کیا روزہ سے آدمی بیمار ہوجاتا ہے؟

کیا روزہ سے آدمی بیمار ہوجاتا ہے؟ چند تحقیقات

بعض لوگوں میں یہ تأثرپایا جاتا ہے کہ روزہ رکھنے سے انسان کمزور ہو کر بیمار پڑجاتا ہے۔ حالانکہ ایسانہیں ۔ حضور ﷺ کا ارشاد پاک بھی تَو ہے:

صُوْ مُوْ ا تَصِحُّوا
یعنی روزہ رکھو صحتیاب ہو جاؤ گے۔“
( درمنثور ج۱ص۴۴۰)

روزے سے صحت ملتی ہے

امیرالمؤمنین حضرت مولائے کائنات علی المرتضیٰ شیر خدا کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے مروی ہے، اللہ عزوجل کے پیارے رسول ﷺ کا فرمان صحت نشان ہے:

”بے شک اللہ عزوجل نے بنی اسرائیل کے ایک نبی علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ آپ اپنی قوم کو خبر دیجئے کہ جو بھی بندہ میری رِضاکیلئے ایک دن کا روزہ رکھتا ہے تو میں اس کےجسم کو صحت بھی عطا فرماتا ہوں اور اسکو عظیم اجر بھی دونگا۔“
(شعب الایمان ج۳ ص۴۱۲حدیث۳۹۲۳)

معدے کا ورم

الحمد للّٰہ عزوجل احادیث مبارکہ سے مستفاد (مس۔ ت۔ فاد) ہوا کہ روزہ اجر و ثواب کے ساتھ ساتھ حصول صحت کا بھی ذریعہ ہے۔ اب تو سائنسدان بھی اپنی تحقیقات میں اس حقیقت کو تسلیم کرنے لگے ہیں۔

جیسا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کا پروفیسرمورپالڈ MOORE PALID) ( کہتا ہے ، ”میں اسلامی علوم پڑھ رہا تھا جب روزوں کے بارے میں پڑھا تو اچھل پڑا کہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کوکیسا عظیم الشان نسخہ دیا ہے! مجھے بھی شوق ہوا، لہٰذا میں نے مسلمانوں کی طرز پر روزے رکھنے شروع کردئیے۔ عرصہ دراز سے میرے معدے پرورم تھا ۔کچھ ہی دنوں کے بعد مجھے تکلیف میں کمی محسوس ہوئی میں روزے رکھتا رہا یہاں تک کہ ایک مہینے میں میرا مرض بالکل ختم ہوگیا!“

حیرت انگیز انکشافات

ہالینڈ کا پادری ایلف گال (ALF GAAL) کہتا ہے،میں نے شوگر، دل اور معدے کے مریضوں کو مسلسل 30 دن روزے رکھوائے، نَتیجتاً شوگر والوں کی شوگر کنڑول ہوگئی، دل کے مریضوں کی گھبراہٹ اور سانس کا پھولنا کم ہوا اور معدے کے مریضوں کو سب سے زیادہ فائدہ ہوا۔

ایک انگریز ماہر نفسیات سگمنڈ فرائیڈ (SIGMEND FRIDE) کا بیان ہے، روزے سے جسمانی کھچاؤ،ذہنی ڈپریشن اورنفسیاتی امراض کا خاتمہ ہوتا ہے۔

ڈاکٹروں کی تحقیقاتی ٹیم

ایک اخباری رپورٹ کے مطابق جرمنی،انگلینڈ اور امریکہ کے ماہر ڈاکٹروں کی تحقیقاتی ٹیم رمضان المبارَک میں پاکستان آئی اور انہوں نے کراچی، لاہور اور فیصل آباد کا انتخاب کیا۔

جائزہ (SURVEY) کے بعد اُنہوں نے یہ رپورٹ پیش کی، چونکہ مسلمان نَماز پڑھتے اور رمضان المبارک میں اس کی زیادہ پابندی کرتے ہیں اسلئے وضو کرنے سے E.N.T.یعنی ناک، کان، اور گلے کے امراض میں کمی واقع ہوجاتی ہے، نیز مسلمان روزے کے باعث کم کھاتے ہیں لہٰذا معدے جگر، دل اور اعصاب (یعنی پٹّھوں) کے امراض میں کم مبتلا ہوتے ہیں۔ “

خوب ڈٹ کر کھانے سے بیماریاں پیدا ہوتی ہیں

پیارے بھائیو! فی نفسہٖ روزہ سے کوئی بیمار نہیں ہوتا بلکہ سحری و افطاری میں بے احتیاطیوں اوربد پرہیزیوں کے سبب نیزدونوں وقت خوب مرغن(یعنی تیل، گھی والی ) غذاؤں کے استعمال اور رات بھر وقتاً فوقتاً کھاتے پیتے رہنے سے روزہ دار بیمار ہوجاتا ہے۔

لہٰذا سحَری اور افطاری کے وَقت کھانے پینے میں احتیاط برتنی چاہئے۔ رات کے دوران پیٹ میں غذا کا اتنا زیادہ بھی ذخیرہ نہ کرلیا جائے کہ دن بھر ڈکاریں آتی رہیں اور روزے میں بھوک و پیاس کا احساس ہی نہ رہے۔ کیونکہ اگر بھوک وپیاس کا احساس ہی نہ رہا تو پھر روزے کا لطف ہی کیا ہے؟ روزہ کا تو مزا ہی اس بات میں ہے کہ سخت گرمی ہو، شدت پیاس سے لب سوکھ گئے ہوں اور بھوک سے خوب نڈھال ہوچکے ہوں۔ اور بندہ ہر وقت اپنے رب کی رضا کا منتظر رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں