا اُبَی بن کعب رضی اللہ تَعالٰی عنہ کو امام مقرر فرما کرتمام لوگوں کو ان کی اقتداء میں نماز پڑھنے کا حکم دے دیا۔ پھر ایک رات میں امیرالمومنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تَعالٰی عنہ کے ساتھ مسجد میں جانے کے لیے نکلا مسجد پہنچنے پر دیکھا کہ سب لوگ ایک ہی امام کے ساتھ نماز میں مشغول ہیں۔ یہ مَنظر دیکھ کرآپ رضی اللہ تَعالٰی عنہ بہت خوش ہوئے اور ارشاد فرمایا :

نِعْمَ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہٖ

یعنی یہ نیا طریقہ کتنا اچھا ہے ۔
( بخاری ، کتاب صلاة التراویح ، باب فضل من قام رمضان ، ۱ / ۶۵۸ ، حدیث : ۲۰۱۰ )  

تراویح کی جماعت ایک اچھا فعل ہے

حضرت سیدنا اُبَی بن کعب رضی اللہ تَعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تَعالٰی عنہ نے انہیں رمضان المبارک میں تَراویح کی جماعت قائم کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :

’’اِنَّ النَّاسَ يَصُوْمُوْنَ النَّهَارَ وَلَا يُحْسِنُوْنَ اَنْ يَّقْرَاُوْا فَلَوْ قَرَاْتَ عَلَيْهِمْ بِاللَّيْلِ

یعنی لوگ دن کو روزہ تو اچھی طرح رکھ لیتے ہیں لیکن رات کو تَراویح میں قراٰن اَحسن اَنداز میں نہیں پڑھ پاتے کیا ہی اچھا ہو کہ تَراویح کی جماعت قائم کرکے تم اِن کو قراٰن سناؤ۔ ‘‘

حضرت سیدنا اُبَی بن کعب رضی اللہ تَعالٰی عنہ نے عرض کی :

’’يَا اَمِيْرَ الْمُؤمِنِيْنَ هٰذَا شَىْءٌ لَّمْ يَكُنْ

یعنی اے امیر المؤمنین! یہ چیز پہلے تو نہیں تھی ۔‘‘

فاروق اعظم رضی اللہ تَعالٰی عنہ نے جواباً ارشاد فرمایا :

’’قَدْ عَلِمْتُ وَلٰكِنَّهُ حَسَنٌ

یعنی مجھے معلوم ہے کہ تَراویح کی جماعت پہلے نہیں تھی لیکن یہ ایک اچھا فعل ہے۔‘‘

فَصَلّٰی بِھِمْ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً

پس حضرت سیدنا اُبی بن کعب رضی اللہ تَعالٰی عنہ نے لوگوں کو 20 رکعت تَراویح پڑھائی۔
( کنز العمال ، کتاب الصلاة ، صلاة التراویح ، الجزء : ۸ ، ۴ / ۱۹۲ ، حدیث : ۲۳۴۶۶ دار الکتب العلمیة بيروت)

اپنا تبصرہ بھیجیں