روزہ کا بیان

روزہ کی فرضیت اور اسکی نیت کے متعلق چند مسائل کا بیان

نماز کی طرح روزہ بھی فرض عین ہے اس کی فرضیت کا انکار کرنے والا کافر اور بلا عذر چھوڑنے والا سخت گناہگار اور عذاب جہنم کا سزاوار ہے۔ ۔شریعت میں روزہ کے معنی ہیں اﷲ تعالیٰ کی عبادت کی نیت سے صبح صادق سے لے کر سورج ڈوبنے تک کھانے پینے اور جماع سے اپنے کو روکے رکھنا۔ (1)الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الاول فی تعریفہ۔۔۔الخ،ج۱،ص۱۹۴

رمضان کے ادا روزے اور نذر معین اور نفل و سنت و مستحب روزے اور مکروہ روزے ان روزوں کی نیت کا وقت سورج ڈوبنے سے لے کر ضحوہ کبریٰ(2)دوپہر سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ پہلے تک ہے اس درمیان میں جب بھی روزہ کی نیت کرے یہ روزے ہو جائیں گے لیکن رات ہی میں نیت کر لینا بہتر ہے کے چھ روزوں کے علا وہ جتنے روزے ہیں مثلاً رمضان کی قضا کا روزہ’ نذر معین کی قضا کا روزہ’ کفارہ کا روزہ’ حج میں کسی جرم کرنے کا روزہ وغیرہ ان سب روزوں کی نیت کا وقت غروب آفتاب سے لے کر صبح صادق طلوع ہونے تک ہے اس کے بعد نہیں۔ (3)الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الاول فی تعریفہ۔۔۔الخ،ج۱،ص۱۹۵

روزہ میں نیت سے مراد؟

جس طرح اور عبادتوں میں بتایا گیا ہے کہ نیت دل کے ارادہ کا نام ہے زبان سے کہنا کچھ ضروری نہیں اسی طرح روزہ میں بھی نیت سے مراد دل کا پختہ ارادہ ہے لیکن زبان سے بھی کہہ لینا اچھا ہے اگر رات میں نیت کرے تو یوں کہے کہ

نَوَیَتُ اَنْ اَصُوْ مَ غَدًا لِلّٰہِ تَعَالٰی مِنْ فَرَضِ رَمَضَانَ
اور اگر دن میں نیت کرے تو یوں کہے کہ

نَوَیْتُ اَنْ اَصُوْمَ ھٰذَاالْیَوْمَ مِنْ فَرَضِ رَمَضَانَ ؕ(4)الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الاول فی تعریفہ…الخ،ج۱،ص۱۹۵

قضائے رمضان وغیرہ جن روزوں میں رات سے نیت کر لینی ضروری ہے ان روزوں میں خاص اس روزہ کی نیت بھی ضروری ہے جو روزہ رکھا جائے مثلاً یوں نیت کرے کہ کل میں اپنے پہلے رمضان کے روزے کی قضا رکھوں گا یا میں نے جو ایک دن روزہ رکھنے کی منت مانی تھی کل میں وہ روزہ رکھوں گا۔(5)الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الاول فی تعریفہ…الخ،ج۱،ص۱۹۶

عید و بقرعید اور ذوالحجہ کی گیارہ’ بارہ’ تیرہ تاریخ ان پانچ دنوں میں روزہ رکھنا مکروہ تحریمی ہے اور گناہ ہے۔(6)الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الثالث فیما یکرہ للصائم،ج۱،ص۲۰۱ کسی کام کی منت مانی تو کام پورا ہو جانے پر اس روزہ کو رکھنا واجب ہو گیا۔(7)الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب السادس فی النذر،ج۱،ص۲۰۹ اگر نفل کا روزہ رکھ کر اس کو توڑ دیا تو اب اس کی قضا واجب ہے۔(8)الدرالمختار مع ردالمحتار،کتاب الصوم،ج۳،ص۴۷۸ عورت کو نفل کا روزہ بلا شوہر کی اجازت کے رکھنا منع ہے۔(9)الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الثالث فیما یکرہ للصیام وما لایکرہ،ج۱،ص۲۰۱

حوالہ جات   [ + ]

اپنا تبصرہ بھیجیں