سانپ نُما جِنّ

سانپ نُما جِنّ ( Like a Snake )

ولیوں  کے سردار،شَہنشاہِ بغداد، سرکارغو ثُ الاعظم ( Ghous Pak ) عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم اپنے مدرَسے (مَد۔رَ۔سے)کے اند ر اجتماع میں بیان فرمارہے تھے کہ چھت پر سے ایک سانپ ( Like a Snake ) آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پرگرا۔ سامِعین میں بھگدڑمچ گئی،ہر طر ف خوف وہِراس پھیل گیامگر سرکا رِ بغداد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاداپنی جگہ سے نہ ہلے۔سانپ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے کپڑوں  میں گھس گیااور تمام جسمِ مبارَک سے لپٹتاہو اگِرِیبان شریف سے باہَر نکلا اور گر دن مبارَک پرلپٹ گیا۔ مگر قربان جایئے!.میرے مرشد شَہَنشاہِ بغداد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد پرکہ ذرّہ برابر نہ گھبرائے نہ ہی بیان بند کیا۔ اب سانپ زمین پر آگیا اوردُم پر کھڑا ہوگیا اور کچھ کہہ کر چلاگیا ۔ لوگ جمع ہوگئے اور عرض کرنے لگے: حضور ! سانپ نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کیا بات کی ؟ ارشاد فرمایا: سانپ نے کہا: ’’میں نے بَہُت سارے اولیاءُ اللہ رَحِمَہُمُ اللہِ تَعَالٰی کو آزمایا مگر آپ جیسا کسی کو نہیں پایا۔‘‘ (مُلَخَّص ازبَہجۃُ الاسرارلِلشَّطْنُوفی ص۱۶۸)
واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا

{۲} بڑی بڑی آنکھوں والا آدمی

اِسی سانپ نُماجِنّ کی دوسری خوفناک حکایت سنئے اور غو ثِ پاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی استقامت پر عقیدت سے سردُھنئے چُنانچِہ حُضُورشَہَنشاہِ بغداد سرکارِ غوث ِپاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ایک بار میں جامِعِ مَنصور میں مصرو فِ نَماز تھا کہ وُہی سانپ آگیا اور اُس نے میرے سَجدے کی جگہ پر سر رکھ کرمُنہ کھول دیا! میں نے اُسے ہٹاکر سَجدہ کیا، مگر وہ میری گردن سے لپٹ گیا پھر وہ میری ایک آستین میں گھس کردو سری آستین سے نکلا ، نَماز مکمَّل کرنے کے بعد جب میں نے سلام پھیراتو وہ غائب ہوگیا۔ دوسرے رو ز جب میں پھر اُسی مسجِد میں داخِل ہوا تو مجھے ایک بڑی بڑی آنکھوں والا آدَمی نظر آیا میں نے اُسے دیکھ کر اندازہ لگالیا کہ یہ شخص انسان نہیں بلکہ کوئی جِنّ ہے ، وہ جِنّ مجھ سے کہنے لگا کہ میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو تنگ کرنے والا وُہی سانپ ہوں ، میں نے سانپ کے رُوپ میں بَہُت سارے اولیاءُ اللہ رَحِمَہُمُ اللہِ تَعَالٰی کو آزمایا ہے مگر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جیسا کسی کو بھی ثابت قدم نہیں پایا ، پھر وہ جِنّآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دستِ حق پَرَست پر تائب ہوگیا ۔
(بَہجۃُ الاسرار ص۱۶۹دارالکتب العلمیۃ بیروت)
ہوئے دیکھ کر تجھ کو کافر مسلماں
بنے سنگدل موم ساں غوث اعظم

اپنا تبصرہ بھیجیں