ساس بہو کے جھگڑے کا حل

ساس بہو کے جھگڑے کا حل

بعض اوقات گھر میں موجود خواتین جیسے والدہ، بہن اور بیوی کے دَرمیان کسی بات پرنوک جھونک ہوجاتی ہے اس پر خوب غور و فکر کرنے کے بعد ایک فریق کی طرف سے زیادہ غَلَطی معلوم ہوتی ہے جبکہ دوسری طرف کوئی خاص قصور نہیں ہوتا تو شوہر کبھی اپنی والدہ کی طرف داری کرتا ہے اور کبھی بیوی یا بہن کی، ایسے میں شوہر کے لیے یہ واقعی نازک مُعاملہ ہے، اِس میں عَدل و اِنصاف سے کام لینا بہت ضَروری ہے لیکن ایک فَریق کے حق میں فیصلہ کر کے دوسرے فَریق پر سختی بھی نہ کی جائے کہ اگر والدہ کی غَلَطی ہے تو ان پر سخت کلامی شروع کر دی تو یہ اِنتہائی غَلَط رویہ ہو گا۔

ساس بہو کی آپس میں نوک جھونک تو ہوتی ہی رہتی ہے اگر ان میں سے ایک بھی صبر کر لے تو بات طول ہی نہ پکڑے۔ مگر صبر کرنا کسے آتا ہے صِرف مُنہ سے بول دیا جاتا ہے کہ میں نے صبر کیا ہے۔ اگر واقعی لوگوں میں صبر کرنے کی عادت پیدا ہو جائے تو نہ گھروں میں جھگڑے ہوں نہ دوستوں میں اور نہ ہی وطنِ عزیز میں لڑائی جھگڑے کی فضا قائم ہو۔

لڑائی جھگڑے کی اصل وجہ بے صبری ہے

ذاتی جھگڑوں کی اصل وجہ ہی بے صبری ہے۔ اگر کسی نے گالی دی یا کسی قسم کی دھمکی دی یا کچھ ظلم کردیا تو سامنے والا خاموش رہ کر اِس پر صبر کر کے اس کے نتیجے میں ملنے والے اَجر پر نظر رکھے گا تو قیامت کے دِن مَظلوم ہوگا اور اس دِن مَظلوم کے ہاتھ میں ظالِم کا گریبان ہو گا بلکہ”اس ظالم کی نیکیاں بھی اس مظلوم کو دی جائیں گی۔ “(1)معجم کبیر، رافع بن اسحاق بن طلحة…الخ، ۴ / ۱۴۸، حدیث : ۳۹۶۹ ماخوذاً دار احیاء التراث العربی بیروت اگر یہ مَظلوم ان فَوائد پر نظر رکھ کر صبر کرلے تو جھگڑے ختم ہو جائیں گے۔

بہو میکے میں کسی قسم کی شِکایت نہ کرے

اِسی طرح ساس بہو کے دَرمیان بھی جب کسی بات پر جھگڑا ہو جائے اور ان میں سے کسی ایک کا بالکل قصور نہ ہو یا معمولی سی کوئی غَلَطی ہو تو اسے صبر کرنا چاہیے، جیسے ساس بہو کی لڑائی میں ساس قصور وار ہے اور بہو کا قصور کم ہے یا بالکل نہیں ہے تو بہو کو چاہیے خاموشی اِختیار کرے اور سارا غصہ پی جائے، نہ اپنے شوہر سے اس کا تذکرہ کرے نہ کسی دوسرے کے سامنے کوئی بات کرے۔

میکے میں تو خواب میں بھی کوئی بات ذِکر نہ کرے کہ اصل جھگڑا ہی یہاں سے شروع ہوتا ہے جب عورت اپنے میکے میں ان باتوں کا ذِکر کرتی، اپنی ماں بہنوں کے سامنے خوب بھڑاس نکالتی ہےاور وہ جَذبات میں آکر اس کو مزید بھڑکاتی ہیں کہ ”تیرے منہ میں مونگ بھرے تھے، تونے اس چڑیل کو جواب کیوں نہیں دیا؟، سُن کر آ گئی اب ہم سے کبھی شکایت نہ کرنا۔“

بہرحال اس طرح مائیں بہنیں اس کو غَلَط رویہ اپنانے پر خوب اُکساتی ہیں۔ اگر وہ آ کر بتائے کہ میں نے یوں جواب دیا تو وہ اس کو مزید شاباش دیتی ہیں جس کے نتیجے میں خود اپنی بہن یا بیٹی کا گھر اُجاڑ دیتی ہیں۔ البتہ میں ایسے خاندانوں کو بھی جانتا ہوں جو اپنی بچیوں سے یہ کہہ دیتے ہیں:”تونے ہم سے کسی قسم کی شکایت نہیں کرنی، تجھے جب بھی ہمارے گھر آنا ہو تیرے لیے دَروازے کھلے ہیں لیکن جس دِن لڑ کر آئی تو ہمارا دَروازہ تیرے لیے بند ہے۔“ اِس طرح گھر ٹوٹنے سے بچ جاتے ہیں لیکن بعض نادان گھرانوں میں بچیوں کو کہا جاتا ہے ہمارے ہی گھر بیٹھی رہے ہمارے پاس روٹی بہت ہے اور یوں اس کا گھر ٹوٹ جاتا ہے۔

ساس بہو کے جھگڑے کا حَل

بہرحال ساس بہو کی لڑائی میں بعض اوقات بہو تیز ہوتی اور ساس بے چاری بوڑھی اور بیمار ہوتی پھر یہ بہو اپنے شوہر سے مِل کر اس بوڑھی ساس کو تنگ کرتی ہے۔ کہیں ساس تیز اور پاور فل ہوتی ہےجو بہو کے ناک میں دَم کر دیتی ہے نیز کبھی نندوں کامسئلہ بھی ہوتا ہے کہ نند بھاوج کی بھی آپس میں کم ہی بنتی ہے اور اِن وُجُوہات کی بِنا پر جھگڑے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایسے موقع پر اگر بہو یہ سوچ لے کہ میری ساس میری ماں کی جگہ ہے، میری ماں بھی مجھے ڈانٹتی اور بُرا بھلا کہتی تھی اِس کے باوجود میں ان سے لڑائی نہیں کرتی تھی لہٰذا اپنی ساس سے بھی لڑائی نہیں کروں گی۔ اگر یہ ذہن بن جائے گا تو اُمید ہے بہو کی طرف سے کبھی جھگڑا نہیں ہو گا۔

یوں ہی اگر بہو ساس کو بُرا بھلا کہتی ہے تو ساس اپنا یہ ذہن بنائے کہ میری سگی بیٹی بھی تو مجھے نہیں چھوڑتی، وہ بھی مجھے اُلٹا سیدھا جواب دے دیتی ہے اِس کے باوجود میں نہ تو اس کو ڈانٹتی ہوں اور نہ اس سے نفرت کرتی ہوں بلکہ اس کے لیے میر ا پیار بدستور قائم رہتا ہے۔ اب میری بہو اپنا سارا خاندان چھوڑ کر اکیلی ہمارے خاندان میں آ گئی ہے اس کے ساتھ بھی محبت بھرا سلوک کرنا چاہیے کہ یہ ہماری ہمدردی کی زیادہ حقدار ہے، اگر اس کے ساتھ یہاں ہمدردی نہ کی گئی تو یہ وقت کیسے گزارے گی۔  

مسلمان پر اچھا گمان رکھنا واجب ہے

مومن کے فعل یا بات میں اچھا گمان کرنا واجب ہے، یعنی اس کے قول و فعل کو حتَّی الامکان حُسنِ ظَن پر مَحمول کرنا واجب ہے۔ (2)فتاویٰ رضویہ ، ۵ / ۳۲۴ ماخوذاً لیکن ہمارے یہاں معاملہ بالکل اُلٹ ہے اگر بہو مصلے پر بیٹھ کر دُرُود شریف یا تسبیحات وغیرہ پڑھتی ہو تو ساس کہتی ہے: ”یہ ہم لوگوں پر پڑھ پڑھ کر پھونکتی ہے، دیکھو مصلے سے ہٹتی ہی نہیں ہے، میری بیٹی بیمار ہو گئی ہے، یہ جادو کر رہی ہے، جب سے یہ چڑیل آئی ہے ہمارے گھر میں مَسائل کھڑے ہو گئے ہیں، نماز میں سجدے میں جاکر ہم کو بد دعائیں دیتی ہے اور اگر اس بے چاری نے ان کو دیکھ لیا یا ان کی طرف دیکھ کر سانس لے لیا تو بولتی ہیں ہم پر دَم کررہی ہے۔ “

جبکہ سارے مَسائل کی جڑ یہ لوگ خود ہوتے ہیں مگر یہ لوگ اس طرح کے تَوہمات میں مبتلا ہوکر بدگمانیاں کرتے ہیں حالانکہ بدگمانی گناہ، حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ اس کے باوجود کم علمی کی وجہ سے اکثریت اس میں مبتلا ہے اور گھر گھر میں جنگ چھڑی ہوئی ہے۔

حوالہ جات   [ + ]

اپنا تبصرہ بھیجیں