طعنہ زنی کرنا یعنی دوسروں کو طعنہ مارنا کیسا ہے؟

Tana Marna

طعنہ زنی کرکے دوسروں کا جگر چھلنی کرنا بھی بعض لوگوں کا وطیرہ ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے :

وَلَا تَلْمِزُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ ترجمۂ کنزالایمان : اورآپس میں طعنہ نہ کرو۔”(پ ۲۶،الحجرات:۱۱ )

جبکہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مکی مدنی سلطان صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے بھائی کو کسی گناہ پر عار دلائی مرے گا نہیں جب تک اس گناہ میں مبتلا نہ ہو۔”ایک روایت میں ہے کہ ” اس گناہ پر عار دلائی جس سے توبہ کرچکا ۔”
(سنن الترمذی ، کتاب صفۃ القیامۃ ، رقم الحدیث ۲۵۱۳،ج۴،ص۲۲۷)

طعنہ باری کر کے عار نہ دلاؤ

اورحضرت واثِلۃ بن اَسقع سے مروی ہے کہ حضورپرنورا نے فرمایا: ”اپنے بھائی کو عار نہ دلاؤ کہ اسے چھٹکارا دیکر تمہیں مبتلا کردیا جائے ۔”
(سنن الترمذی ، کتاب صفۃ القیامۃ ، رقم الحدیث ۲۵۱۴،ج۴،ص۲۲۷)
اللہ تعالیٰ ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم

اپنا تبصرہ بھیجیں