ایک ساتھ تین طلاق دینا اور عورت کا بلاوجہ طلاق مانگنا

ایک ساتھ تین طلاق دینا اور عورت کا بلاوجہ طلاق مانگنا

حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رحمتِ کونین صلی اللہ عليہ وسلم کو خبر دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں اکٹھی دی ہیں۔ یہ سنتے ہی حضور ا غضب ناک ہو کر کھڑے ہو گئے پھر فرمایا :” اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ کھیل کیا جاتا ہے حالانکہ میں تمہارے اندر موجود ہوں۔ ”
(نسائی،کتاب الطلاق،ج۳،ص۱۴۲ )
اس سے معلوم ہواکہ یکبارگی تین طلاقیں دینی حرام ہیں۔ مرقاۃ میں اسی حدیث کے تحت ہے۔ الحدیث یدل علی ان التطلیق بالثلث حرام لانہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لا یصیر غضبان الا بمعصیۃ الخ یعنی یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ تین طلاقیں (ایک ساتھ )دینا حرام ہے کیونکہ سرورِ عالم صلی اللہ عليہ وسلم گناہ کے کام پر ہی ناراضگی کا اظہار فرماتے تھے ۔
(انوار الحدیث ص۲۶۳)

عورت کا بلاوجہ طلاق مانگنا

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرورِ عالم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ” جو عورت بلاضرورتِ شرعی شوہر سے طلاق مانگے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔”
(ابوداؤد ، کتاب الطلاق ، باب فی الخلع ، رقم ۲۲۲۶ج۲،ص۳۹۰)
اللہ تعالیٰ ہماری مسلمان بہنوں کو اس حوالے سے اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ عليہ وسلم

اپنا تبصرہ بھیجیں